Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے این سی پی پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں‘‘

Updated: March 26, 2026, 12:40 AM IST | Mumbai

روہت پوار کا دعویٰ، ۱۶؍ فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کے تمام اختیارات کارگزار صدر کو سونپنے کی اطلاع دی تھی، سونیترا پوار نے اسے کالعدم قرار دینے کیلئے خط لکھا

Are Tatkare and Patel conspiring with BJP?, Inset Rohit Pawar
تٹکرے اور پٹیل بی جے پی سے مل کر کوئی سازش کر رہے ہیں؟ ، انسیٹ روہت پوار

 این سی پی (اجیت) کی سربراہ اور اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ اجیت پوار کی وفات اور ان کے باضابطہ طور پر پارٹی کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے درمیان کی مدت میں اگر کسی نے پارٹی کی طرف سے کوئی خط وکتابت کی ہو تو اسے معتبر نہ سمجھا جائے۔ یعنی اس خط میں کہی گئی بات پر کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ سونیترا پوار کے ا س خط سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اجیت پوار کے بھتیجے اور این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے دعویٰ کیا ہے کہ پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے جیسے لیڈران اجیت پوار کی موت کے بعد پارٹی پر قبضہ جمانا چاہتے تھے۔ اسی لئے سونیترا چاچی کو اس طرح کا خط الیکشن کمیشن کو لکھنا پڑا۔ 
 بدھ کو روہت پوار نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ’’ اجیت پوار کی موت کے صرف ۱۸؍ دنوں بعد پارٹی کے کار گزار صدر پرفل پٹیل، ریاستی صدر سنیل تٹکرے  اور قومی جنرل سیکریٹری برج موہن شریواستو نے پارٹی پر قبضے کی تگ ودو شروع کر دی تھی۔ ‘‘ روہت پوار کے مطابق ’’انہوں نے ۱۶؍ فروری کو الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ گمراہ کن اطلاع دی گئی تھی کہ این سی پی کا آئین تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب پارٹی کے سارے اختیارات کارگزار صدر کے پاس ہوں گے۔ اس وقت کارگزار صدر پرفل پٹیل ہیں۔ ‘‘
 یاد رہے کہ اجیت پوار کی ناگہانی موت ۲۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ہوئی تھی اور ان کی جگہ ان کی بیوہ سونیترا پوار نے ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے سونیترا پوار کو نائب وزیر اعلیٰ تو بنا دیا لیکن اجیت پوار کے پاس جو سب سے اہم قلمدان تھا وزارت مالیات کا وہ لے لیا۔ سونیترا پوار صرف اقلیتی امور، کھیل کود اورایکسائز کی وزیر بنائی گئیں۔ ادھر پارٹی نے سونیترا پوار کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کا اعلان تو کر دیا تھا لیکن باضابطہ طور پر انہیں یہ عہدہ ۲۶؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ایک میٹنگ میں سونپا گیا۔ اگر روہت پوار کی بات پر یقین کیا جائے تو اسی عرصے کے دوران مذکورہ تینوں لیڈران نے سونیترا پوار کو درکنار کرکے پارٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ 
 روہت پوار کا کہنا ہے کہ ’’ نہ تو سونیترا چاچی، نہ جے پوار اورنہ ہی پارتھ پوار، ان لوگوں نے کسی کو بھی آگاہ نہیں کیا ، نہ ہی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لیا۔ پارٹی صدر بننے کے بعد سونیترا چاچی کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ ۲۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء ( اجیت پوار کی موت کی تاریک )اور ۲۶؍ فروری ۲۰۲۶ء ( ان کے پارٹی صدر بننے کی تاریخ) کے درمیان اگر پارٹی کی جانب سے کوئی خط الیکشن کمیشن کو کوئی خط ملا ہو تو اس پر عمل نہ کیا جائے۔  ‘‘ روہت پوار نے مرکزی وزیر پیوش گوئل کے اس بیان کو بھی یاد دلایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پرفل پٹیل اب این سی پی کے قومی صدر ہیں۔ جب میڈیا میں ہنگامہ ہوا تو گوئل نے کہا کہ یہ بات انہوں نے غلطی سے کہہ دی تھی۔ روہت پوار کا کہنا ہے کہ پیوش گوئل کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ این سی پی پر قبضے کی کوشش ان لیڈران کی جانب سے پہلے سے جاری تھی۔ یہ پوری طرح ایک منظم منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں روہت پوار نےاس الزام کو بھی دہرایا کہ اجیت پوار کی حیات میں پونے میں سہیوگ سوسائٹی میںواقع ان کے گھر کے باہر ’اگھوری پوجا‘ کروائی گئی تھی۔ وہ کس کے کہنے پر کروائی گئی تھی؟ اس پوجا میں یہی شخص اشوک کھرات شامل تھا جس پر خواتین کے جنسی استحصال کا الزام تھا اور جو اس وقت جیل میں ہے۔ یاد رہے کہ ’اگھوری پوجا‘ مبینہ طور پر کسی کی جان لینے کیلئے کی جاتی ہے۔ اجیت پوار کے سب سے قریبی کہے جانے والے رکن اسمبلی امول مٹکری نے سب سے پہلے یہ الزام لگایا تھا۔
  روہت پوار نے سوال اٹھایا کہ ۲۷؍ جنوری کو ہوئی میٹنگ میں کیا باتیں ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے میٹنگ میں تاخیر ہوئی ( اور اجیت پوار کو بارامتی کا سفر ملتوی کرنا پڑا)رکن اسمبلی نےکہا کہ اسمبلی کے سیشن میں این سی پی کی جانب سے ایک یا ۲؍ اراکین کو چھوڑ کر کسی نے بھی اجیت پوار کی موت کی جانچ کے تعلق سے آوازنہیں اٹھائی کیونکہ ان پر پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے کا دبائو تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ کوئی بھی اجیت پوار کی موت کے تعلق سے ایوان میں بات نہیںکرے گا۔روہت پوار نے اپنی چاچی سونیترا پوار کو ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا کیونکہ پارٹی میں ان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینا آپ کیلئے ضروری ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK