ہندوستان میں کورونا وبا کے دوران ضروری اشیاء کی تیز تر ڈیلیوری کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا اور اسی دور سے یہ ماڈل مقبول ہوا۔
باندرہ کے ہل روڈ پر ڈیلیوری بوائز نظر آرہے ہیں۔ تصویر : انقلاب:آشیش راجے
ہندوستان میں۱۰؍ منٹ میں ڈیلیوری یعنی ’کوئک ڈیلیوری ماڈل‘ تیزی سے مقبول ہوا ہے لیکن اب اس ماڈل کا مستقبل خطرےمیں نظر آرہا ہے۔ نئے سال کی آمد سے ایک دن پہلے گگ ورکرز نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس میں پورے ملک سے تقریباً ۲؍لاکھ سے زائد رائیڈرز شامل ہوئے۔ گگ ورکرز مناسب اجرت، تحفظ اور عزت کی مانگ کر رہے ہیں جبکہ یونین لیڈروں کا کہنا ہے کہ مسئلے کی جڑ ۱۰؍منٹ کی ڈیلیوری کی ڈیڈ لائن ہے جسے ختم کئے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔درحقیقت ہندوستان میں کورونا وبا کے دوران ضروری سامان کی تیز ڈیلیوری کی مانگ بڑھی اور یہیں سے یہ ماڈل مقبول ہوا۔ اُس وقت آدھے گھنٹے کے اندر ڈیلیوری بھی بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی لیکن جیسے جیسے حالات معمول پر آئے ہندوستان میں یہ ماڈل مزید تیزی سے پھیلتا چلا گیا اور دواؤں سے لے کر روزمرہ کی ضروریات تک ہر چیز ۱۰؍منٹ میں پہنچانے کے دعوے کئے جانے لگے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، بلنکٹ، سوگی انسٹا مارٹ اور زیپٹو جیسی کمپنیوں نے ڈارک اسٹورز یا ڈارک ویئرہاؤسیز پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ چھوٹے گودام شہروں کے اندر بنائے جاتے ہیں تاکہ آرڈرز کو نہایت کم وقت میں پورا کیا جا سکے۔ ابتداء میں مکیش امبانی، امیزون، وال مارٹ اور فلپ کارٹ بھی اس دوڑ میں پیچھے تھے لیکن اب وہ بھی ’کوئک کامرس‘ میں بھاری سرمایہ لگا رہے ہیں۔ایک ریئل اسٹیٹ فرم کے اندازے کے مطابق۲۰۳۰ء تک ملک میں ڈارک اسٹورز کی تعداد۲؍ ہزار۵؍سو سے بڑھ کر۷؍ہزار۵؍سو تک پہنچ سکتی ہے اور یہ ماڈل چھوٹے شہروں تک پھیل جائے گا۔حالیہ ہڑتال نے کوئک ڈیلیوری ماڈل کی حقیقت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ ایپس یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ ڈرائیورز کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتیں لیکن گگ ورکرز کا کہنا ہے کہ ڈیلیوری میں تاخیر پر خراب ریٹنگ، سپروائزرز کا دباؤ اور مالی جرمانے انہیں تیز اور خطرناک ڈرائیونگ پر مجبور کرتے ہیں۔ تنگ سڑکوں، خراب ٹریفک نظام اور آلودگی سے دوچار شہروں میں کام کرنا پہلے ہی خطرناک ہے۔ قومی دارالحکومت دہلی میں ماحولیاتی آلودگی کےد وران خراب ہوا بھی رائیڈرز کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ہڑتال سے پہلے ہی سرمایہ کار نئے لیبر کوڈ کے تحت گگ ورکرز کو تحفظ دیئے جانے کے معاملے پر فکرمند تھے۔ اکتوبر کے بعد سے سوگی اور ایٹرنل (زومیٹو اور بلنکٹ کی پیرنٹ کمپنی) کے شیئرز میں تقریباً ۲۰؍فیصد تک کمی آ چکی ہے۔کوئک کامرس کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ہڑتال کا ان کے آپریشنز پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ ایٹرنل کے سی ای او دیپیندر گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ۳۱؍ دسمبر کو ڈیلیور کئے گئے آرڈرز ۷ء۵؍ملین تھے۔ انہوں نے ہڑتال کیلئے کچھ ’شرارتی عناصر‘کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
گوئل کا کہنا ہے کہ ۱۰؍ منٹ کی ڈیلیوری تیز بائیک چلانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہر علاقے میں موجود مضبوط انفراسٹرکچر کی بدولت ممکن ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، رائیڈرز کی اوسط رفتار تقریباً۱۶؍ کلومیٹر فی گھنٹہ رہتی ہے۔ کمپنی ڈرائیورز کے انشورنس کی ادائیگی کرتی ہے اور لاگ ان رہنے پر وہ اوسطاً۱۰۲؍ روپے فی گھنٹہ تک کما سکتے ہیں لیکن یہی اعداد و شمار اس ماڈل کی حدود کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ اگر اوسط آمدنی کو دیکھا جائے تو ماہانہ تقریباً۲۱؍ ہزار روپے کمانے کیلئے بھی رائیڈرز کو مسلسل طویل اوقات تک کام کرنا پڑتا ہے جو ہر کسی کیلئے ممکن نہیں۔