دیہی اضلاع میں ۱۱؍نومبر سے پرائمری اسکول شروع کئے جانےکاامکان

Updated: October 25, 2021, 10:01 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

دیہی اضلاع میں جاری پانچویں تا بارہویں جماعت کےتقریباً ۴۵؍ہزار اسکول کے کم وبیش ۶۰؍تا ۶۵؍لاکھ طلبہ رو زانہ اسکول میں حاضری دے رہے ہیں۔ ۵۲؍ہزار ۹۴؍ اسکولوں میں پہلی تا چہارم جماعت کے ۹۶؍لاکھ ۹؍ہزار ۴۲۳؍طلبہ کیلئے اسکول شروع کرنےکا فیصلہ کیاجارہاہے

Picture.Picture:INN
پرائمری اسکولوں کے طلبہ کے والدین کوبھی آف لائن اسکول شروع کئے جانے کا بے صبری سے انتظار ہے۔ تصویر: آئی این این

کوروناوائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران تقریباً ۱۹؍مہینے تک اسکول  بندہونے سے طلبہ کا بڑا تعلیمی نقصان ہواہےاسی لئے  والدین اور سرپرستوں میں تشویش پائی جارہی تھی۔ کوروناکے معاملات میں کمی آنے کےبعد حکومت نے ۴؍اکتوبر سے شہر ی علاقوں کے اسکولوں میں ۸؍ویں تا ۱۲؍ویں اور دیہی علاقوں کے اسکولوں میں  ۵؍ ویں تا ۱۲؍جماعت شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔  اس دوران ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع سے طلبہ میں کوروناکی کوئی شکایت نہیں ملی ہے  ساتھ ہی طلبہ کی تعدادمیں بتدریج اضافہ ہورہاہے ۔ اس لئے ضلع پریشد کے اسکولوںمیں دیوالی کے بعد ۱۱؍نومبر کوقومی تعلیمی دن کےموقع پراسکولوں میں  اوّل تاچہارم جماعت  شروع کرنے کا منصو بہ بنایاجارہاہے ۔دیہی اضلاع میں جاری پانچویں تا بارہویں جماعت کے تقریباً  ۴۵؍ہزار اسکول کے کم وبیش ۶۰؍تا ۶۵؍لاکھ طلبہ روزانہ اسکول میں حاضری دے رہےہیں۔اب ریاست کے پہلی تا چہارم جماعت کے ۵۲؍ہزار ۹۴؍ اسکول میں زیر تعلیم ۹۶؍ لاکھ ۹؍ہزار ۴۲۳؍طلبہ کیلئے اسکول شروع کرنےکا فیصلہ کیا جارہاہے ۔ ۱۱ ؍نومبر سے ان اسکولوںکو شروع کرنےکا منصوبہ ہے ۔ اوّل تا چہارم جماعت کے مذکورہ طلبہ میں سے ۳۶؍لاکھ ایک ہزار ۷۰۰؍طلبہ ایسے ہیں جن کے پاس موبائل فون کی سہولت نہیں ہے اس لئے وہ آن لائن تعلیم سے محروم ہیں۔ ان طلبہ کوجلد از جلد آف لائن تعلیم سے جوڑنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے کہاکہ ’’دیہی اضلاع میں ۵؍ویں تا ۱۲؍جماعت کے اسکول شروع کردیئے گئےہیں۔ ان اسکول میں طلبہ کی حاضر ی بھی بہتر رہی ہے۔ علاوہ ازیں کہیں سے بھی طلبہ کے کورونا سے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ ایسے میں اوّل تا چہارم جماعت کے تقریباً۵۲؍ہزاراسکولوں کے کم وبیش ۹۶؍ لاکھ طلبہ اور ان کے والدین بے صبری سے آف لائن اسکول شروع کئے جانے کےمنتظر ہیں لہٰذا کسی بھی صور ت میں ان جماعتوں کے اسکول شروع کئے جائیں ۔ ان جماعتوں کے اسکول شروع کرنے کیلئے طلبہ پر کسی طرح کی شرط عائد نہ کی جائے ۔جیسے طلبہ پر ٹیکہ لگانےکی پابندی نہ ہو۔ان جماعتوں کے بچے دیہی اضلاع میں دوردراز علاقوں سے آتےہیں۔ ا ن کیلئے آمدورفت کی سہولت فراہم کی جائے ۔ بس اور آٹورکشا  میں سفر کیلئے ان پر پابندیاں یاشرائط نہ لگائی جائیں ۔کورونااور لاک ڈائون  کے سبب مالی  تنگی سے  اب بھی متعدد طلبہ اور ان کے سرپرست پریشان ہیں۔اس طرح کے طلبہ اور ان کے والدین سے تعاون کیاجائے ۔ تمام اسکولوںکی فیس معاف کی جائے۔ طلبہ کو ٹراویلنگ الائونس دیاجائے ۔ ہوسٹل میں رہنےوالے طلبہ کیلئے حکومت کی طرف سےقیام وطعام کا انتظام کیاجائے ۔ ان جماعتوں کے وہ اساتذہ جنہوںنے ابھی تک کووڈ۱۹؍ کا ٹیکہ نہیں لیاہے ، انہیں مفت میں ٹیکہ لگایاجائے اور دیگر مراعات سے نوازاجائے ۔ 
  پرائمری ایجو کیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر دینکر ٹیمکر نے کہاکہ ’’اوّل تاچہارم جماعت کے اسکول  دیوالی کےبعد شروع کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔دیہی اضلاع میں جاری پانچوں تا بارہویں جماعتوں کے اسکول کی رپورٹ کا جائزہ لینےکےبعد اوّل تاچہارم جماعت  کے اسکول شروع کرنےکےبارےمیں فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK