• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چیف الیکشن کمشنر کیخلاف تحریک مواخذہ کی تیاری

Updated: August 19, 2025, 7:17 AM IST | New Delhi

اپوزیشن اتحاد گیانیش کمار کے خلاف کارروائی پر متفق، سخت تنقید کا نشانہ بنایا، کہا : ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمشنر میں بی جےپی ترجمان کی روح داخل ہوگئی ہے

TMC leaders Mahua Moitra, Sagarika Ghosh and other MPs protesting against SIR and Election Commission in the premises of Parliament.
پارلیمنٹ کے احاطہ میں ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا ، سگاریکا گھوش اور دیگر اراکین پارلیمان ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

 چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمارکی اتوار کو کی گئی پریس کانفرنس پر سخت تنقید اور برہمی کااظہار کرتے ہوئے اپوزیشن نے انہیں عہدہ سے ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ پیش کرنے کا اشارہ دیا ہے۔  یاد رہے کہ  پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر نے اپوزیشن کے سوالوں کا جواب تو نہیں  دیا البتہ  الزام ہے کہ کسی سیاسی لیڈر جیسی زبان استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور راہل گاندھی پر دروغ گوئی کا الزام تک عائد کردیا۔  ذرائع کے حوالے سے ملنےوالی اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح اپوزیشن اتحاد (انڈیا) کی میٹنگ میں تحریک مواخذہ پر تمام لیڈروں نے اتفاق کیا ہے۔  اپوزیشن کے ایک ایم پی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’انڈیا اتحاد کے تمام اراکین نے تحریک مواخذہ کی تجویز کی حمایت کی ہے۔‘‘ انہوں  نے بتایا کہ اس سلسلے میں قانونی باریکیوں پر جلد ہی گفتگو ہوگی۔ 
   پیرکی صبح مذکورہ میٹنگ کےبعد کانگریس، ٹی ایم سی، سماجوادی پارٹی، آر جے ڈی، آپ، سی پی ایم اور شیوسینا (اُدھو) نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے  الزام لگایا کہ گیانیش کمار بطور چیف الیکشن کمشنر اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں  ناکام رہے ہیں۔   اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وہ  الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس میں بی جےپی کے ترجمان کی طرح  برتاؤ کررہے تھے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ’’بی جےپی ترجمان کی روح‘‘ داخل ہوگئی ہے۔ 
 کانسٹی ٹیوشن کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس میں  اپوزیشن لیڈروں  نےگیانیش کمار کے متعصبانہ کردار پر سوال اٹھایا اور کہاکہ وہ اپوزیشن کے سوالات کا جوا ب دینے میں ناکام رہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورو گوگوئی، ڈاکٹر ناصر حسین، مہوا موئترا، سنجے سنگھ، اروند ساونت، تروچی سیوا، منوج جھا اور جان برٹاس سمیت اپوزیشن اتحاد کے لیڈروں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کئے۔ اپوزیشن لیڈروںنے اس بات پر برہمی ظاہر کی کہ سی ای سی نےراہل گاندھی کے ذریعہ مہادیو پورہ میں ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری اور فرضی ووٹرز  کے تعلق سے اٹھائے گئے  ایک بھی  سوال کا جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ بہار میں۶۵؍لاکھ حذف شدہ ناموں  کوشائع کرنے کے حکم اور اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کے سبھی دلائل مسترد کئے جانے پر بھی سی ای سی نے اپنی زبان نہیں کھولی۔ اپوزیشن لیڈروںنے کہاکہ سی ای سی نے ووٹر فراڈ کی انکوائرئی یا تفتیش پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ 
اپوزیشن لیڈروں نے الیکشن کمیشن پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے اپنے آئینی فرض کو ادا کرنے میںناکام رہا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ کمیشن کی قیادت ایسے افسران کررہے ہیں جو سیاسی جماعتوں کیلئے برابری کے میدان کو یقینی نہیں بناسکتے۔ ایسے افسران کمیشن کی سربراہی کررہے ہیں جو ووٹر لسٹ میں فراڈ کی انکوائری کی بجائے حکمراں جماعت کو چیلنج کرنے والے لوگوں کو خوفزدہ کرتےہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کے تعلق سے کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ’’اس معاملے پر بڑی حد تک غوروخوض کرلیا گیاہے اور اتفاق رائے بھی قائم ہوگئی ہے۔ ہم صحیح وقت پرصحیح  کارروائی کریں گے۔‘‘ آر جے ڈی کے منوج جھا نے کہا کہ ’’ہمارے سامنے تمام قانونی اور آئینی متبادل کھلے ہیں اور ہم انہیں استعمال کریں گے۔‘‘
واضح رہے کہ الیکشن کمشنروں کو ہٹانے کا طریقہ وہی ہے جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کا ہے۔اس کیلئے ان کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ پیش کرنا پڑتا ہے۔آئین کے مطابق تحریک مواخذہ کو راجیہ سبھا کے ۵۰؍ یالوک سبھا کے ۱۰۰؍ اراکین کی حمایت حاصل ہونی چاہئے ۔ تحریک کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ایوان میں موجود اراکین میں  سے دوتہائی اس کی تائید کریں اوراس کے حق میں ووٹ دیں۔ 
 گورو گوگوئی نے کہاکہ سی ای سی کسی بھی سوال کا جواب دینے کے قابل نہیں، وہ اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کررہے ہیں۔انہوں نے سوالات  کے   جواب دینے کی بجائے اپوزیشن پر حملے کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK