Inquilab Logo Happiest Places to Work

مکینوں کو غیرقانونی قرار دینے کیخلاف احتجاج کی تیاری

Updated: April 18, 2026, 1:02 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران کی ڈی سی پی سے ملاقات۔ ۲۷؍اپریل کواحتجاج کے لئے خط دیا۔ میٹنگ کا بھی انعقاد۔

Members of the delegation meeting the DCP at the premises of Sagri Police Station, Maham. Photo: INN
ڈی سی پی سے ملاقات کیلئے وفد میں شامل افراد ساگری پولیس اسٹیشن ماہم کے احاطہ میں۔ تصویر: آئی این این

یہاں زور زبردستی سروے، دھمکی دینے اور دھاراوی کے مکینوں کو مبینہ طورپر باہر بھگانے کے اڈانی گروپ کے خلاف دھاراوی بچاؤ آندولن کےذمہ داران نے جمعہ کی شام ۵؍ بجے ڈی سی پی سے ملاقات کی جس کے دوران ڈی سی پی کو ایک خط دیا گیا اور۲۷؍ اپریل کو شانمکھا نند ہال کنگ سرکل، ماٹونگا میں دھاراوی کے مکینوں کے زبردست احتجاج کیلئے اجازت مانگی گئی۔ 
’دھاراوی بچاؤ آندولن‘ کے ذمہ داران کا کہنا ہےکہ قانونی اور غیرقانونی قرار دیئے جانے کا کھیل مسلسل چل رہاہے اوراس کے ذریعے مکینوں کو ہراساں کیا جارہا ہے کہ وہ غیرقانونی ہیں، انہیں دھاراوی سے باہر جانا ہوگا۔ اس لئے کسی صورت اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران کے مطابق بار بار یہ واضح کیا گیا ہےکہ ایک بھی دھاراوی واسی باہر نہیں جائے گا اور ۱۴؍ مطالبات، جو پہلے سے کئے جارہے ہیں ، پرعمل کیا جائے۔ اس کے باوجود ایک سازش کےتحت آئے دن زور زبردستی اور دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی لئے ۲۷؍اپریل کو تمام دھاراوی واسی نہ صرف اپنے اتحاد کی طاقت کا مظاہرہ کریں گے بلکہ یہ بھی بتائیں گے کہ وہ اڈانی گروپ کے ذریعے ڈیولپمنٹ کےمخالف کل بھی تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’مراٹھی امتحان کی تیاری کیلئے رہنمائی کی جائے گی‘‘

ان ہی حالات کے تناظر میں جمعرات کی شب میں راجے شیواجی ودیالیہ، پی ایم جی پی کالونی، دھاراوی میں شیوسیناکے سابق رکن اسمبلی بابو راؤ مانے کی سربراہی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔ اس میں اتفاق رائے سے ۸؍ مطالبات دہرائے گئے۔ (۱) دھاراوی کے الگ الگ حصوں میں اُن ۸۵؍مکینوں اور تاجروں کو جنہیں سروے میں غیرقانونی قرار دیا گیا ہے، فوراً واپس لے کر اہل قرار دیا جائے(۲) ہر ایک کو ۵۰۰؍ مربع فٹ کا گھر، بی ایم سی عمارت میں مقیم مکینوں کو۷۵۰؍ مربع فٹ کا گھر دیا جائے(۳) تاجروں کوکم از کم ان کی جگہ کی مناسبت سے متبادل کمرشیل جگہ دی جانی چاہئے (۴)گھر خالی کرنے کےلئے میگھ واڑی کے مکینوں کا نوٹس واپس لیا جائے (۵) مکینوں کو نوٹس دے کر زبردستی سروے کرنا، غنڈے اور باؤنسر بھیج کر خوفزدہ کرنابند کیا جائے (۶) شاہو نگر کے مکینوں کو دھاراوی پروجیکٹ سے الگ کر دیا جائے (۷) کمہارواڑہ کی ترقی کیلئے الگ منصوبہ بنایا جائے اور (۸) کولی واڑہ کی حد بندی جلد از جلد کی جانی چاہئے۔ اس کےعلاوہ مکینوں کو متحد رکھنے، ان سے بہتر تال میل کیلئے وارڈ کی سطح پر ایک کمیٹی بنانے اورہر گلی محلہ میں ایک میٹنگ منعقد کرنےکابھی فیصلہ کیا گیا۔ 
میٹنگ میں کامریڈ نصیر الحق، اُلیش گاجا کوش، انل کسارے، پال رافیل ، ایوب شیخ، شیام لال جیسوار، راہل گائیکواڑ، عارف شیخ ، سریش ساونت ، مہادیو شندے، ستیش کٹکے، گنگادھر ڈیرے، دیپک کھندارے، سمیر شیخ اور انصار شیخ وغیرہ موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK