مالیگاؤں کے اردوگھرمیں منعقدہ سمینار ’سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات‘ میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا خطاب۔مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے کارگزارصدر سیّد حسین اختر اور دیگر مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 11:34 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
مالیگاؤں کے اردوگھرمیں منعقدہ سمینار ’سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات‘ میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا خطاب۔مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے کارگزارصدر سیّد حسین اختر اور دیگر مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔
یہاں واقع اردو گھر میں منگل کو ’سوشل میڈیا کے ذریعے فروغِ اُردوکے امکانات‘ عنوان سے صوبائی سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے کارگزار صدر سیّد حسین ا ختر نے صدارتی تقریر میں کہا کہ ’’اُردو کی ترویج و اشاعت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ذریعے دِلوں کو آپس میں جوڑا جائے۔ ریاست کی ثقافتی اور تہذیبی ترقی میں اُردو کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔‘‘
قبل ازیں کلیدی خطبے میںمولانا محمدعمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ ’’اِس زبان کا خمیرمحبت سے اُٹھا۔دورِ قدیم میںفارسی کو شاہی سرپرستی حاصل تھی اور اُردوکو قلندروں نے پروان چڑھایا ہے۔ اُردوکا مستقبل تاریک ہے، یہ سوچنے والا ذہن تاریکی میںہے۔ دنیا کی موثراور مقبول ترین زبانوں میںاُردوکا شمار ہوتا ہے۔‘‘مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’’اُردوکو اپنے دلوں میںجگہ دیجئے۔ دنیا کی دیگر زبانوںمیںپائےجانےوالےعلمی اثاثے کو تراجم کےذریعے اُردوکے دامن میں بھر دیجئے۔‘‘
روزنامہ ’ہندوستان‘ کےمالک ومدیرسرفراز آرزونےکہا کہ ’’ برادرانِ وطن کے یہاں اُردو سے والہانہ لگاؤ کی بہت ساری مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس زبان سے زیادہ سے زیادہ افراد کو جوڑنا چاہئے۔‘‘
معروف شاعرحامد اقبال صدیقی نے کہا کہ ’’سوشل میڈیا پر اُردو رسم الخط کواستعمال کریں۔ اُردوکے مختلف فونٹس پائے جاتے ہیں۔ اخبارات میںخط نستعلیق مستعمل ہے۔یونیکوڈ یا نسخ نما فونٹ بھی ڈیجیٹل آلات میںپائے جاتے ہیں۔ہم کوشش کریں کہ اُردوکا رسم الخط استعمال کریں۔‘‘
امتیاز خلیل (سینئرصحافی) نے کہا کہ ’’سوشل میڈیاپرسلیقے سےپیش کیاگیاپیغام دنیا کے آخری کونےتک پہنچ سکتا ہے۔سوشل میڈیاوسیع پلیٹ فارم ہے۔اُردوزبان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔وہ اخبارات ورسائل جو سوشل میڈیاسےہم آہنگ ہوئےوہ اپنے قارئین سے مربوط رہنے میں کامیاب ثابت ہورہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: زومیٹو اور سویگی کے ذریعہ ملک بھر سے لوگ جنتر منتر میں کھانا پہنچا رہے ہیں
اس سمینار میںپونے شہرسےشاہ تاج خان بھی شریک تھیں۔انہوں نےدوسرے سیشن میں اپنی بات رکھنےکی اجازت چاہی جسے منتظمین نے قبول کرلیا۔اغراض ومقاصدسیّد شعیب ہاشمی (سی ای او، اُردواکیڈمی)نےبیان کئے۔اہم شرکاء میں شعیب خسرو (روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز و شامنامہ مالیگاؤں)،خیال انصاری،عثمان غنی اسکس،عمران جمیل،پروفیسر عبدالمجید صدیقی،محمد رمضان مکّی، احمد ایوبی،ماسٹر سعید پرویز پروفیسر مبین نذیر،محمد یاسین اعظمی ،ڈاکٹراقبال برکی ، تواب انصاری (دھولیہ ضلع اُردو پترکار سنگھ) اور شبیر اقبال سر شامل تھے۔
پہلاسیشن صبح ساڑھے ۱۰؍ بجےسے شروع ہوکردوپہر ایک بجے تک جاری رہا۔دوسرے سیشن کی صدارت حامد اقبال صدیقی نےکی اور نظامت منصور اکبر کررہے تھے۔مقررین میں اسماعیل وفا،اظہرمرزا(رکن انقلاب)، وسیم رضا شہزاد،خلیل عباس، عبدالحلیم صدیقی،سراج آرزو اورشاہ تاج خان شامل تھے۔