اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی نے یکم نومبر۲۰۲۴ءسے ۳۱؍اکتوبر۲۰۲۵ءتک غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال کے جائزے پر مبنی اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کئی چشم کشاانکشافات کئے ۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 9:15 AM IST | Gaza
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی نے یکم نومبر۲۰۲۴ءسے ۳۱؍اکتوبر۲۰۲۵ءتک غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال کے جائزے پر مبنی اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کئی چشم کشاانکشافات کئے ۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے نسلی تطہیر کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
ادارے نے یکم نومبر۲۰۲۴ءسے ۳۱؍ اکتوبر۲۰۲۵ءتک غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال کے جائزے پر مبنی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ میں شدید حملے، پورے کے پورے علاقوں کی منظم تباہی اور انسانی امداد کی فراہمی سے انکار جیسے اقدامات بظاہر اس علاقے میں آبادی کے مستقل تناسب کو تبدیل کرنے کے مقصد سے کئے گئے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل نے فلسطینی عوام کے ساتھ منظم امتیاز، ان پر جبر، تسلط اور غلبہ قائم رکھنے کے لئےقدم اٹھائے۔
یہ رپورٹ او ایچ سی ایچ آر کی جانب سے فلسطینیوں کے حالات کی نگرانی اور سرکاری ذرائع، اقوام متحدہ کے دیگر اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصہ کے دوران غزہ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے بہت بڑی تعداد میں شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا سلسلہ جاری رہا، علاقے میں قحط پھیل گیا اوراسپتالوں اور اسکولوں سمیت شہری ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا۔ یہ صورتحال فلسطینیوں پر ایسے حالات مسلط کر رہی ہے جو غزہ میں بطور انسانی گروہ ان کی بقا کے لئے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے جان بوجھ کر شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ایسے حملے کئے جن میں جانی نقصان یا تباہی متوقع فوجی فائدے کے مقابلے میں واضح طور پر حد سے زیادہ تھی اور ایسا کرنا جنگی جرم کے زمرے میں آسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے حق میں بائیکاٹ مہم کا اثر؟ نیسلے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں
رپورٹ کے مطابق، اس عرصہ میں کم از کم۲۵؍ ہزار ۵۹۴؍فلسطینی ہلاک اور۶۸؍ ہزار ۸۳۷؍ زخمی ہوئے۔واضح رہےکہ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی لڑائی کے آغاز سے اب تک ۶۸؍ہزار۸۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی شہید اورایک لاکھ۷۰؍ ہزار۶۶۴؍زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ملبے تلے دب کر شہید ہو جانے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصہ کےدوران غزہ میں کم از کم۴۶۳؍ فلسطینی بھوک سے ہلاک ہوئے جن میں۱۵۷؍بچے بھی شامل ہیں۔ قحط اور غذائی قلت کی یہ صورتحال براہ راست اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ تھی جن میں انسانی امداد کی آمد اور تقسیم کو روکنا بھی شامل تھا۔
جنگی طریقہ کار کے طور پر شہری آبادی کو بھوکا رکھنا بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے اور اگر یہ عمل کسی وسیع یا منظم حملے کا حصہ ہو تو انسانیت کے خلاف جرم شمار ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کسی قومی، نسلی، لسانی یا مذہبی گروہ کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کرنے کی نیت سے کیا جائے تو نسل کشی کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔