Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیسٹ: مطالبات پورے نہ ہونے پر ۱۵؍ اگست سے بے مدت ہڑتال

Updated: July 22, 2026, 12:04 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مگراس مسئلے پریونینوں میں اختلاف رائے۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ تنخواہوں میں اضافے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

File photo of the Beast strike.
بیسٹ کی ہڑتال کی فائل فوٹو۔

حکومت کی جانب سے بیسٹ ملازمین کے متعدد مطالبات اورتنخواہوں میں اضافے پر توجہ نہ دینے پر پھربیسٹ کے ملازمین۱۵؍ اگست سے غیر معینہ مدت ہڑتال کریں گے۔ ایسا ہونے پرایک مرتبہ پھرلاکھوں ممبئی کروںکو دقتوںکا سامنا کرنا ہوگا جیسا کہ اس سے قبل ۱۹؍جون سے کی جانے والی ہڑتال کے دوران ہوا تھا۔

حالانکہ اس تعلق سے یونینوں کے درمیان اختلاف رائے پایاجارہا ہے۔ایک جانب جہاںاس کی حمایت کی جارہی ہے تو دوسری جانب اس کی مخالفت بھی کی جارہی ہے ۔  اس تعلق سے دونوں یونینوں کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے ،جن کےپاس شہری ترقیات کا محکمہ ہے،کوخط لکھ کر۲۱؍جون کو جوکچھ طے پایا تھا اورجس بنیاد پرہڑتال ختم کی گئی تھی اسے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : بیسٹ کی طرز پر بجلی سپلائی میونسپل کارپوریشن کے سپرد کرنے کا مطالبہ

اس وقت یہ طے پایاتھا کہ ویٹ لیز کےملازمین کی تنخواہوں میں۲؍ ہزار روپے اوربیسٹ کے ملازمین کی تنخواہ میں۳؍ہزار روپے کا اضافہ کیاجائے گا ، بیسٹ بجٹ کوبی ایم سی بجٹ کا حصہ بنایا جائے ،بیسٹ کی اپنی بسوں کی تعداد حسبِ معاہدہ ۳۳۳۷؍ کی جائے اور سبکدوش ہونےوالے بیسٹ کے ۵؍ ہزارسےزائد ملازمین کی گویجویٹی بھی رواں مالی سال میں ہی ادا کی جائے  ۔ 

یونین لیڈر ششانک را ؤنے انتباہ دیا کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ملازمین کے پاس ہڑتال شروع کرنے کےسوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔انہوں نے ۲۱؍ جون کے سمجھوتے کو ’مزدوروں کے اعتماد کے ساتھ غداری‘ قرار دیا ہے اوریہ بھی کہا کہ اب بھی کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل بیسٹ ورکرس یونین کے ساتھ ازسرِنو بات چیت کی جائے۔

ششانک راؤ کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ۶۵؍فیصد بیسٹ ورکرز نے نظر ثانی کے مطالبے کی حمایت کی ہے،اسے نظر اندازکرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: حج ۲۰۲۷ء کے لئے درخواست دینے کی تاریخ میں توسیع

دوسری جانب شیوسینا شندے یونین کے لیڈر ،جو جو ن میں کی گئی ہڑتال میں پیش پیش تھے، نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ۱۵؍ اگست سے بے مدت ہڑتال محض ایک ہوّا ہے، کیابار بار صرف ہڑتا ل کی جائے گی ۔ ‘‘ 

انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ ۲۱؍جون کونائب وزیراعلیٰ اور وزیرٹرانسپورٹ کی یونین لیڈران کی موجودگی میں ہونےوالی میٹنگ میںجو طے کیا گیاتھا اس پرعمل درآمد شروع ہوگیاہے ۔ تنخواہوں کےلئے ۲۰؍ تاریخ تک اندراج کیا جاتا ہے اس لئے جو اضافہ طے کیا گیا ہے وہ جولائی کی تنخواہ میں نظر آئےگا۔ اس کے علاوہ دیگر جو مطالبات تھے اس پربھی عملی طور پرپیش رفت ہورہی ہے اور انڈرسیکریٹری ودیا ہمیپاکی جانب سے خط بھی لکھا گیا ہے ، اس لئےاب بیسٹ ملازمین گمراہ ہونے والے نہیں ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK