Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ملک میں جوابدہی طے کرنے کیلئے ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے‘

Updated: August 06, 2026, 11:56 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad

کاکروچ جنتا پارٹی کے ۲؍ روز اجلاس کا آغاز، ابھیجیت دپکے نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائیں گے ، پریشر گروپ تیار کریں گے۔

Abhijeet Dipke with his colleagues in Aurangabad. Photo: INN
ابھیجیت دپکے اورنگ آباد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے بعد سرخیوں میں آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی کور کمیٹی کا دو روزہ اجلاس اورنگ آباد میں شروع ہو چکا ہے۔ اجلاس سے قبل ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے واضح کیا کہ وہ کوئی سیاسی پارٹی قائم نہیں کریں گے بلکہ  ایک پریشر گروپ قائم کریں گے جو حکومت کے غلط اقدامات پر آواز اٹھا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف اداروں میں جواب دہی اور غیر جانبداری بحال کرنے کیلئے ملک گیر عوامی تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمنٹ پپو یادونے تیجسوی یادوکی قائدانہ صلاحیت پر سوال اٹھایا

ا بھیجیت دپکے کی رہائش گاہ پر ہونے والی  اس میٹنگ میں سی جے پی کے عہدیداران سوربھ داس، یتین گوئل، ویشنوی گور، رتنا سنگھ، اکشے مراٹھے، اجنکیا شندے اور آشوتوش رنکا شریک ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی نظام، عدلیہ، ذرائع ابلاغ، تعلیمی نظام اور الیکشن کمیشن جیسے اہم اداروں سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ یہی عوامی ناراضگی جنتر منتر، بنگال، ممبئی، چنئی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی واضح طور پر دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج سیاسی نظام انتہائی خراب ہو چکا ہے۔ عوام صبح جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شام تک وہ کسی اور پارٹی میں چلا جاتا ہے۔ کہیں ووٹ حذف ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو ای ڈی اور سی بی آئی  جیسی مرکزی ایجنسیوں کےغلط استعمال کے ذریعے پارٹیوں کو توڑا جاتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر عوام شدید پریشان ہیں۔

دپکے نے کہا کہ ان حالات کے باعث لوگ اپنے نظریاتی اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں اب حقیقی معنوں میں ایک نئی سماجی تحریک جنم لے رہی ہے۔سی جے پی کے سیاسی جماعت بنانے کے امکان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو اس وقت ایک اور سیاسی پارٹی کی نہیں بلکہ ایک مضبوط پریشر گروپ کی ضرورت ہے۔ سی جے پی آئندہ بھی سیاسی جماعت کے بجائے ایک عوامی دباؤ گروپ کی حیثیت سے ہی کام کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ دو روزہ ’کاکروچ کانکلیو‘ میں ملک بھر میں تنظیم کو وسعت دینے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ای ۲۰؍ ایندھن، بے روزگاری اور ملک کے معاشی بحران جیسے اہم موضوعات پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: یونانی اور آیوروید ڈاکٹروں کو ’جعلی یا نیم حکیم‘ کہنا مہنگا پڑ سکتا ہے

پریس کانفرنس کے دوران سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے احتجاجی طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جن طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا اور جنہیں پیلٹ گن کے استعمال سے بینائی سے محروم ہونا پڑا، سی جے پی ان کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک کے پہلے ہی دن سے تنظیم ملک بھر کے تمام زخمی مظاہرین کو طبی اور قانونی امداد فراہم کر رہی ہے۔سوربھ داس نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں کئی ریاستوں میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تحریک میں شریک کم عمر لڑکیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ڈاکسنگ مہم چلانے والے بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامیوں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے بھی سی جے پی سرگرم عمل ہے۔اس موقع پر ابھجیت دیپکے اور سوربھ داس نے کہا کہ معروف سماجی کارکن سونم  وانگ چک آئندہ بھی سی جے پی کے سرپرست کی حیثیت سے رہنمائی کرتے رہیں گے، جبکہ جھارکھنڈ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی عوامی تحریکوں کو سی جے پی مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ یاد رہے کہ جھارکھنڈ میں اس وقت احتجاج جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK