بنگال اسمبلی انتخابات ۲۰۲۶ء کی مہم کے دوران وزیر اعظم نےچھ ’’مودی گارنٹی‘‘ پیش کیں، جبکہ اس کے جواب میں ٹی ایم سی نے سات نکاتی’’ ریالٹی چیک‘‘ جاری کیا۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 7:03 PM IST | Kolkata
بنگال اسمبلی انتخابات ۲۰۲۶ء کی مہم کے دوران وزیر اعظم نےچھ ’’مودی گارنٹی‘‘ پیش کیں، جبکہ اس کے جواب میں ٹی ایم سی نے سات نکاتی’’ ریالٹی چیک‘‘ جاری کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بنگال کے لیے ’’چھ گارنٹیوں‘‘ کا اعلان کیا، جس پر ترنمول کانگریس نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے بی جے پی کے دعوؤں پر ’’سات نکاتی حقیقت نامہ‘‘ (ریالٹی چیک) جاری کیا۔پورب میدنی پور ضلع کے ہلدیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے وعدہ کیا کہ اگر ریاست میں بی جے پی برسراقتدار آئی تو انتظامی اور سیاسی میدان میں بڑی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ’’خوف کے ماحول‘‘ کو ’’اعتماد‘‘ سے بدل دے گی، انتظامی مشینری کو عوام کے سامنے مکمل طور پر جواب دہ بنایا جائے گا، اور بدعنوانی، خواتین کے خلاف جرائم اور مبینہ ناانصافیوں سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولے جائیں گے۔‘‘مزید یہ کہ بدعنوانی میں ملوث تمام افراد کو جیل بھیجا جائے گا اور کوئی بھی ٹی ایم سی غنڈہ قانون سے نہیں بچ سکے گا۔ساتھ ہی انہوں نے حکمراں جماعت پر اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کے لیے ’’مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن‘‘ دینے کا بھی الزام لگایا۔
بعد ازاں مودی نے۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پورب میدنی پور میں جہاں پارٹی نے۱۶؍ میں سے۱۵؍ نشستیں جیتی تھیں، اب باقی بنگال بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ۲۰۲۱ء میں نندی گرام کا نتیجہ، جہاں سابق اسپیکر سوویندو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست دی تھی، بھوانی پور میں دہرایا جائے گا جہاں دونوں کا دوبارہ آمنا سامنا ہوگا۔آسنسول میں ایک ریلی میں مودی نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی حکومت کے تحت ریاست کی صنعت زوال کا شکار ہوگئی۔مودی نے خواتین کی حفاظت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں تیزاب کے حملوں کے معاملات زیادہ ہیں۔
تاہم ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھالیڈر ڈیرک اوبرائن نے سوشل میڈیا پرمودی کے سات دعوؤں کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا، ’’آئیے ان کے سات دعوؤں کو بے نقاب کریں اور سات نکاتی ریالیٹی چیکپیش کریں،‘‘غربت اور ترقی کے سوال پر اوبرائن نے کہا کہ ہندوستان میں اب بھی غربت میں زندگی گزارنے والوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ انہوں نے نیتی آیوگ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ۲۱؍کروڑ افرادانتہائی غربت کا شکار ہیں۔مودی کی معاشی کارکردگی پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے اوبرائن نے کہا کہ مغربی بنگال کی مجموعی ریاستی پیداوار گزشتہ۱۵؍ سالوں میں پانچ گنا بڑھ گئی ہے، جبکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد۲۰۱۱ء میںایک لاکھ ۳۷؍ ہزار سے بڑھ کر۲۰۲۵ء میں۲؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ہوگئی، جو۸۳؍ فیصد اضافہ ہے۔روزگار پر ٹی ایم سی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ بنگال میں بے روزگاری میں۴۰؍ فیصد کمی آئی ہے اور دو کروڑ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ اوبرائن نے مرکزی حکومت پر بھی الزام لگایا کہ وہ اپنے محکموں میں خالی آسامیاں پر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز نے مغربی بنگال کو دینے والے۲؍ لاکھ کروڑ روپے روک لیے ہیں۔قانون اور نظم اور خواتین کی حفاظت کے معاملات پر اوبرائن نے کہا کہ کلکتہ کو لگاتار کئی سالوں ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا گیا ہے۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعہ کو شمالی۲۴؍ پرگنہ میں ایک ریلی میں دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج متاثر کرنے کے لیے ۹۰؍ لاکھ سے زیادہ نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی عدالتوں میں جائے گی تاکہ یہ نام بحال کروائے جائیں۔ واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل دونوں جانب سے بیانات بازی تیز ہوگئی ہے اور حکمرانی، ترقی اور فلاح و بہبود پر متضاد بیانیے پیش کیے جا رہے ہیں، جس سے مغربی بنگال کی ریاست اعداد و شمار کی جنگ کا اکھاڑہبن گئی ہے۔