Updated: August 07, 2026, 1:42 PM IST
| Paraguay
یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کے دوران چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ کے مشہور چڑیا گھر نے جانوروں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ چڑیا گھر کے عملے نے قطبی ریچھوں، ہاتھیوں، اوٹرز، طوطوں اور دیگر جانوروں کے لیے برف کے بڑے ڈھیر، منجمد پھلوں سے تیار کردہ آئس کریم نما ٹریٹس اور ٹھنڈے کھانے فراہم کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جانوروں کو صرف گرمی سے بچانے کے لیے نہیں بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی سرگرمی بڑھانے کے لیے بھی کیے جا رہے ہیں۔
یورپ میں درجہ حرارت مسلسل بڑھنے اور شدید گرمی کی نئی لہر کے باعث چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ کے مشہور چڑیا گھر نے اپنے جانوروں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ زو انتظامیہ نے مختلف جانوروں کے لیے برف کے بڑے ڈھیر، منجمد پھلوں سے تیار کردہ آئس کریم نما خوراک اور دیگر ٹھنڈے تحفے فراہم کیے تاکہ وہ شدید گرمی میں بھی آرام دہ ماحول میں رہ سکیں۔سب سے زیادہ توجہ چڑیا گھر کے دو قطبی ریچھ Aleut اور Gregor نے حاصل کی، جو اپنے باڑے میں لائے گئے برف کے ڈھیروں پر لوٹتے، کھیلتے اور ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔ زو کے ترجمان فلپ ماسیک نے کہا کہ ’’قطبی ریچھ برف سے نہ صرف خود کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ یہ ان کے لیے تفریح اور ذہنی سرگرمی کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔‘‘
چڑیا گھر کے مطابق اس سال بھی جانوروں کے لیے جولائی اور اگست میں خصوصی طور پر کئی ٹن برف کا انتظام کیا گیا تھا، تاہم گرمی کی شدید لہر معمول سے پہلے آ جانے کی وجہ سے برف کی فراہمی بھی پہلے شروع کرنا پڑی۔ چیک جمہوریہ نے رواں برس جون کے آخر میں اپنی تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت ۹ء۴۱؍ ڈگری سیلسیس کا بھی ریکارڈ دیکھا، جس کے بعد انتظامیہ نے گرمی سے نمٹنے کے منصوبوں پر نظرثانی کی۔ ترجمان فلپ ماسیک نے کہا کہ ’’موسم ہمیں مسلسل حیران کر رہا ہے۔ اس تجربے سے ہم نے سبق سیکھا ہے اور آئندہ برس جانوروں کے لیے برف کا انتظام مزید پہلے سے کر لیا جائے گا۔‘‘ چڑیا گھر کے مطابق صرف قطبی ریچھ ہی نہیں بلکہ دیگر جانوروں کے لیے بھی مختلف طریقے اختیار کیے گئے ہیں۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی گوریلوں کو منجمد پھلوں سے تیار کردہ آئس بلاکس اور آئس کریم نما خوراک دی گئی، جبکہ ہاتھیوں، اوٹرز اور طوطوں کو بھی ٹھنڈک فراہم کرنے کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ بعض جانوروں نے سایہ دار مقامات اور پانی کے تالابوں کا استعمال کیا، جبکہ گرمی برداشت کرنے والے جانوروں کے لیے قدرتی ماحول برقرار رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: SpaceX راکٹ کا چاند سے ۸۷۰۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تصادم
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو سال قبل موسمیاتی تبدیلی اور یورپ میں بڑھتے ہوئے شدید درجہ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہر موسمِ گرما میں جانوروں کے لیے برف، ٹھنڈے پھل، منجمد خوراک اور پانی کے اضافی انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ وہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ماہرین کے مطابق یورپ میں مسلسل آنے والی ہیٹ ویوز نہ صرف انسانوں بلکہ جنگلی حیات اور چڑیا گھروں میں موجود جانوروں کے لیے بھی بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ اسی لیے دنیا کے کئی بڑے چڑیا گھر اب جانوروں کے لیے Frozen Treats، Ice Enrichment اور جدید کولنگ سسٹمز استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان کی صحت، رویّے اور فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جا سکے۔