معروف آئرش ادیب اور شاعر آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی برتھ ڈے آف اِنفانتا‘‘ The Birthday of the Infantaکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 6:17 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
معروف آئرش ادیب اور شاعر آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی برتھ ڈے آف اِنفانتا‘‘ The Birthday of the Infantaکا اردو ترجمہ۔
اسپین کے شاہی محل میں اس دن صبح ہی سے غیر معمولی رونق تھی۔ محل کے بلند دروازوں، سنگِ مرمر کی سیڑھیوں اور وسیع صحنوں کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ ہر طرف رنگ برنگے جھنڈے لہرا رہے تھے اور محل کے باغ میں فوارے دھوپ کی روشنی میں اس طرح چمک رہے تھے جیسے پانی کے ننھے ننھے موتی ہوا میں بکھر رہے ہوں۔ آج شہزادی کی سالگرہ تھی۔ وہ صرف بارہ برس کی تھی، مگر شاہی خاندان میں اس کی حیثیت ایسی تھی کہ پورا محل اس کے ایک دن کی خوشی کیلئے تیار کیا گیا تھا۔
درباری صبح سے اپنے بہترین لباس پہن کر ادھر اُدھر مصروف تھے۔ موسیقار اپنے ساز آزما رہے تھے، باورچی شاہی ضیافت کی تیاری میں لگے تھے اور محل کے باغبان پھولوں کی آخری ترتیب درست کر رہے تھے۔ شہزادی کو سب سے زیادہ باغ پسند تھا۔ اس باغ میں سنگِ مرمر کے مجسمے، تراشے ہوئے درخت، خوش رنگ پھول، چھوٹے تالاب اور دور تک پھیلی ہوئی ہریالی تھی۔ فواروں کے قریب سفید کبوتر پھڑپھڑاتے پھرتے اور درختوں کے درمیان سنہری پنجرے لٹکے ہوئے تھے جن میں نایاب پرندے قید تھے۔
شہزادی نے اپنی زندگی میں بہت سے جشن دیکھے تھے، لیکن آج کا دن خاص تھا۔ اس کے والد، بادشاہ، چاہتے تھے کہ اس کی سالگرہ ایسی ہو جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے۔ شہزادی نے ہلکے رنگ کا خوبصورت لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے بالوں میں پھول سجائے گئے تھے اور گلے میں موتیوں کی چھوٹی سی مالا تھی۔ اس کے چہرے پر بچپن کی بے فکری اور شاہی تربیت کی سنجیدگی دونوں ساتھ ساتھ نظر آ رہی تھیں۔ دوپہر کے قریب جشن شروع ہوا۔ سب سے پہلے موسیقی بجائی گئی۔ پھر فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ کوئی جادو کے کرتب دکھا رہا تھا، کوئی گیت گا رہا تھا، کوئی عجیب و غریب جانوروں کے ساتھ کھیل پیش کر رہا تھا۔ لیکن شہزادی کیلئے سب سے زیادہ دلچسپ پروگرام ابھی باقی تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے تماشے کا انتظار کر رہی تھی جس کا ذکر کئی دنوں سے محل میں ہو رہا تھا۔ ایک بونا۔ ایک ایسا بونا جسے جنگل سے پکڑ کر محل لایا گیا تھا اور جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ نہایت عجیب و غریب شکل و صورت رکھتا ہے۔ اسے محل کے لوگوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا مگر آج اسے شہزادی کی تفریح کیلئے پیش کیا جانا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دھاگے کا ٹکڑا
وہ بونا جنگل میں پیدا ہوا تھا۔ اسے دنیا کے حسن اور بدصورتی کے فرق کا کوئی علم نہ تھا۔ اس نے کبھی آئینہ نہیں دیکھا تھا، نہ کسی نے اسے بتایا تھا کہ انسانوں کی نظر میں وہ دوسروں سے مختلف ہے۔ جنگل میں وہ پرندوں، درختوں اور جانوروں کے درمیان خوش رہتا تھا۔ اس کیلئے دنیا خوبصورت تھی۔ وہ پھولوں کو دیکھ کر خوش ہوتا، تتلیوں کے پیچھے بھاگتا، درختوں کی شاخوں کے نیچے کھیلتا اور کبھی کبھی جنگل کی خاموشی میں اپنے ہی بنائے ہوئے گیت گاتا۔ اسے اپنے جسم کی ساخت پر کوئی شرمندگی نہ تھی۔ اس نے کبھی خود کو بدصورت نہیں سمجھا تھا کیونکہ اس نے خود کو کسی دوسرے کی آنکھ سے دیکھا ہی نہیں تھا۔
ایک دن محل کے شکاری جنگل پہنچے۔ وہاں انہیں وہ بونا نظر آیا۔ اس کی عجیب و غریب شکل دیکھ کر وہ پہلے تو حیران ہوئے، پھر ہنسنے لگے۔ بونا بھی ان کے ساتھ ہنس دیا کیونکہ اسے لگا کہ شاید وہ بھی اس کے کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ شکاریوں نے اسے کھانے کی کچھ چیزیں دیں، اسے بہلایا اور اپنے ساتھ محل لے آئے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ اس کیلئے یہ ایک نیا کھیل تھا۔ جب وہ محل پہنچا تو ہر چیز اس کیلئے حیرت کا باعث تھی۔ اونچی دیواریں، چمکتے ہوئے فرش، سونے کی آرائش، خوبصورت لباس پہنے لوگ اور ہر طرف روشنی ہی روشنی۔ اسے لگا جیسے وہ کسی خواب میں داخل ہو گیا ہو۔ محل کے لوگوں نے اسے دیکھ کر قہقہے لگائے۔ وہ بھی ہنستا رہا۔ جب کوئی اسے دیکھ کر تالیاں بجاتا تو وہ خوشی سے جھک کر سلام کرتا۔ جب کوئی اس کی چال کی نقل اتارتا تو وہ سمجھتا کہ لوگ اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ لوگ اس پر ہنس رہے ہیں۔ اس دن اسے پہلی مرتبہ ایک ایسے جشن میں پیش کیا جانا تھا جہاں سیکڑوں لوگ اس کی شکل و صورت کو تفریح سمجھ کر دیکھنے والے تھے۔
اور ان سب میں سب سے اہم شخص خود شہزادی تھی۔ جشن اپنے عروج پر تھا۔ موسیقی کی آواز بلند ہوئی۔ اسی وقت محل کے ایک دروازے سے بونا اندر داخل ہوا۔ وہ اپنی معمول کی بے فکری کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس نے شہزادی کو دیکھا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ اسے معلوم تھا کہ یہی وہ بچی ہے جس کیلئے آج اتنا بڑا جشن منعقد کیا گیا ہے۔ وہ اس کے سامنے پہنچا، جھکا اور پھر اپنی مخصوص مضحکہ خیز چال میں ناچنے لگا۔ محل قہقہوں سے گونج اٹھا۔ بونا بھی ہنس رہا تھا۔ اسے لگا کہ وہ سب کو خوش کر رہا ہے۔ شہزادی بھی ہنس رہی تھی۔ وہ اس کی حرکتوں سے بے حد محظوظ ہو رہی تھی۔ کسی نے اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ جس چیز کو محبت اور خوشی سمجھ رہا ہے، وہ دراصل دوسروں کیلئے تماشہ ہے۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جب بونے نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید آج کی دنیا واقعی اس کیلئے نئی خوشیوں سے بھری ہوئی ہے۔
بونا اپنی چھوٹی چھوٹی ٹانگوں کو پوری پھرتی سے حرکت دے رہا تھا۔ کبھی وہ ایک طرف اچھلتا، کبھی دوسری طرف گھومتا اور کبھی اپنے ہاتھوں کو اس انداز میں لہراتا کہ اسے دیکھنے والے بے اختیار ہنس پڑتے۔ اس کیلئے یہ سب ایک خوشگوار کھیل تھا۔ وہ جتنا زیادہ لوگوں کو ہنستا دیکھتا، اتنا ہی خوش ہوتا جاتا۔ اسے لگتا تھا کہ آج کے جشن میں سب لوگ اسے پسند کر رہے ہیں اور شاید شہزادی بھی اسے دوسروں سے زیادہ پسند کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کینٹروِل کا بوڑھا بھوت
شہزادی اپنی نشست پر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کی حرکتوں سے اس قدر محظوظ ہو رہی تھی کہ کئی مرتبہ ہنستے ہنستے اپنی سہیلیوں کے کندھے سے لگ جاتی۔ جب بونا کوئی نئی حرکت کرتا تو وہ تالیاں بجاتی اور اسے دوبارہ کرنے کا اشارہ کرتی۔ بونے کیلئے یہ سب کسی خواب سے کم نہ تھا۔ اس نے کبھی کسی شاہی محل میں قدم نہیں رکھا تھا۔ نہ کبھی اتنے لوگوں کو ایک ساتھ دیکھا تھا، نہ کبھی کسی شہزادی کے سامنے رقص کیا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کی شکل دوسروں سے مختلف ہے۔ جنگل میں اس نے کبھی آئینہ نہیں دیکھا تھا، اس لئے وہ اپنے چہرے اور جسم کو ویسا ہی سمجھتا تھا جیسا قدرت نے اسے بنایا تھا۔ وہ پھولوں کو خوبصورت سمجھتا تھا، پرندوں کے گیتوں کو خوبصورت سمجھتا تھا، نیلے آسمان کو خوبصورت سمجھتا تھا اور جب کسی خوبصورت تتلی کو دیکھتا تو دیر تک اس کے پیچھے بھاگتا رہتا۔ اسے اپنے بارے میں ایسا کچھ معلوم نہ تھا جس پر اسے شرمندہ ہونا چاہئے۔
بونے کی حرکتوں پر لوگ ہنستے ہنستے دوہرے ہو رہے تھے۔ اسے اپنی مقبولیت پر فخر محسوس ہونے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید محل ہی اس کی اصل جگہ ہے۔ اسے جنگل کی یاد بھی نہیں آ رہی تھی۔ وہاں اس کے ساتھ ہنسنے والا کوئی نہ تھا، مگر یہاں سیکڑوں لوگ تھے۔ یہ خیال اس کے دل میں ایک نئی خواہش پیدا کرنے لگا۔ کاش وہ ہمیشہ یہیں رہ سکے۔ کاش وہ روزانہ شہزادی کیلئے ناچے اور اسے خوش کرے۔ اس نے کبھی محبت کو اس نام سے نہیں جانا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہو رہی تھی جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اسے شہزادی بہت اچھی لگ رہی تھی۔ جب وہ اس کی طرف دیکھتی تو بونے کا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ شہزادی اسے صرف ایک دلچسپ کھلونا سمجھ رہی ہے۔ اس کیلئے بونا ایک تماشے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔
جشن کے اختتام پر شہزادی کیلئے محل کے اندر ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ بونے کو بھی دوبارہ بلایا گیا تاکہ وہ کھانے کے بعد کوئی نئی حرکت دکھا سکے۔ وہ تھک چکا تھا، مگر خوشی نے اسے تھکن محسوس نہیں ہونے دی۔ وہ شہزادی کے سامنے پھر ناچا۔ شہزادی ہنستی رہی۔ پھر اچانک بونا کسی چیز سے ٹکرا کر گر پڑا۔ پورا دربار قہقہوں سے گونج اٹھا۔ بونا بھی زمین سے اٹھ کر ہنسنے لگا لیکن اس بار اس کے دل میں ایک عجیب سی جھجھک پیدا ہوئی۔ نہ جانے کیوں اسے محسوس ہوا کہ لوگ اس کے ساتھ نہیں، اس پر ہنس رہے ہیں۔ یہ احساس ابھی بہت ہلکا تھا۔ اس نے اسے فوراً دل سے نکال دیا۔
کچھ دیر بعد اسے محل کے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں۔ وہاں ایک بڑا آئینہ بھی تھا۔ وہ چند لمحے حیرت سے اس کے سامنے کھڑا رہا۔ اسے لگا کہ آئینے میں کوئی دوسرا عجیب سا شخص کھڑا ہے۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔ آئینے والا بھی پیچھے ہٹ گیا۔ وہ دائیں طرف ہوا۔ آئینے والا بھی دائیں طرف ہو گیا۔ وہ ہاتھ اٹھاتا تو سامنے والا بھی ہاتھ اٹھا دیتا۔ بونا حیران رہ گیا۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ اپنے چہرے، اپنے جسم اور اپنے چھوٹے قد کو غور سے دیکھا۔ اس کے چہرے پر حیرت کی جگہ خوف آنے لگا۔ ’’یہ کون ہے؟‘‘ اس نے بے اختیار کہا۔ پھر اچانک اسے سمجھ آ گیا۔ آئینے میں کوئی دوسرا نہیں تھا۔ وہ خود تھا۔ اس کا چہرہ... اس کا جسم... وہ دیر تک آئینے کے سامنے کھڑا رہا۔ اسے یاد آنے لگا کہ آج لوگ کیوں ہنس رہے تھے۔ کیوں اس کی ہر حرکت پر تالیاں بج رہی تھیں۔ کیوں شہزادی اسے بار بار ناچنے کیلئے کہہ رہی تھی۔ اس کے دل پر سے جیسے کسی نے اچانک پردہ ہٹا دیا ہو۔ اسے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ وہ دوسروں کیلئے انسان نہیں، ایک تماشا تھا۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ آہستہ سے آئینے کے قریب گیا، مگر اگلے ہی لمحے پیچھے ہٹ گیا۔ اسے اپنا چہرہ دیکھنا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ روتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ جشن ابھی جاری تھا۔ موسیقی بج رہی تھی۔ لوگ ہنس رہے تھے۔ اور شہزادی... اب بھی خوش تھی۔ مگربونے کیلئے پوری دنیا بدل چکی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صنوبر کا درخت
چند گھنٹوں پہلے جس محل کی ہر دیوار اسے خوبصورت اور دلکش معلوم ہو رہی تھی، اب وہی اسے خوفناک لگ رہی تھی۔ ہر کھڑکی، ہر دروازہ اور ہر چمکتی ہوئی سطح اسے اپنے ہی بدصورت چہرے کی یاد دلا رہی تھی۔ اسے بار بار اپنا عکس دکھائی دیتا۔ وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا، مگر آئینے میں دیکھی ہوئی صورت اس کے ذہن سے نہ نکلتی۔ آج پہلی بار اسے معلوم ہوا تھا کہ دنیا میں ایسی بھی نظر ہوتی ہے جو کسی انسان کی روح نہیں، صرف اس کا چہرہ دیکھتی ہے۔ پھر اسے اچانک شہزادی یاد آئی۔ اس نے سوچا، ’’شاید وہ باقی لوگوں جیسی نہیں۔ آخر وہی تو تھی جس نے اسے بار بار ناچنے کیلئے کہا تھا۔ وہی اس کی حرکتوں پر سب سے زیادہ خوش ہوئی تھی۔ شاید وہ اس کی شکل کی پروا نہیں کرتی۔ شاید اس نے اسے دل سے پسند کیا ہے۔ ‘‘ یہ خیال اس کے دل میں امید کی ایک چھوٹی سی روشنی لے آیا۔ وہ دوبارہ ضیافت والے کمرے میں پہنچا۔ شہزادی نے اسے دیکھا تو مسکرا دی۔
’’تم کہاں چلے گئے تھے؟‘‘ بونا کچھ نہ کہہ سکا۔ وہ صرف اسے دیکھتا رہا۔ شہزادی نے اسے دوبارہ ناچنے کا اشارہ کیا۔ وہ بے اختیار آگے بڑھا لیکن اب اس کی چال میں پہلے جیسی خوشی نہ تھی۔ اس کے دل میں ایک نئی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ وہ شہزادی کو دیکھ رہا تھا اور اسے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید یہی وہ شخص ہے جس کیلئے وہ آج کی دنیا کو خوبصورت سمجھنے لگا تھا۔ شہزادی نے تالیاں بجائیں۔ موسیقی تیز ہو گئی۔ بونا پھر ناچنے لگا۔
رات اتر آئی تو مہمان رخصت ہونے لگے۔ موسیقار اپنے ساز سمیٹنے لگے اور نوکر میزوں سے برتن اٹھانے لگے۔ بونا ایک کونے میں کھڑا شہزادی کو دیکھتا رہا۔ اسے امید تھی کہ شاید وہ اسے روک لے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ شہزادی اپنی سہیلیوں کے ساتھ چلی گئی۔ بونا دیر تک وہیں کھڑا رہا۔ پھر وہ باغ میں آگیا۔ چاندنی پھولوں پر پھیل رہی تھی اور فواروں کا پانی مدھم روشنی میں چمک رہا تھا۔ چند گھنٹے پہلے یہی باغ اس کیلئے جنت تھا۔ اب اسے وہاں کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے جنگل یاد آیا۔ اسے اپنے وہ دن یاد آئے جب اسے اپنی شکل کا علم نہیں تھا اور وہ بغیر کسی شرمندگی کے ہنستا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر اسے کبھی آئینہ نہ دکھایا جاتا تو کیا وہ اب بھی خوش رہتا؟
اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جنگل کے پرندوں، پھولوں اور خاموش راستوں نے کبھی اس کی شکل دیکھ کر اس پر قہقہہ نہیں لگایا تھا۔ وہاں اسے کبھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ خود کو ویسا ہی سمجھتا تھا جیسا قدرت نے اسے بنایا تھا، اور شاید یہی اس کی خوشی کا راز تھا۔ اب اسے معلوم ہو چکا تھا کہ محل میں اس کی ساری خوشی ایک غلط فہمی تھی۔
اس نے شہزادی کی مسکراہٹ کو محبت، لوگوں کے قہقہوں کو اپنی کامیابی اور تالیوں کو اپنی تعریف سمجھ لیا تھا۔ اور آئینے نے ایک ہی لمحے میں اس کی پوری دنیا اس سے چھین لی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ گھاس پر لیٹ گیا۔ رات خاموش تھی۔ فوارے کی آواز آہستہ آہستہ دور ہوتی محسوس ہوئی۔ اس کا جسم سرد ہونے لگا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر طاقت جواب دیتی گئی۔ آخرکار وہ وہیں خاموش پڑا رہ گیا۔ صبح ہونے تک اس کی سانسیں رک چکی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن
اگلی صبح محل میں ایک بار پھر معمول کی چہل پہل شروع ہو گئی۔ شہزادی گزشتہ دن کے جشن سے اب بھی خوش تھی۔ اسے بونے کی حرکتیں یاد آ رہی تھیں اور وہ چاہتی تھی کہ وہ دوبارہ اس کے سامنے ناچے۔ اس نے ملازموں سے پوچھا، ’’وہ بونا کہاں ہے؟ اسے میرے پاس لاؤ۔ ‘‘ نوکروں نے اسے تلاش کیا۔
بالآخر وہ باغ میں پہنچے۔ وہاں بونا گھاس پر خاموش پڑا تھا۔ انہوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، مگر اس کا جسم بالکل بے حرکت تھا۔ وہ مر چکا تھا۔
خبر شہزادی تک پہنچی۔ وہ فوراً باغ میں آ گئی۔ اس نے بونے کو دیکھا اور حیرت سے بولی، ’’یہ سو کیوں رہا ہے؟‘‘ کسی نے جواب نہ دیا۔ شہزادی نے دوبارہ کہا، ’’اسے جگاؤ۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ پھر ناچے۔ ‘‘
ایک درباری نے آہستہ سے کہا، ’’شہزادی، وہ سو نہیں رہا۔ وہ مر چکا ہے۔ ‘‘ شہزادی چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ پھر اس نے اپنےوالد سے کہا، ’’اب یہ مجھے مزید نہیں ہنسا سکتا۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔ ‘‘
شہزادی کیلئے جشن کا ایک تماشا ختم ہو چکا تھا۔ محل میں دوبارہ موسیقی بجنے لگی۔ فوارے چلتے رہے۔ پھول اپنی جگہ کھلے رہے۔ درباری ہنستے رہے۔ اور اس شاندار محل کی چمکتی ہوئی دنیا میں ایک ایسے دل کی موت خاموشی سے گم ہو گئی جس نے صرف ایک دن کیلئے محبت اور خوشی کا خواب دیکھا تھا۔
بونا جنگل میں شاید کبھی خود کو بدصورت نہ سمجھتا۔ وہاں وہ صرف ایک آزاد، خوش اور معصوم مخلوق تھا۔ لیکن انسانوں کی دنیا نے اسے پہلی بار آئینہ دکھایا، اور اسی آئینے میں اسے اپنی وہ صورت نظر آئی جسے دوسروں نے مذاق بنا دیا تھا۔ اس کہانی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ بدصورتی ہمیشہ چہرے میں نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی اسے دیکھنے والی آنکھوں میں بھی ہوتی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ دردناک بات یہ ہے کہ جس دل میں محبت کی سب سے زیادہ ضرورت ہو، اسے کبھی کبھی دنیا صرف تماشا سمجھ کر دیکھتی ہے۔