• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجویز، امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی طلبہ کیلئے ۷۰؍ ہزار ڈالر فیس

Updated: October 08, 2026, 6:02 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے کے راستے کو مزید مہنگا کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اختیاری عملی تربیت پروگرام (او پی ٹی )میں پہلی مرتبہ شامل ہونے والے ہر بین الاقوامی طالب علم کے لیے ۷۰ ؍ ہزار ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے کے راستے کو مزید مہنگا کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے  اختیاری عملی تربیت پروگرام (او پی ٹی )میں پہلی مرتبہ شامل ہونے والے ہر بین الاقوامی طالب علم کے لیے  ۷۰ ؍ ہزار ڈالر  فیس عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ بعد کی تجدید کے لیے مزید ۳۰ ؍ہزار ڈالر فیس مقرر کرنے کی بات کی گئی ہے۔
یہ تجویز خاص طور پر ایف-وَن ویزا  رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کو متاثر کرسکتی ہے۔ او پی ٹی  ایسا پروگرام ہے جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ اپنی تعلیم کے دوران یا تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے شعبۂ تعلیم سے متعلق عملی کام کا تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔ عام طور پر طلبہ کو تعلیم مکمل ہونے کے بعد ایک سال تک کام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی یعنی  ایس ٹی ای ایم  سے متعلق مخصوص شعبوں کے فارغ التحصیل طلبہ کو اضافی دو سال کی توسیع بھی دستیاب ہوسکتی ہے۔
مجوزہ نظام میں ۷۰؍ ہزار ڈالر کی ابتدائی فیس اور ۳۰ ؍ہزار ڈالر کی تجدیدی فیس  تعلیمی اداروں پر عائد ہوگی۔ یعنی موجودہ تجویز کے مطابق طالب علم خود براہِ راست حکومت کو یہ رقم ادا نہیں کرے گا، تاہم یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے اس اضافی مالی بوجھ کو طلبہ یا متعلقہ آجروں تک منتقل کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے اور بعد ازاں کام کرنے کی مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد  ویزا پروگرام میں دھوکہ دہی اور غلط استعمال سے نمٹنا، امیگریشن نظام کی سالمیت مضبوط کرنا اور امریکی کارکنوں کا تحفظ  ہے۔ انتظامیہ نے او پی ٹی  پروگرام کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ایسے طریقے سے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جس سے غیر ملکی کارکنوں کو امریکی ملازمین کے مقابلے میں غیر مناسب فائدہ حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھئے:نانا پاٹیکر نے ۷۷؍ لاکھ کسانوں کی مدد کی تھی

دوسری جانب اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی تعلیم سے وابستہ تنظیموں نے اس تجویز پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ او پی ٹی  پروگرام امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے لیے اہم کشش رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے انہیں اپنی تعلیم سے متعلق عملی تجربہ حاصل کرنے اور امریکی ملازمت کی مارکیٹ میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور دیگرایس ٹی ای ایم  شعبوں میں امریکی کمپنیاں بین الاقوامی گریجویٹس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
یہ معاملہ ہندوستانی طلبہ کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں بڑی تعداد میں ہندوستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے طلبہ تعلیم مکمل کرنے کے بعداو پی ٹی   کے ذریعے کام کا تجربہ حاصل کرتے ہیں، جس کے بعد بعض افراد کے لیے ایچ وَن بی   ورک ویزا کی طرف بڑھنے کا راستہ کھلتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق او پی ٹی خاص طور پر ہندوستان  اور چین سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے امریکی ٹیکنالوجی شعبے میں کام حاصل کرنے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔
نئی تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ اور امیگریشن سے متعلق متعدد پالیسیوں پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے بین الاقوامی طلبہ نہ صرف تعلیمی ماحول کا اہم حصہ ہیں بلکہ ان کی فیس سے یونیورسٹیوں کو نمایاں مالی آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ تعلیمی تنظیموں کا خدشہ ہے کہ اگر او پی ٹی  سے متعلق اخراجات بہت زیادہ بڑھ گئے تو کچھ غیر ملکی طلبہ امریکہ کے بجائے دوسرے ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:آرکٹک اوپن: کدامبی سری کانت اور ایچ ایس پرنئے پہلے ہی دور میں باہر

تجویز ابھی حتمی قانون نہیں بنی۔ عوام کو اس پر اپنی رائے اور اعتراضات پیش کرنے کے لیے ۶۰؍ دن کا وقت دیا گیا ہے، جس کے بعد محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی حتمی ضابطہ جاری کرنے پر غور کرے گا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور کاروباری تنظیموں کی جانب سے قانونی چیلنج بھی سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے اس پالیسی کے نفاذ میں تاخیر ہوسکتی ہے۔اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو امریکی یونیورسٹیز، بین الاقوامی طلبہ اور ان شعبوں کے آجروں پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جہاں غیر ملکی گریجویٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر ایس ٹی ای ایم شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے  او پی ٹی کے اخراجات میں اتنا بڑا اضافہ امریکہ میں تعلیم، عملی تربیت اور مستقبل کی ملازمت کے پورے منصوبے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ صرف  مجوزہ ضابطہ  ہے اور اس کی حتمی شکل عوامی رائے، قانونی عمل اور انتظامی فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK