Updated: September 29, 2026, 7:03 PM IST
| Mumbai
بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں، مہنگائی کے دباؤ اور عالمی بانڈ منافع کی شرح میں اضافے کے درمیان ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کے لیے موجودہ سطح پر شرحِ سود کو برقرار رکھنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ہندوستان کے مجموعی معاشی منظرنامے میں کچھ کمزوری آئی ہے، جس سے مالیاتی پالیسی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این
بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں، مہنگائی کے دباؤ اور عالمی بانڈ منافع کی شرح میں اضافے کے درمیان ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کے لیے موجودہ سطح پر شرحِ سود کو برقرار رکھنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ بی این پی پریباس انڈیا کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ہندوستان کے مجموعی معاشی منظرنامے میں کچھ کمزوری آئی ہے، جس سے مالیاتی پالیسی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امریکی ۱۰؍ سالہ ٹریژری بانڈ کی منافع کی شرح تقریباً ۵؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ دنیا کے کئی حصوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور متعدد مرکزی بینک شرحِ سود میں اضافے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے غیر مقیم ہندوستانیوں کی غیر ملکی کرنسی جمع (ایف سی این آر ڈپازٹس) کے ذریعے اپنے بیرونی مالیاتی شعبے کو مضبوط کیا ہے، تاہم ترقی یافتہ ممالک میں شرحِ سود بڑھنے سے ہندوستان سے سرمایہ کے اخراج کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میں روہت کے لیے پاگل ہوں، امیتابھ بچن نے رتیکا کا دلچسپ قصہ سنایا
ایسے عالمی مالیاتی ماحول میں آر بی آئی کے لیے اپنی پالیسی شرحوں کو طویل عرصے تک موجودہ سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ خام تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہندوستان کے لیے قلیل مدت میں ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگے خام تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں نے ہندوستانی روپے پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ اسی وجہ سے آر بی آئی کے لیے شرحِ سود میں کسی تبدیلی کے بغیر موجودہ پالیسی کو زیادہ عرصے تک جاری رکھنے کی گنجائش محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
بی این پی پریباس انڈیا میں ہندوتستانی حصص کی تحقیق کے سربراہ کونال وورا نے کہا کہ ہندوستان کا مجموعی معاشی منظرنامہ تیل کی قیمتوں کے لیے انتہائی حساس ہے اور مغربی ایشیا میں تازہ کشیدگی ہندوستان کے لیے منفی اثرات کا باعث بنی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہندوستانی روپیہ تقریباً ایک فیصد کمزور ہوا ہے۔ دوسری جانب ہندوستان کی ۱۰؍ سالہ سرکاری بانڈ منافع کی شرح ۷؍ فیصد سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ اسی دوران غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، یعنی ایف آئی آئی، کی جانب سے ہندوستانی حصص بازار میں فروخت بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ عالمی سطح پر بلند شرحِ سود اور سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات ہندوستان کے مالیاتی بازاروں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز ۲۰۲۶ء: کرکٹ کے چاروں کوارٹر فائنل بارش کی نذر
رپورٹ میں اگرچہ ہندوستان کے بیرونی شعبے کے حوالے سے کچھ مثبت پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ایف سی این آر جمع نے ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ کے تخمینے کے مطابق تقریباً ۱۲۷؍ ارب ڈالر کے ایف سی این آر بہاؤ کی مدد سے ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر تقریباً ۸۰۰؍ ارب ڈالرس تک پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قلیل مدت میں ملک کو کچھ مالیاتی راحت ملی ہے، تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ یہ رقوم آئندہ ۳؍ سے ۵؍ برس کے دوران واپس بھی جا سکتی ہیں۔
بی این پی پریباس کی رپورٹ کے مطابق بلند مہنگائی کا اثر آنے والے مہینوں میں مختلف قلیل مدتی معاشی اشاریوں پر بھی نظر آ سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں اجرتوں کی شرحِ نمو میں کمی، بڑھتی مہنگائی اور کاروباری اعتماد میں کمی جیسے عوامل صارفین کی خریداری اور مجموعی کھپت کی طلب کو متاثر کر سکتے ہیں۔