ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا فوری خاتمہ نظر نہیں آتا، تنازع سرد جنگ جیسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جس میں مالی پابندیاں، بحری جہازوں کی روک تھام، اور مذاکرات کے بارے میں گفتگو شامل ہے۔
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 10:15 PM IST | Tehran
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا فوری خاتمہ نظر نہیں آتا، تنازع سرد جنگ جیسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جس میں مالی پابندیاں، بحری جہازوں کی روک تھام، اور مذاکرات کے بارے میں گفتگو شامل ہے۔
ایکسیوس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل کا کوئی فوری خاتمہ نظر نہیں آ رہا، کیونکہ یہ تنازع ’’سرد جنگ جیسے مرحلے‘‘ میں داخل ہو چکا ہے، جس میں مالی پابندیاں، بحری جہازوں کی روک تھام، اور مذاکرات کے بارے میں گفتگو شامل ہے۔دریں اثناءامریکی عہدیداروں کے مطابق خدشہ ہے کہ امریکہ ایک منجمد تنازع کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں نہ جنگ ہوگی اور نہ کوئی معاہدہ۔ ایسی صورت میں امریکہ کو مزید کئی مہینوں تک اپنی فوجیں خطے میں رکھنی ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ و اسرائیل پر جارحیت کا الزام، حملو ں کے خلاف ضمانت کا مطالبہ
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرپارہے کہ ازسر نو فوجی حملے کریں یا انتظار کریں کہ ان کی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ والی مالی پابندیاں ایران کو مذاکرات کرنے پر مجبور کردیں۔ بعد ازاں ٹرمپ کے قریبی ایک عہدیدار نے بتایا کہ وہ مایوس ہیں لیکن حقیقت پسند ہیں، وہ طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن پیچھے ہٹنے پر بھی آمادہ نہیں۔رپورٹ کے مطابق، پیر کو ٹرمپ نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایران کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا جس میں ایران نے کہا تھا کہ اگر امریکہ ایرانی جہاز رانی پر سےپابندی ہٹائے تو وہ آبنائے ہرمز کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات کرے گا۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو قبول کرنے کا امکان کم ہے کیونکہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر مذاکرات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کا آغاز کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ ایران نے دنیا کو ۲۰؍ فیصد تیل کی گزرگاہ ’’ آبنائے ہرمز ‘‘ کو مکمل طور پر بند کردیا، جس کے سبب دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہوگیا۔ بعد ازاں امریکہ نے ایران پر دباؤ بنانے کی غرض سے آبنائےہرمز سے گزرنے والے ایرانی جہازوں کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کردیا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدہ ہوا ہے، تاہم مکمل جنگ بندی کا معاہدہ تعطل کا شکار ہے۔ جبکہ ایران نے ۱۰؍ شرائط پیش کی ہیں، جن پر امن معاہدہ کیلئے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم امریکہ نے ہنوز ان شرائط پر مذاکرات کرنے کیلئے حامی نہیں بھری ہے۔