• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈین شاعرہ این کارسن نے ۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام برائے ادب جیتا

Updated: October 08, 2026, 6:19 PM IST | Stockholm

سویڈش اکیڈمی نے کلاسیکی روایت سے تخلیقی مکالمے اور جدید ادب کے لیے نئی صورتیں تشکیل دینے پر ۷۶؍ سالہ مصنفہ کو عالمی اعزاز دیا۔

Anne Carson. Image: X
این کارسن۔ تصویر: ایکس

کنیڈین شاعرہ، مضمون نگار اور کلاسیکی ادب کی ماہر این کارسن نے ۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام برائے ادب جیت لیا ہے۔ سویڈش اکیڈمی نے جمعرات ۸؍ اکتوبر کو اعلان کیا کہ انہیں ’’کلاسیکی روایت کے ساتھ کھیلتے ہوئے مکالمے میں جدید ادب کے لیے نئی صورتیں تخلیق کرنے والے ان کے جرأت مند اور اختراعی ادبی کام‘‘ پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ ۷۶؍ سالہ این کارسن کی تحریری دنیا میں شاعری، نثر، مکالمہ، ترجمہ، مضمون نگاری اور کلاسیکی یونانی ادب ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ ان کا کام روایتی ادبی اصناف کی واضح حد بندیوں پر قائم نہیں رہتا اور وہ قدیم یونانی اساطیر، فلسفے اور کلاسیکی متون کو جدید انسانی تجربات، محبت، غم، خواہش اور تنہائی جیسے موضوعات کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ سویڈش اکیڈمی کے مطابق ان کی تحریروں نے عصری ادب کے لیے نئی فنی صورتیں پیدا کی ہیں۔ نوبیل کمیٹی نے کارسن کو انعام دیے جانے کی اطلاع اس وقت دی جب وہ آئس لینڈ میں موجود تھیں۔ سویڈش اکیڈمی کی مستقل سیکریٹری انگرڈ کارل برگ کے مطابق کارسن فون پر یہ خبر سن کر حیران ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ کارسن نے فون پر کہا کہ وہ آئس لینڈ میں ہوا کی آواز سن رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز
 
این کارسن ۱۹۵۰ء میں کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ٹورنٹو یونیورسٹی سے کلاسیکی ادب کا مطالعہ کیا اور بعد میں اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز سے کلاسیکی علوم میں ڈاکٹریٹ کی۔ بعد میں وہ امریکا میں مختلف جامعات میں تدریس سے وابستہ رہیں اور کلاسیکی یونانی ادب کے ساتھ ساتھ جدید شاعری پر بھی کام کیا۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو نے انہیں اپنی سابق طالبہ قرار دیتے ہوئے نوبیل انعام ملنے پر مبارک باد دی ہے۔ کارسن کی معروف کتابوں میں ’آٹو بایوگرافی آف ریڈ‘ شامل ہے، جو ۱۹۹۸ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب شاعری اور ناول کے درمیان ایک منفرد ادبی شکل اختیار کرتی ہے اور قدیم یونانی شاعر اسٹیسی کورس کی روایت اور افسانوی کردار گیريون کے قصے کو جدید انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس تصنیف نے کارسن کو بین الاقوامی ادبی حلقوں میں نمایاں شناخت دلائی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی

ان کی ایک اور نمایاں تخلیق ’دی گلاس ایسّے‘ ہے، جس میں شاعری، مضمون اور ذاتی تجربے ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔ اس کتاب میں ذاتی تعلقات اور جدائی جیسے موضوعات کے ساتھ کلاسیکی اور ادبی حوالوں کو جوڑا گیا ہے۔ کارسن کی تحریروں میں ذاتی زندگی اور قدیم ادب کے درمیان یہ امتزاج ان کے مخصوص اسلوب کی اہم خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ان کی تخلیق ’نورما جین بیکر آف ٹرائے‘ سامنے آئی، جس میں یونانی اساطیر کی ہیلن اور امریکی اداکارہ مارلن منرو کی زندگیوں اور عوامی تصورات کو ایک ہی ادبی فریم میں رکھا گیا۔ یہ تصنیف کارسن کے اس طریقۂ کار کی مثال ہے جس میں وہ قدیم داستانوں کو جدید ثقافتی شخصیات اور سوالات کے ساتھ ملا کر نئے معنی پیدا کرتی ہیں۔
 
کارسن نے صرف اصل تخلیقی ادب پر کام نہیں کیا بلکہ قدیم یونانی متون کے متعدد تراجم بھی کیے ہیں۔ تاہم ان کے ہاں ترجمہ محض ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی نہیں بلکہ ایک آزاد تخلیقی عمل کی صورت اختیار کرتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق کلاسیکی یونانی ادب کے ان کے تراجم نے ان کی اپنی ادبی تخلیقات پر گہرا اثر ڈالا اور ان کے کام میں قدیم اور جدید کے درمیان مسلسل مکالمہ پیدا کیا۔ این کارسن نے ادب کے علاوہ تھیٹر اور موسیقی کے لیے بھی لکھا ہے۔ ان کے کام میں اوپیرا، پرفارمنس اور اسٹیج کے لیے تیار کیے گئے متن شامل ہیں۔ ان کا ادبی انداز صنف کی روایتی حدود سے ہٹ کر مختلف فنون کو ایک ساتھ لاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی کتابیں روایتی شاعری یا نثر کی ایک ہی قسم میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے اکتوبر حملے کی وارننگ میں اپنے مفاد کے مطابق ہیرا پھیری کی
 
نوبیل انعام این کارسن کے ادبی سفر کا پہلا بڑا بین الاقوامی اعزاز نہیں ہے۔ انہیں ۲۰۲۰ء میں پرنسس آف آسٹوریاس ایوارڈ فار لٹریچر بھی دیا گیا تھا۔ اس اعزاز کے وقت بھی ان کے کام میں قدیم ادب، جدید شاعری اور مختلف ادبی اصناف کے امتزاج کو نمایاں کیا گیا تھا۔ ۲۰۲۶ء کا نوبیل انعام برائے ادب ۱۲؍ ملین سویڈش کرونا کی انعامی رقم کے ساتھ دیا جارہا ہے، جو تقریباً ۲ء۱؍ ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔ نوبیل تمغہ اور سند ۱۰؍ دسمبر کو اسٹاک ہوم میں ہونے والی رسمی تقریب میں پیش کیے جائیں گے۔ گزشتہ برس ۲۰۲۵ء کا نوبیل انعام برائے ادب ہنگری کے مصنف لاسلو کراسنا ہورکائی کو دیا گیا تھا۔ این کارسن کی کامیابی کے ساتھ وہ نوبیل ادب انعام حاصل کرنے والی کنیڈین ادیباؤں میں نمایاں نام بن گئی ہیں، جبکہ ان کا ادبی کام قدیم یونانی روایت کو جدید شاعری اور نثر کے ساتھ جوڑنے کے منفرد طریقے کے باعث عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل کر رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK