Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیر اعظم مودی کا خطاب ، کانگریس پرشدید حملے

Updated: February 05, 2026, 11:24 PM IST | New Delhi

تحریک شکریہ پر لوک سبھا میں خطاب نہ کرنے دینے کی پوری بھڑاس راجیہ سبھا میں نکالی ، کانگریس پارٹی ، نہرو۔ گاندھی خاندان اور راہل گاندھی کو نشانہ بنایا، اپنی پیٹھ بھی تھپتھپائی

Prime Minister Modi responding to the Motion of Thanks on the President`s address in the Rajya Sabha. (Photo: PTI)
وزیر اعظم مودی راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریک شکریہ کا جواب دیتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

راجیہ سبھامیں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر زور دار حملے کئے۔ وزیر اعظم نے پنڈت نہرو سے لے کر اندراگاندھی اور راہل گاندھی تک کو ہدف تنقید بنایا اور اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہاکہ آج ’مودی تیری قبر کھدے گی‘ کے نعرے لگائے جارہے ہیں ۔یہ نعرہ کانگریس کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نے ملک کے لیے جو کام کئے ، اسی کے نتیجہ میں یہ لوگ میری قبر کھودنے میں لگے ہیں،مگر میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ میری قبر نہیں کھو دپائیں گے، کیونکہ میرے ساتھ ملک کی ماؤں اور بہنوں کی دعائیں ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں تحریک شکریہ پر خطاب کا موقع نہ ملنے کی بھڑاس راجیہ سبھا میں جم کر نکالی اور اپوزیشن پارٹیوں کو بری طرح سے نشانہ بنایا۔ 
لوک سبھا میں کیا ہوا ہے ؟
  یاد رہے کہ گزشتہ روز لوک سبھا میں ہنگامہ کے باعث وزیر اعظم کا خطاب نہیں ہوپایا تھا کیوں کہ کانگریس اراکین اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بولنے کا موقع نہ دینے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ جمعرات کو بھی جب اس معاملہ پر لوک سبھا میں ہنگامہ ہوا اور صدر کے خطاب پر وزیر اعظم کے جواب کے بغیر ہی تحریک شکریہ منظور کرلی گئی ۔اس دوران اسپیکر اوم برلا نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہی وزیر اعظم مودی سے لوک سبھا میں نہ آنےکی درخواست کی تھی کیوں کہ انہیں ڈر تھا کہ کانگریس کے اراکین کوئی غلط حرکت نہ کر بیٹھیںکیوں کہ ان کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے تھے، وہ کچھ بھی کرسکتے تھے۔اس دعوے پر بھی کافی ہنگامہ ہوا ہےلیکن اسی دوران تحریک منظور کرلی گئی ۔  
راجیہ سبھا میں مودی کا خطاب 
 اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے بی جے پی اور کانگریس کے طرز حکمرانی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ملک کے عوام کو مسائل مانتی ہے، جبکہ میرا ماننا ہے کہ مسائل کتنے ہی ہوں ۱۴۰؍ کروڑلوگوں کا حل ہمارے پاس ہے۔انہوںنے اندرا گاندھی کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ نہرو جی ملک کے عوام کو مسئلہ مانتے تھے اور اندراگاندھی نے بھی یہ بات تسلیم کی تھی ۔گزشتہ روز اپنا خطا ب نہ ہونے پر انھوںنے کہاکہ ملک کے لوگوں کی توہین کرنا کانگریس کی روایت رہی ہے۔گزشتہ روز صدر جمہوریہ کی توہین کی گئی ۔ کل لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر بحث نہیں ہوپائی۔ایسے میں کانگریس کو آئین کا لفظ بولنے کا حق نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی نے غریبی سے نکلی ہوئی ایک خاتون ، آدیواسی خاتون اور اس عہدہ کی توہین کی ہے ۔
 گزشتہ روز راہل گاندھی کے ذریعہ پارلیمنٹ احاطہ میں مرکزی وزیررَونیت بٹوکو غدار کہنے پر اعتراض کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ اس ایوان میں کانگریس کے ایک’’ شاطر دماغ‘‘ لیڈر نے ہمارے ایک لیڈر کو غدار اس لیے کہہ دیا کہ وہ سکھ ہیں، یہ سکھوں کی توہین ہے ۔ انہوںنے میرے ملک کے عوام کو غدار کہہ دیا یہ ملک کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ ایسے لوگ کانگریس کو ڈبوئیں گے نہیں تو کیا کریں گے ۔ انہوںنے رکن پارلیمنٹ ماسٹر سدا نند کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جن سے ہمیں سیاست میں حوصلہ ملتا ہے۔ دوماہ قبل رام لیلا میدان میں ریلی کے دوران ایک کانگریسی خاتون کے ذریعہ مودی تیری قبر کھدے گی کا نعرہ لگانے پر دلبرداشتہ ہوتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ کانگریس مودی کی قبر کھودنے کا نعرہ لگارہی ہے۔ آج محبت کی دوکان کھولنے والے قبر کھودنے کا نعرہ لگارہے ہیں، یہ کون سی دکان ہے جو ایک شہری کی قبر کھودنے میں لگی ہے۔ کیا یہ آئین کی توہین نہیں ہے۔ انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں ہے، یہ کس تہذیب کے ساتھ پلےبڑھے لوگ ہیں؟ وزیر اعظم نے کہاکہ گزشتہ ۲۵ ؍سال میں پارلیمنٹ کا ایک بھی اجلاس ایسا نہیں گیا جب مودی کو گالی دینے کا کام نہ کیا گیا ہو۔ کسی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ کی صحت کا راز کیا ہے تو میں نے جواب دیا تھا کہ میں روز ۲؍ کلوگالی کھاتا ہوں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK