فیڈریشن نے ریاستی سطح پر بھاری ٹیکس کو بھی بڑھتی ہوئی لاگت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ملک کے سب سے بڑے ایوی ایشن ہب، دہلی میں جیٹ فیول پر ۲۵ فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) عائد ہے، جبکہ تمل ناڈو میں یہ سب سے زیادہ ۲۹ فیصد ہے۔
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 10:14 PM IST | New Delhi
فیڈریشن نے ریاستی سطح پر بھاری ٹیکس کو بھی بڑھتی ہوئی لاگت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ملک کے سب سے بڑے ایوی ایشن ہب، دہلی میں جیٹ فیول پر ۲۵ فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) عائد ہے، جبکہ تمل ناڈو میں یہ سب سے زیادہ ۲۹ فیصد ہے۔
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے ملک میں ایوی ایشن کا شعبہ شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان سے نمٹنے کیلئے صفِ اول کی فضائی کمپنیوں، ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ ائیرلائنز نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان ایئرلائنز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز (ایف آئی اے) نے ۲۶ اپریل کے ایک خط میں متنبہ کیا کہ شعبہ انتہائی دباؤ میں ہے اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو پروازیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے آپریشنز متاثر
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ فیول ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات کا تقریباً ۴۰ فیصد ہوتا ہے۔ ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ فضائی حدود کی پابندیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس سے خاص طور پر طویل فاصلے کی پروازیں متاثر ہو رہی ہیں اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل: تیل کی قیمتوں میں ۲؍ فیصد سے زائد اضافہ
ایف آئی اے نے نشان دہی کی کہ مقامی اور بین الاقوامی ایندھن کی قیمتوں کے درمیان حالیہ فرق نے ایک سنگین عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ماہ مقامی اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اضافے کو ۱۵ روپے فی لیٹر تک محدود کر دیا گیا تھا، لیکن بین الاقوامی ایندھن کی قیمتیں ۷۳ روپے فی لیٹر تک بڑھ گئیں، جس سے کئی روٹس مالی طور پر ناقابلِ عمل ہوگئے ہیں۔ فیڈریشن نے خبردار کیا کہ اے ٹی ایف کی قیمتوں میں غیر منطقی اضافے کی وجہ سے ناقابلِ برداشت نقصانات کے باعث طیارے گراؤنڈ کئے جا سکتے ہیں اور پروازیں منسوخ ہو سکتی ہیں۔
پالیسی تبدیلیوں اور مالی امداد کا مطالبہ
ایئرلائنز نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ قیمتوں کے تعین کا وہی فریم ورک دوبارہ نافذ کیا جائے جو پہلے کریک بینڈ میکانزم کے طور پر موجود تھا۔ اس نے آئل سپلائرز کیلئے متوازن مارجن اور ایئرلائنز کیلئے کام کرنے کی گنجائش کو یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے اے ٹی ایف پر ۱۱ فیصد ایکسائز ڈیوٹی کو عارضی طور پر موخر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، اور یہ دلیل دی ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ٹیکس کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایف آئی اے نے کہا کہ بقاء، استحکام اور آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ہم فوری مداخلت اور معنی خیز مالی امداد کی درخواست کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۰۰؍ڈالرفی بیرل کا خام تیل ہندوستانی معیشت کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے
بھاری ٹیکسز انڈسٹری کے بوجھ میں اضافہ
فیڈریشن نے ریاستی سطح پر بھاری ٹیکس کو بھی بڑھتی ہوئی لاگت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ملک کے سب سے بڑے ایوی ایشن ہب، دہلی میں جیٹ فیول پر ۲۵ فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) عائد ہے، جبکہ تمل ناڈو میں یہ سب سے زیادہ یعنی ۲۹ فیصد ہے۔ ممبئی، بنگلور، حیدرآباد اور کولکاتا سمیت دیگر بڑے مراکز میں ویٹ کی شرح ۱۶ فیصد سے ۲۰ فیصد کے درمیان ہے۔ یہ ۶ شہر مل کر ملک کے فضائی آپریشنز کا نصف سے زیادہ حصہ بناتے ہیں۔ ایئرلائنز نے خبردار کیا کہ فوری اصلاحی اقدامات کے بغیر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، ٹیکسوں اور آپریشنل رکاوٹوں کا مشترکہ اثر اس شعبے کو "ناپائیدار" بنا سکتا ہے، جس سے ملکی اور بین الاقوامی رابطے خطرے میں پڑ جائیں گے۔