• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ میں پہلی بار گوگل میپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں

Updated: October 08, 2026, 5:01 PM IST | London

برطانیہ میں بڑھتی ہوئی توانائی اور ایندھن کی قیمتوں کے درمیان ڈرائیوروں کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ گوگل میپس پر پہلی بار قریبی پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کی تازہ ترین قیمتیں دکھائی جانے لگی ہیں۔

Google Map.Photo:INN
گوگل میپ۔ تصویر:آئی این این

برطانیہ میں بڑھتی ہوئی توانائی اور ایندھن کی قیمتوں کے درمیان ڈرائیوروں کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ گوگل میپس پر پہلی بار قریبی پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کی تازہ ترین قیمتیں دکھائی جانے لگی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو سفر سے پہلے مختلف پیٹرول اسٹیشنوں کی قیمتوں کا موازنہ کرنے اور نسبتاً سستا ایندھن خریدنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق، نئی سہولت ۸ ؍اکتوبر سے دستیاب ہوئی ہے اور اس کے ذریعے گاڑی رکھنے والے گھرانے سالانہ اوسطاً تقریباً  ۴۰ ؍پاؤنڈ  تک بچت کر سکتے ہیں۔
اس نئی سہولت میں  حکومت کے ’فیول فائنڈر‘ نظام  سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جب صارف گوگل میپس پر قریبی پیٹرول اسٹیشن تلاش کرے گا تو نقشے پر متعلقہ اسٹیشن کے ساتھ ایندھن کی قیمت بھی نظر آئے گی۔ صارف پیٹرول اور ڈیزل سمیت دستیاب مختلف اقسام کے ایندھن کی قیمتیں دیکھ کر اپنی ضرورت اور بجٹ کے مطابق بہتر انتخاب کرسکے گا۔ گوگل کے مطابق یہ معلومات تقریباً حقیقی وقت کے قریب تازہ کی جاتی ہیں، جس سے ڈرائیوروں کو قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ باخبر رہنے میں مدد ملے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں ایندھن کی قیمتوں پر عالمی توانائی بحران اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات نمایاں ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈیزل کی قیمت پہلی مرتبہ  ۲؍ پاؤنڈ فی لیٹر  کی سطح سے بھی اوپر پہنچ گئی، جبکہ پیٹرول کی قیمت بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔ بڑھتی قیمتوں نے عام شہریوں، کاروباری اداروں اور روزانہ گاڑی استعمال کرنے والے افراد کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔

رجنی کانت کی’’جیلر ۲‘‘ کی پری ریلیز تقریب او ٹی ٹی پر نشر ہوگی، ۱۵؍ اکتوبر کو عالمی نمائش

برطانوی حکومت نے بتایا کہ ’فیول فائنڈر‘ منصوبے کے تحت ملک بھر کے پیٹرول اسٹیشنوں کے لیے ایندھن کی قیمت میں تبدیلی کی اطلاع مقررہ مدت کے اندر دینا لازمی ہے۔ فروری سے پیٹرول اسٹیشنوں کو قیمت تبدیل ہونے کے  ۳۰ ؍منٹ کے اندر نئی قیمت رپورٹ کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس نظام کے تحت برطانیہ میں سڑکوں پر فروخت ہونے والے تقریباً  ۹۹؍ فیصد ایندھن  کی قیمتوں کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس معلومات کو پہلے ہی مختلف ایندھن اور سفر سے متعلق خدمات استعمال کر رہی تھیں، تاہم گوگل میپس میں اسے شامل کیے جانے سے لاکھوں مزید ڈرائیور براہ راست قیمتوں کا موازنہ کرسکیں گے۔ اس سے صارفین کو صرف قریب ترین پیٹرول پمپ کا رخ کرنے کے بجائے علاقے میں دستیاب نسبتاً سستے پیٹرول یا ڈیزل کا انتخاب کرنے کا موقع ملے گا۔توانائی صارفین کی وزیر  پولی بلنگٹن  نے اس پیش رفت کو صارفین کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل بہت سے خاندانوں اور کاروباروں کے لیے بنیادی ضرورت ہیں، اس لیے سستا ایندھن تلاش کرنا آسان ہونا چاہیے۔ حکومت کے مطابق قیمتوں میں شفافیت بڑھنے سے پیٹرول اسٹیشنوں کے درمیان مسابقت بھی بڑھے گی اور اس کا فائدہ بالآخر صارفین کو مل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کو توانائی کے جھٹکوں، اے آئی کی طلب سے خبردار کیا

برطانوی وزیر خزانہ  جان ہیلی  نے بھی کہا کہ پیٹرول پمپ پر بہتر قیمت حاصل کرنا اب آسان ہوگا، اگرچہ یہ اقدام بڑھتے ہوئے تمام اخراجات کا مکمل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والے واقعات کی وجہ سے توانائی کے بل اور ایندھن کی قیمتیں بڑھی ہیں، تاہم قیمتوں کا موازنہ کرنے جیسی چھوٹی سہولتیں بھی خاندانوں کو کچھ مالی گنجائش فراہم کرسکتی ہیں۔
گوگل نے بھی تصدیق کی ہے کہ  گوگل میپس اور ویز  میں فیول فائنڈر کے اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں۔ صارف نقشے پر ’’پٹرول‘‘ یا ’’ایندھن‘‘ تلاش کرکے قریبی اسٹیشنوں اور ان کی قیمتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح برطانیہ میں ڈرائیورس کے لیے ایندھن کی قیمتوں کا موازنہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
برطانوی حکومت کو امید ہے کہ اس نظام سے قیمتوں میں زیادہ شفافیت آئے گی، پیٹرول اسٹیشنوں کے درمیان مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو مہنگائی کے موجودہ دور میں ایندھن کے اخراجات کم کرنے کا بہتر موقع ملے گا۔  گوگل میپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اجرا  برطانیہ میں بڑھتی ہوئی توانائی لاگت کے دوران صارفین کے لیے ایک اہم ڈجیٹل سہولت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK