مشہور فیشن برانڈ ’’ پراڈا ‘‘ نے ہندوستانی چائے کی خوشبو کو بوتل میں قید کردیا، جس میں صندل اور الائچی کے خوشبودار عناصر بھی شامل ہیں۔ جانئے تفصیل۔
EPAPER
Updated: January 10, 2026, 2:10 PM IST | Milan
مشہور فیشن برانڈ ’’ پراڈا ‘‘ نے ہندوستانی چائے کی خوشبو کو بوتل میں قید کردیا، جس میں صندل اور الائچی کے خوشبودار عناصر بھی شامل ہیں۔ جانئے تفصیل۔
اگر آپ ہندوستانی چائے کے شوقین ہیں تو یہ خبر خاص طور پر آپ ہی کے لیے ہے۔ لگژری برانڈ پراڈا نے ’’انفیوژن ڈی سنٹل چائے‘‘ نامی ایک پرفیوم لانچ کیا ہے جو ہندوستانی چائے سے متاثر ہے۔ جو لوگ دن میں کئی بار چائے پئے بغیر نہیں رہ سکتے، ان کے لیے یہ پرفیوم یقیناً ایک دلچسپ انتخاب ہے۔ اب آپ اس مانوس خوشبو کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں جو برسوں سے آپ کے موڈ کو خوشگوار بناتی آئی ہے۔یہ خوشبو پراڈا کے یونیسیکس ’’لیز انفیوژنز‘‘کلیکشن کا حصہ ہے اور اسے محض ایک خوشبو کی بجائے ایک تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’۱۰؍ منٹ میں ڈیلیوری‘ کا مستقبل خطرے میں
دریں اثناء اس نئے پرفیوم کا اعلان ۷؍ جنوری کو پراڈا کے سوشل میڈیا چینل پر کیا گیا۔ منرل ویڈیو میں صرف ایک براؤن رنگ کی پرفیوم بوتل دکھائی گئی ہے، جس میں کریمی چائے کو صندل کی چھال پر بہتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور پس منظر میں سبز الائچی کے دانے نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ الائچی مسالہ چائے کا ایک اہم جزو ہے۔پراڈا بیوٹی کی ویب سائٹ کے مطابق، انفیوژن ڈی سنٹل چائے میں صندل کی لکڑی اور دودھ جیسی خوشبو ہے۔ پرفیوم کی کلیدی عنصر میں چائے، لٹے ایکارڈ، صندل، کھٹی مہک اور مشک شامل ہیں۔ بعد ازاں برانڈ اس خوشبو کو اس طرح بیان کرتا ہے، ’’یہ پرفیوم کریمی صندل کو چائے لٹے کے مسالہ دار نوٹس کے ساتھ جوڑتا ہے، جس میں تازہ اور الائچی کی مہک کے ساتھ مشک کی صاف اور دل کو چھو لینے والی خصوصیات بھی شامل ہیں۔‘‘ سیدھے الفاظ میں، اس کی خوشبو گرم اور نرم محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فوڈ ڈلیوری ایپ کے صارفین اضافی قیمتوں سے نالاں
تاہم اس پرفیوم کی قیمت ۱۹۰؍ ڈالر (تقریباً ۱۷۰۸۳؍ روپے) رکھی گئی ہے، جو اسے ایک لگژری مصنوعاتبناتی ہے اور عام صارفین کے لیے آسانی سے خریدنے کے قابل نہیں۔ واضح رہے کہ پراڈاپر ہندوستان کے اثرات کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔گزشتہ سال میلان فیشن شو کے دوران، ماڈلز نے روایتی کولہاپوری چپل سے مشابہت رکھنے والی چپل پہن کر رن وے پر واک کی تھی۔ اس وقت برانڈ پر ثقافتی چوری کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔