Inquilab Logo Happiest Places to Work

غرور کا سر نیچا، اَنا کا رنگ پھیکا، طاقت کا نشہ ہرن

Updated: April 09, 2026, 9:39 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

امریکہ کی ناک کٹ گئی۔ اسرائیل کا منہ کالا ہوگیا۔ ایران سرخرو ہوا اور اَب اس کے شہری شاندار جشن ِ فتح منا رہے ہیں۔ کیوں نہ ہو کہ اُن کا جذبہ خوفناک دھماکوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا، کیوں نہ ہو کہ اُن کے مصمم ارادوں نے مذموم ارادوں کو مٹی میں ملا دیا۔

Iran Supporter.Photo:PTI
ایرانی کی حامی۔ تصویر:پی ٹی آئی
امریکہ کی ناک کٹ گئی۔ اسرائیل کا منہ کالا ہوگیا۔ ایران سرخرو ہوا اور اَب اس کے شہری شاندار جشن ِ فتح منا رہے ہیں۔ کیوں نہ ہو کہ اُن کا جذبہ خوفناک  دھماکوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا، کیوں نہ ہو کہ اُن کے مصمم ارادوں نے مذموم ارادوں کو مٹی میں ملا دیا، کیوں نہ ہو کہ اُنہوں نے خونخوار طاقتوں کے جنگی منصوبے کی ہوا نکال دی، کیوں نہ ہو کہ وہ اپنی اعلیٰ قیادت سے محرومی کے باوجود کسی بھی مرحلے میں نہ تو جھکے نہ ہی کمزور پڑے، کیوں نہ ہو کہ اُنہوں نے اِس اُنتالیس چالیس روزہ جنگ میں بہت کچھ ثابت کردیا۔مثلاً یہ کہ وہ ہتھیاروں سے کم، جذبے سے زیادہ لڑ رہے تھے، مثلاً یہ کہ اُن میں جوش تو تھا ہی ہوش بھی تھا جس کے سبب اُنہوں نے کہیں بھی غلطی نہیں کی، مثلاً یہ کہ اُن کے خلاف جنگ سے پہلے جس بغاوت کی خبریں سرخیوں میں تھیں وہ بغاوت منصوبہ بند (اسپانسرڈ) تھی۔ 
اہل ایران نے جنگ کے ابتدائی چند دنوں ہی میں امریکہ و اسرائیل کا طاقت کا نشہ ہرن کردیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے انہوں نے جنگ کے بیانیہ میں سبقت حاصل کی مگر جھوٹ کا سہارا لئے بغیر، ورنہ جنگی پروپیگنڈہ جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ دُنیا بھر میں اس جنگ پر امریکہ و اسرائیل کو حمایت نہیں ملی مگر ایران کو ملتی رہی خواہ وہ خاموش حمایت رہی ہو، اِس کی سب سے بڑی مثال ناٹو کی ہے۔ جب ٹرمپ نے ناٹو میں شامل ملکوں سے مدد کی فریاد کی تو اُنہوں نے انکار کردیا۔ جنگی پروپیگنڈہ میں سبقت حاصل ہونے کے بعد اہل ایران نے نفسیاتی دوڑ میں آگے ہونے کی کوشش شروع کی اور ہر دھمکی کادیدہ دلیری سے جواب دیتے ہوئے ہر محاذ پر واشنگٹن اور تل ابیب کو زیر کرتے رہے۔ جب وہ اس میں بھی کامیاب ہوگئے تو حکمت کا دامن تھام کر برتری حاصل کرنے کی ابتداء کی اور آبنائے ہرمز کو بند کرکے واشنگٹن کو دن میں تارے دکھا دیئے۔ اس دوران تہران نے سفارتی فتح بھی حاصل کی اور شرطیں ماننے کے بجائے شرطیں منوانے کا خاکہ تیار کیا اور ایسے حالات پیدا کردیئے کہ واشنگٹن کے پاس اُنہیں قبول کرنے کے علاوہ چارہ نہیں رہ گیا تھا۔اس دوران ہر قدم پر ایرانی قوم اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی رہی۔ 
 
 
اب امریکہ اپنی پندرہ نکاتی فہرست لے کر مذاکرات کیلئے نہیں آئے گا، ایران کی دس نکاتی فہرست لے کر بیٹھے گا اور جتنے بھی نکات پر اتفاق کرنے پرمجبور ہوگا، فائدہ ایران ہی کا ہوگا۔ دیکھا جائے تو جنگ روکنے کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ کئی شرطیں مان چکا ہے اس کی ایک مثال جنگ کے نقصان کا ہرجانہ ہے۔ واشنگٹن اس بات پر رضامند ہے کہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگے اور اس سے ہونے والی خطیر آمدنی ایران کی تعمیر نو پر خرچ ہو۔ اس رضامندی میں ایک اَور رضامندی شامل ہے۔ وہ یہ کہ ہرمز پر ایران کا کنٹرول رہے گا۔
 
 
ٹرمپ ایران کو پتھر کے دور میں پہنچانے چلے تھے، ایران کی تہذیب مٹانے پر تُلے ہوئے تھے مگر پھر کیا ہوا؟ کسی نے اُن کے کان میں کہا کہ جناب، امریکی آئین کی ۲۵؍ ویں ترمیم سے ڈریئے جس کے ذریعہ آپ کو ہٹایا جاسکتا ہے یا پھر تحریک ِمواخذہ سے خوف کھایئے جو آپ کو بے دخل کرسکتی ہے اور اگر یہ بھی نہیں تو وسط مدتی انتخابات کی فکر کیجئے جس میں آپ کی پارٹی ہاری تو صدارت کی اُلٹی گنتی شروع ہوسکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسی وقت ایک چیونٹی اس بدمست ہاتھی کی سونڈ میں گھسی اور اس کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ٹرمپ نے اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ ایران سے ’’اچھے جذبہ‘‘ سے ملو! مگر یہ راہ راست پر آنا نہیں ہے۔ کل اسرائیل پھر بہکاسکتا ہے اور ٹرمپ پھر بہک سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK