Updated: October 14, 2026, 6:03 PM IST
| Rome
ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ پوپ لیو چہاردہم کو پھیپھڑوں کا سرطان لاحق ہے۔ ۷۱؍ سالہ پوپ کی روم کے جیمیلی اسپتال میں ۱۳؍ اکتوبر کو سرجری کی گئی، جس کے دوران ان کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکال دیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق آپریشن تقریباً ۹۰؍ منٹ جاری رہا اور اس دوران کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔ سرطان کی حتمی نوعیت کی تصدیق بافتوں کے معائنے سے ہوئی ہے، تاہم بیماری کس مرحلے میں ہے اور آیا یہ لمف نوڈز تک پھیلی ہے یا نہیں، اس بارے میں مزید نتائج کا انتظار ہے۔
رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم۔ تصویر: آئی این این
رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم میں پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص نے دنیا بھر میں کیتھولک برادری کی توجہ ان کی صحت پر مرکوز کردی ہے۔ ویٹیکن کے مطابق ڈاکٹروں نے سرجری کے دوران پھیپھڑوں کے سرطان کی موجودگی کی تصدیق کی۔ اس سے پہلے معمول کے طبی معائنے میں ان کے دائیں پھیپھڑے میں ایک چھوٹی رسولی کی نشاندہی ہوئی تھی، جسے نکالنے کے لیے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ پوپ کی سرجری روم کے جیمیلی اسپتال میں ہوئی، جہاں وہ فی الحال زیرِ علاج ہیں۔ ویٹیکن کے طبی بیان کے مطابق پوپ لیو کو پھیپھڑوں کا ایک عام سرطان، ایڈینوکارسینوما، لاحق ہے۔ ڈاکٹروں نے ویڈیو کی مدد سے سرجری کرتے ہوئے ان کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکالا۔ اس طریقۂ علاج کا مقصد سرطان زدہ بافتوں کو مکمل طور پر ہٹانا تھا۔ آپریشن تقریباً ۹۰؍ منٹ جاری رہا، جبکہ پوپ مجموعی طور پر تقریباً ۳؍ گھنٹے آپریشن تھیٹر میں رہے۔ طبی ٹیم نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی اور پوپ ہوش میں آنے کے بعد معمول کے مطابق اپنے کمرے میں منتقل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: لانسیٹ کمیشن نے صحت کے ۱۷ تباہ کن خطرات کی نشاندہی کی، ہندوستان پر قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا
ویٹیکن کے مطابق پوپ لیو نے سرجری کے بعد اسپتال میں پہلی رات سکون سے گزاری۔ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر لوئیجی کاربونے اور سرجری کرنے والی ٹیم کے سربراہ پروفیسر اسٹیفانو مارگریٹورا نے بتایا کہ آپریشن سے پہلے کیے گئے طبی معائنوں میں سرطان کا شبہ ظاہر ہوا تھا، جس کی دورانِ سرجری بافتوں کے معائنے سے تصدیق ہوگئی۔ اب نکالے گئے حصے اور دیگر نمونوں کے مزید معائنے کیے جائیں گے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ بیماری کس حد تک محدود ہے اور آیا مزید علاج کی ضرورت ہوگی۔ پوپ لیو نے ۱۱؍ اکتوبر کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اتوار کی دعا کے بعد خود اپنی صحت سے متعلق اطلاع دی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ حالیہ طبی معائنے کے دوران ان کے پھیپھڑے میں ایک چھوٹی رسولی کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اس پر کارروائی کرنا بہتر ہے، اس لیے ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے میں نے اسے نکالنے کے لیے آپریشن کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ رسولی ابتدائی مرحلے میں شناخت ہوئی اور ایک محدود حصے تک تھی۔ تاہم بعد میں ہونے والی سرجری اور بافتوں کے معائنے سے سرطان کی تصدیق ہوئی۔
طبی ماہرین کے مطابق سرطان کی تشخیص کے بعد بیماری کے مرحلے کا تعین اہم ہوگا۔ فی الحال ویٹیکن نے یہ نہیں بتایا کہ سرطان لمف نوڈز یا پھیپھڑے سے باہر کسی دوسرے حصے تک پھیلا ہے یا نہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سرطان کے ماہر ڈاکٹر اسٹیفن لیو کے مطابق مریض کی آئندہ صورت حال کا اندازہ لگانے کے لیے رسولی کے حجم اور لمف نوڈز کی کیفیت سے متعلق معلومات ضروری ہیں۔ اگر سرطان ایک محدود حصے تک ہو اور لمف نوڈز متاثر نہ ہوں تو سرجری مؤثر علاج ثابت ہوسکتی ہے، لیکن بیماری کے پھیلاؤ کی صورت میں مزید علاج درکار ہوسکتا ہے۔ فی الحال پوپ کے لیے کیموتھراپی یا دوسرے علاج کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ سرجری کے بعد صحت یابی کے لیے پوپ کی عوامی مصروفیات بھی عارضی طور پر منسوخ کردی گئی ہیں۔ ویٹیکن نے ان کی تمام طے شدہ ملاقاتیں اور عوامی پروگرام ۲۱؍ اکتوبر تک منسوخ کردیے ہیں۔ ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق انہیں تقریباً ایک ہفتہ اسپتال میں رہنا پڑسکتا ہے۔ اس دوران طبی ٹیم ان کی صحت یابی اور مزید معائنے کے نتائج کی نگرانی کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: گوئٹے مالا: اپنی ہی آخری رسومات کے دوران تابوت سے اٹھ بیٹھی ۱۵؍ سالہ لڑکی
پوپ لیو کا نومبر میں لاطینی امریکہ کا مجوزہ دورہ بھی اب غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ ان کے پروگرام میں ۶؍ سے ۱۷؍ نومبر تک یوروگوئے، ارجنٹائنا اور پیرو کا ۱۱؍ روزہ دورہ شامل ہے۔ اس سفر میں متعدد فضائی سفر اور مختلف مقامات پر قیام شامل ہوگا، اس لیے سرجری کے بعد صحت یابی کی رفتار اہم ہوگی۔ ویٹیکن نے تاحال دورے کی منسوخی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ پوپ لیو مئی ۲۰۲۵ء میں دنیا کے تقریباً ۴ء۱؍ ارب رومن کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا منتخب ہوئے تھے۔