Updated: April 09, 2026, 9:00 AM IST
| Moscow
اقوام متحدہ کے مطابق سفارتی کوششوں کا کوئی متبادل نہیں ہونا چاہئے۔ فرانس ، ترکی ، برطانیہ ، جرمنی ، یورپی یونین اور بین الاقوامی نوکلیائی ایجنسی نے سفارتی کوششوں کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا، اسپین نے بھی خیر مقدم کیا لیکن کہا کہ ’’ہم دنیا کو آگ میں جھونکنے والوں کی ستائش نہیں کرسکتے ‘‘، روس نے کہاکہ’’ امریکی کی بری طرح شکست ہوئی اور یہ سبھی کو نظر بھی آرہی ہے۔‘‘
تہران کے مرکزی علاقے میں منگل کی شب یہ نظارہ تھا، عوام اپنے قومی پرچم کے ساتھ سڑکوں پر تھے ۔تصویر بشکریہ ایکس
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران۲؍ ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں۔ اس خبر سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی ہے۔ کئی ممالک نے اس جنگ بندی کا استقبال کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ حالات اب دھیرے دھیرے بہتری کی طرف بڑھیں گے۔جنگ بندی کا استقبال جرمنی، فرانس، یوکرین، برطانیہ اور اسپین جیسے ممالک نے کیا ہے۔ خلیجی ممالک نے تو اس جنگ بندی کے فیصلہ سے راحت کی سانس لی ہےکیونکہ وہاں امریکی ٹھکانوں پر ایران لگاتار حملے کر رہا تھا۔ اس سے خلیجی ممالک میں جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔
روس کا ردعمل
حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے فوجی حملوں کو ۲؍ ہفتوں کے لئے روکنے پر اتفاق ظاہر کئے جانے کے بعد روس نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کے مطابق اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شکست ہوئی ہے۔ماریہ زخارووا نے کہا کہ ۲۸؍ فروری کو ایران پر بغیر اُکساوے کے کئے گئے یکطرفہ حملہ میں دونوں (امریکہ و اسرائیل) کی قریبی شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے اسپوتنک ریڈیو پر کہا کہ ’’ہمارے ملک نے شروع سے ہی کہا تھا کہ اس حملہ کو فوراً روکنا ضروری ہے۔ فوراً ایک سیاسی و سفارتی حل شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی، جو مذاکرہ کے عمل پر مبنی ہو اور جس میں سبھی فریقین کے حالات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
فرانس نے کیا کہا؟
جنگ بندی کا اعلان ہونے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے اسے بہت اچھا قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پرپوسٹ کی کہ ’’یہ معاہدہ علاقہ میں کشیدگی کم کرنے کی سمت میں مثبت پیش رفت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے تنبیہ دی کہ لبنان کی حالت انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے، اس جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چا ہئے تاکہ پورے خطہ میں وسیع اور مستقل امن قائم کیا جا سکے۔
جرمن چانسلر کا ردعمل
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرج کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں کے ذریعہ جنگ کا مستقل حل نکالا جانا چاہیے۔
یوکرین بھی جنگ بند کرنے پر راضی
یوکرینی وزیر خارجہ اینڈری سبیہا نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے کھلنے کا استقبال کرتے ہوئے امریکہ کو مشورہ دیا کہ اسے اسی طرح روس کو بھی یوکرین کے خلاف جنگ روکنے کے لئے مجبور کرنا چاہیے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بھی کہا کہ یوکرین بھی اسی طرح جنگ بند کرنے پر راضی ہے۔ اگر امریکہ روس پر دبائو ڈال کر اسے تیار کرتا ہے تو ہم بھی اپنی جانب سے جنگ بند کردیں گے ۔
اسپین کی کھری کھری
دوسری طرف اسپین کے وزیر خارجہ نے ایران میں جنگ بندی کا تو استقبال کیا، لیکن لبنان میں حملے جاری رکھنے کے لیے اسرائیل پر تنقید بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ جنگ بندی پر اتفاق کے بعد بھی اسرائیل نے لبنان میں اپنی زمینی مہم جاری رکھنے کا دعویٰ کیا، اسے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ جوس مینوئل الباریز نے پبلک ریڈیو آر این آئی کو بتایا کہ ’’سبھی محاذ ختم ہونے چاہئیں اور سبھی محاذ کا مطلب لبنان بھی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ہم ان ممالک کو مبارکباد نہیں دے سکتے جنہوں نے پوری دنیا کو آگ میں جھونکنے کی کوشش کی ۔
ترکی کا ردعمل
ترکی کی وزارت خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔ترک وزارت خارجہ کے مطابق جنگ بندی پر مؤثر عملدرآمد نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے
سعودی عرب کا خیر مقدم
ادھر سعودی عرب نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے اورکہا کہ یہ جنگ بندی ایک جامع اور دیرپا امن کی بنیاد بنے گی۔