Updated: October 14, 2026, 3:03 PM IST
| Berlin
لانسیٹ کمیشن کی رپورٹ میں موٹاپے کو سب سے بڑے بوجھ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مؤثر اقدامات کے ذریعے اندازاً ۱ء۲۳ ارب DALYs کے ممکنہ نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ دیگر خطرات میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت، خراب دماغی صحت، ہائی بلڈ پریشر، بچپن کی غذائی قلت، تمباکو نوشی، غیر صحت مند بڑھاپا، آمدنی کی عدم مساوات اور کم تعلیمی قابلیت شامل ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، وبائیں، روایتی و جوہری تنازعات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا بدنیتی پر مبنی استعمال بھی ان خطرات میں شامل ہیں۔
لانسیٹ کمیشن نے عالمی صحت اور انسانی بقاء کیلئے ۱۷ تباہ کن خطرات کی نشان دہی کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ صحت، مالیات، ماحولیات، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آج کئے جانے والے فیصلے یہ طے کریں گے کہ آنے والی نسلیں ۲۱۰۰ء تک کتنے برسوں کی صحت مند زندگی حاصل کریں گی یا کھو دیں گی۔ برلن میں منعقدہ ورلڈ ہیلتھ سمٹ میں پیش کئے جانے والے ’دی لانسیٹ کمیشن آن ٹونٹی فرسٹ سنچری گلوبل تھریٹس ٹو ہیلتھ‘ نے ۲۰۴ ممالک اور خطوں کے خطرات کا جائزہ لیا۔ کسی خطرے کو اس وقت تباہ کن قرار دیا گیا اگر وہ ۲۱۰۰ء تک معذوری سے مطابقت پذیر کم از کم ایک ارب سالِ زندگی (DALYs) کے نقصان کا سبب بن سکتا ہو، اس کی ماڈلنگ کیلئے کافی ڈیٹا موجود ہو اور پالیسی سطح کے اقدامات کی گنجائش فراہم کرتا ہو۔
رپورٹ میں موٹاپے کو سب سے بڑے بوجھ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مؤثر اقدامات کے ذریعے اندازاً ۱ء۲۳ ارب DALYs کے ممکنہ نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ دیگر خطرات میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت، خراب دماغی صحت، ہائی بلڈ پریشر، بچپن کی غذائی قلت، تمباکو نوشی، غیر صحت مند بڑھاپا، آمدنی کی عدم مساوات اور کم تعلیمی قابلیت شامل ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، وبائیں، روایتی و جوہری تنازعات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا بدنیتی پر مبنی استعمال بھی ان خطرات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آج کی سبزیوں، ترکاریوں میں گزشتہ ۶۰؍ سال کے مقابلے غذائیت نصف سے بھی کم رہ گئیں، مٹی کا معیار وجہ
ماحولیات، عدم مساوات اور ابھرتے ہوئے خطرات
عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو ۴ء۴ ڈگری سینٹی گریڈ کے بجائے تقریباً ۸ء۱ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے سے صحت مند زندگی کے ۸۹ء۱ ارب سال ضائع ہونے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ آمدنی کی عدم مساوات ۸ء۱۳ ارب DALYs کا باعث بن سکتی ہے، جو کہ کووڈ-۱۹ جیسی ۲۵ وباؤں کے برابر ہے۔ جوہری تنازع کی روک تھام سے ۱۳۳ ملین اموات اور ۳۵ء۹ ارب DALYs کے نقصان کو ٹالا جا سکتا ہے، جبکہ اے آئی کے نقصاندہ استعمال کے خطرات کو کم کرنے سے ۴ء۱۰ ارب DALYs کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ شریک چیئرمین پروفیسر کرسٹوفر جے ایل مرے نے کہا کہ ”تمام ۱۷ خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان سے الگ الگ نمٹنے کے بجائے بیک وقت نمٹنا ضروری ہے۔“
ہندوستان کا کردار
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی افتتاحی چیف سائنٹسٹ اور کمیشن کی رکن ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ پالیسی سازوں کو قلیل مدتی ترجیحات سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس یہ سہولت نہیں ہے کہ ہم کسی ایک خطرے کو دوسرے پر ترجیح دیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سے ’’ٹیک ایکسوڈس‘‘: اے آئی کے بہترین دماغ ملازمت و بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں
انہوں نے ہندوستان پر صحت کی منصوبہ بندی میں دور اندیشی پیدا کرنے، ڈیٹا کے تجزیے کیلئے اے آئی کا استعمال کرنے اور کمزور طبقات کی طرف سرمایہ کاری کا رخ موڑنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہندوستان کو عالمی سطح پر صحت کے مباحثوں، اے آئی سیفٹی، وبائی خطرات، صحت کے تجارتی محرکات اور عالمی صحت کے ڈھانچے پر ہونے والے مذاکرات میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔“
کمیشن نے روک تھام پر مرکوز صحت کے نظام کی تعمیر کے ذریعے تیاریوں کو مستحکم کرنے، ویکسینز، اینٹی بائیوٹکس، موٹاپے کے علاج اور ماحولیاتی ٹیکنالوجیز میں اہم پیش رفتوں کی حمایت کرنے اور باقاعدہ آزادانہ جائزوں کے ذریعے خطرات کی مسلسل نگرانی کی تجویز پیش کی ہے۔