بجلی کا بحران، بڑے پیمانے پر کوئلہ سپلائی کی تیاری

Updated: April 30, 2022, 1:49 AM IST | new Delhi

کوئلے کی ڈھلائی کیلئے۴۲؍ مسافر ٹرینیں منسوخ،مال گاڑیوں کی آمد و رفت میں اضافہ، کانگریس کی مودی حکومت پر شدید تنقید

The coal crisis is intensifying across the country due to which the power shortage in the country is more severe than in previous years.
ملک بھر میں کوئلہ کا بحران شدید ہو تا جارہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی قلت گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے شدید ترین ہے

 ملک بھر میں کوئلہ کا بحران  شدید ہو تا جارہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی قلت گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے شدید ترین ہے۔ اسی کے پیش نظر ریلوے نے ملک بھر  کےالگ الگ زون میں ۴۲؍ مسافر ٹرینیں منسوخ کی ہیں تاکہ ان کی جگہ  مال گاڑیوں کی آمد و رفت بڑھائی جائے اور بجلی پیداوار کے پلانٹس تک کوئلہ کی فراہمی جلد ممکن بنائے جاسکے ۔ واضح رہے کہ ملک بھر کے کئی بجلی پلانٹوں کے پاس ضروری ۲۱؍ دن سے بھی کم کوئلہ کا ذخیرہ باقی ہے۔ کچھ مقامات پر تو ایک دن کا ہی کول اسٹاک  بچا ہے جس سے بحران کی شدت کا اندازہ ہو تا ہے۔ ریلوے سے جاری تازہ احکامات میں کہا گیا ہے کہ ۴۲؍ ٹرینیں اگلے حکم تک منسوخ کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ۳۴؍ ٹرینیں ساؤتھ ایسٹ سینٹرل ریلوے اور اور ۸؍ٹرینیں ناردرن ریلوے زون کی ہیں۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اراکین پارلیمنٹ کی مخالفت کےبعد چھتیس گڑھ کی ۳؍منسوخ ٹرینوں کو بحال کیا گیا ہے۔جنگی سطح پر کوئلہ کی ڈھلائی کے لئے قدم اٹھائے تو جارہے ہیں لیکن  دہلی کے وزیر توانائی ستیندر جین نے کہا کہ پورے ملک میں کوئلہ کی شدید قلت ہے، کوئی بیک اپ نہیں ہیں، بجلی کا ذخیرہ بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ حالات سرکا ر نے کیوں پیدا ہونے دئیے ۔  دہلی  کے پلانٹس میں  صرف ایک دن ہی کا کوئلہ باقی ہے جبکہ۲۱؍ دنوں کا کوئلہ ہونا چاہئے تھا۔  اس تعلق سے جہاں دہلی حکومت نے مرکز کو آگاہ کیا ہے وہیں کانگریس نے مرکز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نےٹویٹ کیا ہے جس میں مودی حکومت سے کچھ سوالات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’آج ۲۹؍اپریل کو ۱۱؍بجے تک ملک میں بجلی کی طلب ۱۲؍ ہزار میگاواٹ ہے۔ آج اینرجی ایکسچینج میں بجلی کی   کی قیمت ۱۲؍ روپے فی یونٹ ہے۔ اگر مرکزی حکومت آگے بڑھ کر مدد نہیں کرے گی تو ریاستیں مہنگی بجلی کیسے خریدیں گی؟ اب تو ۱۲؍ روپے میں بھی بجلی نہیں ملتی ہے۔اب بجلی کے لئے ریاستیں کریں تو کیا کریں ؟‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK