• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’منریگا بچاؤ مارچ‘ کے دوران پولیس پر طاقت کے استعمال کاالزام

Updated: January 12, 2026, 10:54 PM IST | New Delhi

احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھی چارج اور جارحانہ کارروائی کے بعدتنظیم کے صدر ورون چودھری سمیت۳۵؍ طلبہ گرفتار، تنظیم کے سربراہ کااعلان ’ نہ جھکیں گے، نہ رُکیں گے‘

NSUI officials protesting at BHU
بی ایچ یو میں مظاہرہ کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے ذمہ داران

کانگریس کی طلبہ تنظیم’نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی) نے ایک دن قبل بنارس میں واقع بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں منعقدہ منریگا بچاؤ مارچ کے دوران اتر پردیش پولیس پر جارحیت اور طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔این ایس یو آئی کے مطابق اتر پردیش پولیس نے تنظیم کے قومی صدر ورون چودھری سمیت ۳۵؍ طلبہ کو گرفتار کیا ہے۔ طلبہ پر لاٹھی چارج اور جارحانہ کارروائی کے بعد طلبہ لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں۔
 اس معاملے میں ورون چودھری نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’منریگا ملک کے محروم طبقات، دلتوں، قبالیوں اور پسماندہ طبقات کیلئے لائف لائن  ہے۔ مودی حکومت ان کے روزگار کے حق پر حملہ کر رہی ہے۔ ہم بالکل واضح ہیں، آپ چاہے جتنی طاقت یا جارحیت کا استعمال کر لیں، ہم جھکنے والے نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’اتوار کے احتجاج کی تصاویر وزیر اعظم مودی کے خوف کو اجاگر کرتی ہیں۔ وہ طلبہ کے پرامن احتجاج کو بھی برداشت نہیں کر پا رہے  ہیں،اسلئے اس کے جواب میں طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صرف میرے خلاف پولیس جارحیت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اتر پردیش میں عام شہریوں کے ساتھ ہونےوالے روزمرہ کے جبر کی حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر اس آمرانہ حملے اور منریگا پر انحصار کرنے والے کروڑوں لوگوں کی روزگار کے خلاف این ایس یو آئی اپنی ملک گیر تحریک کو مزید تیز کرے گی۔
  ورون چودھری  نے کہاکہ اس مارچ کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کی گئی تھی، اس کے باوجود پولیس نے سخت کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ۳۵؍ طلبہ کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہی کئی  طلبہ لیڈروں اور کارکنوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کرکے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔اسی طرح پولیس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً۱۰۰؍ طلبہ اور این ایس یو آئی کے عہدیدار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دباؤ کے بعد بھی ’نہ ہم جھکیں گے، نہ رکیں گے۔‘انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی اس طرح کی کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی بلکہ ملک بھر میں یہ جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کو ریاستی طاقت کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طلبہ تحریک کو دبانا اور اختلاف کی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔
 پولیس کی اس کارروائی کی کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے بھی مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’’کیا جمہوریت میں پُرامن احتجاج بھی  جرم ہے؟‘‘اسی طرح  کانگریس ترجمان سپریہ شرینیت نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’یوگی جی!آپ کی بے لگام سرکار حد پار کررہی ہے۔منریگا مارچ کے دوران این ایس یو آئی کے قومی صدر  کے ساتھ یوپی پولیس کی جارحیت شرمناک ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یاد رکھئے گا، یہ اقتدار ہمیشہ کیلئے نہیں ہے۔‘‘
 اس سے قبل کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی لاٹھی چارج کو بی جے پی حکومت کا خوف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ منریگا ختم کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر حملہ کرنا ڈبل انجن حکومت کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری کی قیادت میں طلبہ نے’منریگا بچاؤ سنگرام مارچ‘ نکالا۔ یہ مکمل طور پر پُرامن اور آئینی حقوق کے تحت کیا گیا جمہوری احتجاج تھا، لیکن اترپردیش کی یوگی اور مرکز کی مودی کی ڈبل انجن حکومت سوالات سے اس قدر گھبرا گئی کہ اس نے پولیس کے ذریعے بے رحمی سے لاٹھی چارج کروا دیا۔‘‘
 قابلِ ذکر ہے کہ منریگا کے خلاف کانگریس کے۴۵؍ روزہ ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے دوسرے دن اتوار کو بنارس میں این ایس یو آئی کے طلبہ نے احتجاج کیا تھا، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اس کے قومی صدر ورون چودھری کو گرفتار کر لیا۔ دریں اثنا پولیس  نے الزام عائد کیا ہے کہ اس پروگرام کیلئے کسی بھی طرح کی اجازت نہیں لی گئی تھی،اسلئےپولیس نے کئی تھانوں کی فورس تعینات کررکھی تھی۔بعد ازاں سینئر افسران کے ساتھ مل کر پولیس نے کیمپس کے اندر ہی سب کو روک دیا اور کئی طلبہ کو حراست میں بھی لے لیا۔  پولیس نے الزام عائد کیا کہ کافی سمجھانے بجھانے کے باوجود وہ رکنے کو تیار نہیں ہوئے،اسلئے ان میں سے کئی  طلبہ کو حراست میں لینا پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK