• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جبل پور، کرناٹک اور حیدرآباد میں فرقہ وارانہ تصادم، پولیس فورس تعینات

Updated: February 21, 2026, 8:54 AM IST | Indor

مدھیہ پردیش کے ضلع کے سہورا میں  مندر کی گِرِل توڑنے اور مزار میں  توڑ پھوڑ کی متضاد خبریں، تصادم میں  پتھراؤ، ۴۹؍افراد گرفتار۔

Police force can be seen deployed in Jabalpur`s Sehura. Photo: INN
جبل پور کے سہورا میں  پولیس فورس تعینات دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش کے جبل پور ضلع کے سہورا میں دوفرقوں  کے درمیان تصادم، پتھرا ؤ اورتوڑ پھوڑ کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ پولیس نے ابھی تک ۴۹؍افراد کو اس معاملے میں  گرفتار کیا ہے۔ اطلاع کے مطابق سہورا کے آزاد چوک میں   ایک مندر اور مسجد ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ اکثریتی فرقہ کے لوگوں  کا دعویٰ ہے کہ مندر کی گِرِل توڑی گئی، جس کے بعد دوفرقوں  کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت آئی، جبکہ اقلیتی فرقہ کا دعویٰ ہے کہ مزار میں  توڑ پھوڑ کی گئی، اس کے بعد دونوں  طرف سے تصادم شروع ہوا۔ میڈیا میں  اس بارے میں  متضاد اطلاعات ہیں  اور کئی رپورٹس میں  دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مندر میں اس وقت لاؤڈاسپیکر پر آرتی کی گئی جب مسجد میں نماز پڑھی جارہی تھی۔ 
جبل پور میں عینی شاہدین نے بتایا کہ مندر کی حفاظتی گرل کو نقصان پہنچانے پر جھگڑا شروع ہوگیا، جس کے بعد دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع کردیا اور وہاں دکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ سمپت اپادھیائے نے کہا کہ پولیس نے شروع میں ہلکی طاقت کا استعمال کیا لیکن بعد میں ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ 
بعد ازاں اعلیٰ پولیس اور انتظامی حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اضافی پولیس فورس کو ضلع کے باہر سے بلایا گیا تھا اور انہیں وہاں تعینات کردیا گیا۔ ایڈیشنل ایس پی سوریہ کانت شرما نے کہاکہ اب تک ۴۹؍افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تشدد میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ جمعہ کو دائیں بازو کی ایک تنظیم کے کچھ کارکنوں نے سہور تھانے کا گھیراؤ کیا اور ہنومان چالیسا پڑھتے ہوئے سڑک پر بیٹھ گئے اوراقلیتی فرقہ کے افراد کے گھروں پر بلڈوزرچلانے کا مطالبہ کیا۔ دریں  اثناء ایک خبررساں  ایجنسی سے بات کرتے ہوئے مقامی کارپوریٹر اور مسلم لیڈر ارشد خان نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مزار پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ ان کیلئے مزار اور مندر ایک ہی جیسی اہمیت رکھتے ہیں  اور وہ چاہتے ہیں  کہ انہیں  کوئی نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ میں ۱۰؍ سے ۱۲؍بے قصورافراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 
باگل کوٹ میں کیا ہوا؟ 
اسی طرح کرناٹک کے باگل کوٹ میں شیو جینتی کا جلوس مسجد کے سامنے سے گزرنے کے درمیان پتھراؤ اور تصادم کی خبریں   ہیں۔ پولیس کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے علاقہ میں  حکم امتناعی نافذ کردیا ہے۔ باگل کوٹ ایس پی نے کہا کہ پتھراؤ کی شکایت ہے لیکن کوئی زخمی نہیں  ہوا ہے۔ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ 
حیدر آباد میں مسجد کے باہر ہنگامہ آرائی
حیدر آباد کے عنبر پیٹ میں تراویح کے وقت دوفرقوں میں  تصادم کی خبریں  ہیں۔ اطلاع کے مطابق یہاں  سے شیوجینتی کا جلوس گزرہا تھا، جو عنبرپیٹ کی مسجد کے پاس کافی دیر رکا رہا۔ الزام ہے کہ یہاں  اشتعال انگیز گیت بجایا گیا اور دل آزار نعرے لگائے۔ اس وقت یہاں  مسجد میں نماز تراویح ہورہی تھی۔ اقلیتی فرقہ نے جلوس کے دوران اونچی آواز میں موسیقی اور نعرے بازی پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں تصادم ہوگیا۔ حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بھیڑ کو منتشر کیا۔ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK