• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنبھل احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ نے افروز ملا کی نظر بندی ختم کی، یوپی حکومت پر جرمانہ

Updated: September 29, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے سنبھل میں نومبر ۲۰۲۴ء کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں مبینہ طور پر ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیے گئے ملا افروز کی نیشنل سیکوریٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظر بندی ختم کردی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ کورٹ نے اتر پردیش حکومت پر ۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے منگل کو سنبھل میں نومبر ۲۰۲۴ء کے احتجاج سے متعلق معاملے میں ملا افروز کی نیشنل سیکوریٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت نظر بندی ختم کردی۔ عدالت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے ان کی نظر بندی برقرار رکھی گئی تھی۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے اتر پردیش حکومت پر ۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ ملا افروز کو ۲۰۲۴ء میں سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے بعد ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمے میں مبینہ طور پر ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ ان کی جانب سے این ایس اے کے تحت نظر بندی کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں نظر بندی کے لیے استعمال کیے گئے مواد اور اس کی قانونی بنیاد کا جائزہ لیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۹۲؍ گواہوں کے منحرف ہوجانے پر سپریم کورٹ فکر مند

پولیس تحویل میں مبینہ اعترافی بیان پر سوال
مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس تحویل میں دیے گئے مبینہ اعترافی بیان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔ عدالت نے اس نکتے پر غور کیا کہ آیا پولیس کی حراست میں حاصل کیا گیا ایسا بیان کسی شخص کے خلاف این ایس اے جیسے سخت قانون کے تحت احتیاطی نظر بندی کا جواز بن سکتا ہے۔ عدالت نے بالآخر نظر بندی کو ختم کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ ملا افروز کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف کارروائی کی بنیادی بنیاد پولیس تحویل میں حاصل کیا گیا مبینہ اعترافی بیان تھا۔ ان کی جانب سے سنبھل تشدد کی پولیس تفتیش پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ تشدد کے دوران پولیس کی فائرنگ کے پہلو کی مناسب جانچ نہیں کی گئی۔

۲۰۲۴ء کے سنبھل احتجاج سے تعلق
ملا افروز کو سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے بعد ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو ہونے والے تشدد سے متعلق مقدمے میں ملزم بنایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے معاملے کے مطابق ان کی گرفتاری واقعے کے تقریباً ۵۴؍ دن بعد ہوئی تھی۔ بعد میں انہیں اصل مقدمے میں ضمانت مل گئی، تاہم ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو ان کے خلاف این ایس اے کے تحت نظر بندی کا حکم جاری کیے جانے کے باعث وہ جیل سے باہر نہیں آسکے۔ این ایس اے کے تحت احتیاطی نظر بندی کسی شخص کو باقاعدہ سزا سنائے بغیر مخصوص حالات میں حراست میں رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ موجودہ معاملے میں عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ اس اختیار کے استعمال کیلئے پولیس تحویل میں حاصل کیا گیا مبینہ اعترافی بیان کس حد تک قانونی بنیاد بن سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اکھلیش یادو نے پھر حکومت کی زیادتیوں پر تنقید اور مسلمانوں کے صبر و تحمل کی تعریف کی

الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اس سے قبل ملا افروز کی این ایس اے کے تحت نظر بندی کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے نظر بندی ختم کردی اور اتر پردیش حکومت کو ۱۰؍ لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے اس رقم کو نظر بندی کے غیر قانونی استعمال پر عائد اخراجات کے طور پر مقرر کیا۔ اس معاملے کی گزشتہ سماعت میں، جب عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، بنچ نے خاص طور پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ پولیس تحویل میں مبینہ اعترافی بیان کو این ایس اے کے تحت نظر بندی کے لیے درکار ’’ذہنی اطمینان‘‘ کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے سے متعلق اصل تنازع کا ایک الگ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ مسجد کمیٹی نے سروے کے حکم کو چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے ۲۵؍ ستمبر کو اس درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK