کسان ندھی یوجنا کی نئی قسط جاری ،سابقہ حکومتوں پروزیراعظم کی تنقید

Updated: June 01, 2022, 12:08 PM IST | Agency | Shimla

نریندر مودی نے اپنی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ۸؍ برسوں میں ملک کا اعتماد بڑھا ہے اور اس دوران غریبوں کو سرکاری اسکیموں کا بھرپور فائدہ ملا ہےجبکہ ۲۰۱۴ء سے پہلے عوامی بہبود کے نام پر خرچ کی جانے والی رقم عوام تک نہیں پہنچتی تھی، کانگریس نے بی جے پی سے اس کے انتخابی وعدوں کا حساب مانگا

Before addressing the function in Shimla, the Prime Minister also held a road show.Picture:PTI
شملہ میں تقریب سے خطاب کرنے سے قبل وزیراعظم نے ایک روڈ شو بھی کیا صویر: پی ٹی آئی

ـ:وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ’پردھان منتری کسان ندھی یوجنا‘ کی۱۱؍ویں قسط جاری کرتے ہوئے جہاں اپنی حکومت کی تعریف کی وہیں سابقہ حکومتوں پر جم کر تنقید بھی کی۔انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی تمام رقم عوام تک براہ راست پہنچتی ہے جبکہ۲۰۱۴ء سے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی  رقم کا  بڑا حصہ بچولئے کھا جایا کرتے تھے اور حکومت خاموش رہتی تھی۔ دوسری طرف کانگریس نے بی جے پی سے اس کے انتخابی وعدوں کا حساب طلب کیا۔ سوال کیا کہ عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے، ان میں سے کتنے وعدوں کی تکمیل ہوئی ہے۔ 
 نریندر مودی نے یہ رقم اپنی حکومت کے۸؍ سال مکمل ہونے پر غریب کلیان سمیلن کے دوران جاری کی۔ اس کے تحت ۱۰؍ کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں ڈیجیٹل ذریعہ سے۲۱؍ ہزار کروڑ روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ خیال رہے کہ اس یوجنا کے تحت کسانوں کو سالانہ ۶؍ ہزار روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت کسان کو سال میں ۳؍ بار ۲۔۲؍ ہزار روپوں کی مالی امداد دی جاتی ہے۔ اس موقع پرپورے ملک کے عوام سے ورچوئل انداز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نےکہا کہ گزشتہ ۸؍ برسوں کے دوران ملک کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت کی تمام اسکیموں کیلئے مختص ہونے والی رقم بغیر کسی بدعنوانی کے ۱۰۰؍ فیصد غریبوں تک پہنچ رہی ہے۔اپنی حکومت کے۸؍ سال مکمل ہونے کے موقع  پر شملہ میں منعقد غریب کلیان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے  نریندرمودی نے کہا کہ۲۰۱۴ء سے پہلے ہندوستان بدعنوانی، گھپلوں ، اقربا پروری اور نوکر شاہی کیلئے جانا جاتا تھا، لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ اب یہ ملک بدعنوانی سے لڑنے، غریبوں کے تئیں حساس ہونے اور ملک کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ جرائم کے خلاف نکیل کسنے اور بدعنوانی کو برداشت نہ کرنے پر اب ہندوستان کا دنیا میں چرچا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں کرپشن کے خلاف لڑنے کے بجائے گھٹنے ٹیکنے کیلئےجانی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں ہمارا ملک جن دھن کھاتوں،  گھروں میں گیس کی سہولت، عزت کے ساتھ رہنے کیلئے بیت الخلا، صحت کی سہولیات کیلئے آیوشمان بھارت اسکیم اور ملک کی سلامتی کیلئے ایئر اسٹرائک جیسےکارناموں کیلئے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کی سرحدیں زیادہ محفوظ ہیں اور ملک کا شمال مشرقی خطہ جو کہ امتیازی سلوک کا شکار رہا ہے، ملک میں شامل ہو گیا ہے۔ حکومت اب مائی باپ کی نہیں بلکہ جنتا جناردن کی  خادم ہے۔ حکومت عوام کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کر رہی بلکہ اسے آسان بنا  رہی ہے۔ خیال رہے کہ ایک دن قبل بی جے پی کے لیڈروں نے اپنی حکومت کی حصولیابی گنوانے کیلئے بھرپور تشہیری مہم چلائی تھی۔ امیت شاہ،راج ناتھ سنگھ، ایس جے شنکر، جے پی نڈا اور دیگر لیڈروں نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی حکومت کے ۸؍ سال ملک کیلئے بہت کارآمد رہے ہیں۔ کانگریس نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے دعوے تو خوب کئے لیکن اپنے اُن وعدوں کا تذکرہ نہیں کیا جواس نے  انتخابی مہموں کے دوران کیا تھا۔کانگریس کے ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے پارٹی ہیڈکوارٹرز پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جے پی نڈا نےمودی حکومت کے کام کی تعریف کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے کا کیا ہوا؟انہوں نے کہا کہ گزشتہ۸؍ برسوں میں ملک کا ماحول بہت خراب ہوا ہے۔ اس حکومت نے گزشتہ ۷۰؍ برسوں  میں جس رفتار سے ملک نے ترقی کی ہے، اس سے زیادہ تیزی سے حالات خراب کئے ہیں۔ مودی حکومت پی ایس یو کو بیچ رہی ہے جو ملک کی ترقی کیلئے بنائے گئے تھے اور سرکاری ملازمتوں کے مواقع کو ختم کرکے ریزرویشن ختم کرنے کا کام کر رہی ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ روپیہ۷۰؍ سال کی تاریخ میں پہلی بار اتنی نچلی سطح پر پہنچا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بہت کم ہے، اس کے باوجود تیل مہنگا فروخت کیا جا رہا ہے جس سے عام لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اجولا اسکیم کا ڈھول پیٹتی ہے لیکن کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے حکومت کی اس اجولا اسکیم کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ ایک بار سلنڈر بھرنے آتے ہیں لیکن اس کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کو دوسری بار بھروانےکیلئے نہیں آپاتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK