Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۹ء سے قبل نئی پارلیمانی حلقہ بندی کی تیاریاں تیز

Updated: June 05, 2026, 12:51 AM IST | New Delhi

مرکز عام انتخابات سے قبل ایک بل پیش کرکے نئی حلقہ بندی کے امکانات کا جائزہ لینے میں مصروف ،ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس جیسی علاقائی پارٹیوںسے گفتگو بھی جاری

There are currently 543 seats in the Lok Sabha, which could increase significantly as a result of delimitation.
فی الحال لوک سبھا میں ۵۴۳؍ نشستیں ہیں، حد بندی کے نتیجے میںان میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے

مرکزی حکومت ملک کی انتخابی تاریخ میں ایک بڑے آئینی اور سیاسی اقدام کے طور پر حلقہ بندی کے عمل کو نئے سرے سے آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت ۲۰۲۹ءکے لوک سبھا انتخابات سے قبل ایک نیا بل پیش کرکے حلقہ بندی کے عمل کو مکمل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حساس اور اہم سیاسی تبدیلی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے مرکز نے مختلف علاقائی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ جن جماعتوں سے ابتدائی مشاورت کی گئی ہے ان میںڈی ایم کے اورترنمول کانگریس شامل ہیں، جبکہ دیگر علاقائی جماعتوں سے بھی بات چیت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمانی حلقوں کی بڑے پیمانے پر ازسرِ نو حد بندی کی راہ ہموار ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بحث بھی دوبارہ شدت اختیار کرسکتی ہے جو طویل عرصے سے ہندوستان کے سیاسی منظرنامے میں اختلاف کا باعث رہی ہے۔ موجودہ لوک سبھا نشستوں کی تقسیم بنیادی طورپر ۱۹۷۱ءکی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ فی الحال لوک سبھا میں ۵۴۳؍ منتخب اراکین ہیں، تاہم آئینی پابندیوں کے خاتمے کے بعد نئی حلقہ بندی کے نتیجے میں مختلف ریاستوں کے درمیان نمائندگی کے توازن میں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق مرکز ان ریاستوں کے خدشات سے بھی واقف ہے جنہوں نے آبادی میں اضافے کو مؤثر طور پر قابو میں رکھا ہے۔ حکومت ایسے فارمولے پر غور کر رہی ہے جسے وسیع سیاسی حمایت حاصل ہو اور جو مختلف ریاستوں کے مفادات کا تحفظ بھی کر سکے۔
 حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حلقہ بندی کو سیاسی تنازع کا سبب بننے سے روکنے کیلئے اتفاقِ رائے پر مبنی حکمت عملی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت جاری مشاورت میں منصفانہ نمائندگی کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف فریقوں کے تحفظات دور کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقائی جماعتوں کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے اور حکومت کسی بھی قانون سازی سے قبل ایک جامع خاکہ تیار کرنا چاہتی ہے۔ مشاورتی عمل مکمل ہونے اور وسیع تر اتفاقِ رائے قائم ہونے کے بعد حکومت اس سلسلے میں اگلا قدم اٹھا سکتی ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حلقہ بندی کا یہ نیا اقدام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ۲۰۲۹ء کے عام انتخابات سے قبل یہ ملک کے اہم ترین سیاسی اور آئینی اقدامات میں شمار ہو سکتا ہے ۔ اس عمل کے نتیجے میں پارلیمانی نمائندگی، ریاستوں کے درمیان وفاقی توازن اور ملک کے مستقبل کے انتخابی نقشے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ حلقہ بندی کا عمل نہ صرف انتخابی حلقوں کی ازسرِ نو تشکیل کا باعث بنے گا بلکہ مختلف ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی کے تناسب میں بھی تبدیلی لا سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ قومی سیاست میں خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اس حساس مسئلے پر زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے سیاسی تنازعہ سے بچا جا سکے اور حلقہ بندی کا عمل وسیع تر قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ مکمل ہو۔ ۲۰۲۹ءکے لوک سبھا انتخابات سے قبل حد بندی کا عمل مکمل ہونے اور لوک سبھا کی نشستیں بڑھ کر ۸۵۰؍ تک ہونے کی تجویز ہے۔ اس حد بندی کے تحت کل ۸۱۵؍نشستیں ریاستوں اور ۳۵؍ نشستیں مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے مختص کی جائیں گی تاکہ خواتین کے لیے ۳۳؍فیصد ریزرویشن پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ قابل ذکرہےکہ اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ حد بندی بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے جنوبی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
  ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت عام مردم شماری سے قبل اس بل کو جلد بازی میں پیش کرنا چاہتی ہے۔تمل ناڈو کے سابق  وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے الزام لگایا  تھا  کہ مرکزی حکومت ریاستوں سے مناسب مشاورت کے بغیر آئینی ترمیم کو زبردستی نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچا یا جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو تمل ناڈو میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK