انتہا پسند اسرائیلی وزیر بین گویر نے سیکڑوں غیر قانونی یہودی آبادکاروں کے ہمراہ مسجد اہراہیمی پر دھاوا بول دیا، بین گویرکا یہ دھاوا مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخلے کے ایک دن بعد ہوا۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 7:03 PM IST | Jerusalem
انتہا پسند اسرائیلی وزیر بین گویر نے سیکڑوں غیر قانونی یہودی آبادکاروں کے ہمراہ مسجد اہراہیمی پر دھاوا بول دیا، بین گویرکا یہ دھاوا مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخلے کے ایک دن بعد ہوا۔
انتہا پسند اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے منگل کو جنوبی مغربی کنارے کے شہر الخلیل کی ابراہیمی مسجد پر سینکڑوں غیر قانونی یہودی آباد کاروں کے ہمراہ دھاوا بول دیا۔بین گویر کی یہ یلغار ایک ایسے دن بعد ہوئی جب اس نے یہودی عید سکوت جو اتوار کو شروع ہوئی اور ہفتہ تک جاری رہے گیکے دوران مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخلے کی کوشش کی ۔اسرائیل کے چینل۱۴؍ نے ویڈیو فوٹیج نشر کی جس میں بین گویر ابراہیمی مسجد میں داخلے کے دوران نظر آ رہا ہے۔ بعد ازاں بین گویر، جو برسوں سے الخلیل میں بطور قابض مقیم ہے، نے دورے کے دوران چینل کو بتایا،’’جب میں ابراہیمی مسجد پہنچتا ہوں تو مجھے ایسی توانائی ملتی ہے کہ میں گانا اور خوشی منانا چاہتا ہوں۔‘‘ انٹرویو کے دوران اس کے پیچھے سینکڑوں یہودی آباد کار دیکھے جا سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور
تاہم اسرائیلی حکام نے پیر کو اعلان کیا کہ ابراہیمی مسجد سکوت کے دوران مسلمان نمازیوں کے لیے بند رہے گی۔فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے ایک بیان میں کہا،’’اس سے قبل کہ قابضین یہودی تعطیلات کے دوران اس پر قبضہ کر لیں اور اس کی حرمت کو پامال کریں، مسجد میں نماز اور اذان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔وزارت نےمزید کہاکہ ’’،یہ اقدامات ابراہیمی مسجد کی حرمت پر کھلا حملہ اور عبادت کی آزادی اور مسلمانوں کے مذہبی رسومات ادا کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہیں،‘‘ اور زور دیا کہ مسجد مکمل طور پر اسلامی وقف ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مسجد میں وقتی اور مکانی تقسیم مسلط کرنے کی اسرائیلی کوششوں اور مسلسل اقدامات کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔
واضح رہے کہ ابراہیمی مسجد الخلیل کے پرانے شہر میں واقع ہے، جو مکمل اسرائیلی زیر قبضہ علاقہ ہے، جہاں تقریباً۴۰۰؍ غیر قانونی یہودی آباد کار۱۵۰۰؍ اسرائیلی فوجیوں کے تحفظ میں رہتے ہیں۔ مزید برآں ۱۹۹۴؍ میں جب ایک یہودی قابض نے اس مقام پر ایک قتل عام میں۲۹؍ فلسطینیوں کو نماز کی حالت میں قتل کردیا تھا، اسرائیل نے مسجد کو تقسیم کردیا اور۶۳؍ فیصد یہودیوں اور۳۷؍ فیصد مسلمانوں کو مختص کیا ۔ یکطرفہ اسرائیلی انتظامات کے تحت، مسجد ہر سال یہودی مذہبی مواقع پر۱۰؍ دن کے لیے مسلمانوں کے لیے مکمل طور پر بند رہتی ہے اور اسی طرح اسلامی مذہبی مواقع پر۱۰؍ دن کے لیے یہودیوں کے لیے بند رہتی ہے۔ ذہن نشین رہےکہ اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی نسل کشی جنگ شروع ہونے کے بعد سے، اسرائیل نے مسلمانوں کے مذہبی مواقع پر مسجد کو مکمل طور پر نہیں کھولا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا ابوظہبی کا غیر اعلانیہ دورہ، محمد بن زاید سے ملاقات
یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل۱۹۴۸ء میں فلسطینی سرزمین پر قابص ہوا جسے مسلح صہیونی گروہوں نے قبضے میں لیا تھا جنہوں نے قتل عام کیا اور کم از کم۷۵۰۰۰۰؍ فلسطینیوں کو بے گھر کیا۔ اسرائیل نے بعد میں باقی فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا ساتھ ہی اسرائیل ان علاقوں سے انخلاء اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں طے شدہ فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرتا رہتا ہے۔