• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’کان کنی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو پولیس پریشان کرتی ہے‘‘

Updated: October 20, 2026, 2:28 PM IST | Ali Imran | Mumbai

چندر پور میں ’ترشول آندولن ‘ کے دوران پرہار جن شکتی پارٹی کے رکن اسمبلی بچو کڑو کی جارحانہ و متنازع تقریر، پولیس افسران پر سنگین الزام لگایا کہ وہ ڈبلیو سی ایل کمپنی سے پیسے لیتے ہیں۔

Children can be seen delivering speeches. Photo: INN
بچو کڑو تقریر کرتے ہوئے دیکھے جاسکتےہیں۔ تصویر: آئی این این
=پرہار جن شکتی پارٹی کے رکن اسمبلی بچُّو کڑو کی جانب سے چندرپور میں پولیس پر انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کرنے اور گالم گلوچ کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ منصوبوں کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو پولیس کی جانب سے بلاوجہ پریشان کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے بچُّو کڑو نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اسکے علاوہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس انتظامیہ ویسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ڈبلیو سی ایل) سے پیسے لیتی ہے۔ ان کے جارح اندازاور پولیس پر سنگین الزامات لگانے پر اب ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
چندرپور اور ایوت محل ضلع میں کوئلے کی کانوں سے متاثرہ دیہات کے باشندوں کے زیرِ التوا مطالبات کے لیے بچو کڑو کی قیادت میں ’ترشول آندولن‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس تحریک کے ایک حصے کے طور پر چندرپور ضلع کے کورپنا تعلقہ میں واقع پین گنگا کوئلہ کان کے علاقے سے گھگھوس شہر کے کارگل چوک تک ایک بڑا مارچ نکالا گیا۔ اس پیدل مارچ میں رکنِ اسمبلی بچو کڑو خود بھی شریک ہوئے۔ تقریباً ۱۵؍کلومیٹر پیدل سفر کرنے کے بعد یہ مارچ گھگھوس کے کارگل چوک پہنچا۔ وہاں مارچ کے اختتام پر بچو کڑو نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ اسی تقریر کے دوران انہوں نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے پولیس کے طریقۂ کار پر شدید تنقید کی۔
 
 
بچّو کڑو نے کیا الزامات لگائے؟
دوران تقریر بچوکڑو نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس انتظامیہ ویسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ڈبلیو سی ایل) سے پیسے لیتی ہے۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے بھی غصے کا اظہار کیا کہ اپنے جائز حقوق کے لیے لڑنے والے منصوبوں سے متاثرہ مظاہرین کو پولیس کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پولیس کی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے اہلکاروں کیلئے  نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے۔

پولیس کو یہ انتباہ دیا 

بچو کڑو نے پولیس انتظامیہ کو براہِ راست انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایماندار افسران کو چھوڑ کر، جو پولیس اہلکار بلاوجہ کارکنان پر دھونس جمائیں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر کسی تھانے کے انچارج نے مظاہرین کو بلاوجہ پریشان کیا تو اس سے جواب طلب کیا جائے گا اور اس سے نمٹ لیا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK