Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہمیں مزاحمتی راہ اختیار کرنی ہوگی کیوں کہ الیکشن آزاد و منصفانہ نہیں ہوں گے‘‘

Updated: June 14, 2026, 9:12 AM IST | New Delhi

۸؍ جون کو نئی دہلی میں ’انڈیا‘ اتحاد کی میٹنگ میں راہل گاندھی نے ملک کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتے ہوئے اپوزیشن کیلئے مستقبل کا ’’روڈ میپ‘‘ پیش کیا ،ان کی پوری تقریر ملاحظہ فرمائیں:

Rahul Gandhi
 راہل گاندھی

کئی سال پہلے  ایک بہت اچھے دوست سے میری بحث ہوگئی۔ میں نے اس سے کہا کہ جو تم کر رہے ہو وہ سراسر ناانصافی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ دنیا ہی ناانصاف ہے، اس کی عادت ڈال لو۔آج یہاں کانگریس پارٹی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، ان کا جواب دینا میرا مقصد نہیں ہے ۔ اگر آپ کو میرے یا کانگریس پارٹی کے بارے میں مزید تنقید کرنی ہے تو کریں،ہم خوش دلی اور مسکراہٹ  کے ساتھ قبول کریں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ آپ خوش رہیں کیوں کہ ہمارارول باقی لوگوں سے بالکل مختلف ہے۔ جیسا کہ آپ میں سے بہت سوں نے کہا، ہماری ذمہ داری پیار محبت سے آپ سب کو متحد رکھنا ہے۔
  میں ۲۰۰۴ء  سے کانگریس کا رکن پارلیمان ہوں۔ہماری پارٹی کی ساخت ملک کی دیگر جماعتوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پارٹی اس وقت ایک مزاحمتی تحریک کی شکل میں ابھری تھی جب جدید ہندوستان کاوجود نہیں تھا۔ دیگر پارٹیوں کے برعکس ہماری پارٹی  حکومتی ڈھانچے اور سرکاری سرپرستی   کے سہارے پروان نہیں چڑھی۔ کانگریس پارٹی دراصل مزاحمتی تحریک ہے جو اس نظریے کا تحفظ کرتی ہے کہ تمام ہندوستانی برابر ہیں۔ہم  بنیادی طور پر آر ایس ایس کے نظریہ  کےمخالف ہیں۔بی جے پی یا آر ایس ایس  کے ساتھ سمجھوتہ کرنے  سے پہلے ہم مر جانا پسند کریں گے۔  اس کیلئے آپ کو ہمارے سر قلم کرنے ہوں گے۔ میں  لاکھوں کانگریسی کارکنوں کو جانتا ہوں جو کہیں گے کہ ہمارے سر کاٹ دو  لیکن ہم آر ایس ایس کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ابھیشیک بنرجی کے مکان پر چھاپہ

مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اتحاد میں ایک غلط فہمی موجود ہے۔ غلط فہمی یہ ہے کہ آپ یعنی سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل  یہ سمجھتی ہیں کہ  اب تک آپ نے جو سیاسی طریقہ کار  استعمال کیا وہ اب بھی کام آئے گا حالانکہ وہ طریقے اسی وقت کام کرتے تھے جب ریاستی ادارے غیر جانبدار تھے۔ اب وہ صورتحال باقی نہیں رہی۔بی جے پی سرکاری اداروں، قانونی نظام، بیوروکریسی، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور یہاں تک کہ الیکشن کمیشن پر بھی قابض ہے۔ 
 ترنمول کانگریس میں  میرے بہت سے  دوستوں کو یقین تھا کہ وہ مغربی بنگال الیکشن یکطرفہ  جیت رہے ہیں مگر میں ان سے کہہ رہا تھا کہ وہ خوابوں کی دنیا میں ہیں۔ میں نے گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور مہاراشٹر میں دیکھا ہے کہ کیا ہوتا ہے مگر آپ میں سے بہت سے لوگ  یقین نہیں کررہے تھے۔کانگریس مزاحمت کرنے  والی پارٹی ہے۔ اس کے زندہ رہنے کیلئے سرکاری اداروں کی غیر جانبداری ضروری نہیں  بلکہ جتنا زیادہ ریاستی اداروں پر قبضہ کیا جائے گا اتنی ہی شدت  کے ساتھ کانگریس  دفاع کیلئے لڑے گی۔سمجھنے کی کوشش کریں،  ۲۰۲۴ء  کا الیکشن ہم ہارے نہیں، جیتے تھے۔آپ نے پوچھا کہ نتیش جی کیوں ہمیں  چھوڑ کر چلے گئے،   وہ میری  یا کانگریس پارٹی کی وجہ سے نہیں گئے۔   میں آپ کو بتا دوں کہ آنے والے دنوں  میں  وہ چند ذرائع بھی کام کرنا بند کر دیں گے جو اَب تک کسی حد تک کام کررہے ہیں کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس  سرکاری اداروں پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
 ۱۰۰؍ سال پہلے کانگریس نے بالکل اسی طرح   کے حالات کا مقابلہ کیاتھا۔ ۱۹۲۷ءسے پہلے ہم ایک سیاسی جماعت تھے لیکن جیسے ہی مہاتما گاندھی نےکہا کہ ہمیں آزادی چاہئے، ہم مزاحمتی تحریک  میں تبدیل ہوگئے۔   اگر سیاسی جماعتیں  کام نہ کر سکیں تو پھر مزاحمت ہی کام آتی ہے۔ جہاں بھی ہم نے مزاحمت کی، ہمیں کامیابی ملی۔

اب ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے سے نہیں لڑیں گے، ہم میڈیا کو موقع نہیں دیں گےوہ ہم پر حملہ کرے بلکہ ہم مزاحمت کریں گے۔آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا چیلنج اگلا الیکشن  جیتنا ہے مگر میرے نزدیک اگلا انتخاب پہلے ہی جیتا جا چکا ہے کیونکہ ملک کے عوام میں شدید غصہ  ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آر ایس ایس نے ریاستی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے اور آپ کو آزاد اور منصفانہ انتخابات میسر نہیں ہوں گے۔اس لئے ہمیں مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ مزاحمت سی بی ایس ای، نیٹ  اور بھارت جوڑو یاترا  ہے۔جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں ہر طرف سے  اور ہر طرح کی تنقید برداشت کرنے کو تیار ہوں،میرے لئے اب یہ صرف سیاست نہیں  ہےبلکہ روحانی اور مذہبی فریضہ  بن گیاہے، اسی  لئے میں اس اتحاد کو جوڑے رکھنے کیلئےہر قسم کی توہین برداشت کرنے کو تیار ہوں۔ کیسے آگے بڑھنا یہ بہت آسان ہے۔ ہمیں کچھ خیالات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ممتا بنرجی ۱۰۰؍ فیصد نہیں ،۹۰؍ فیصد یقین رکھتی ہیں کہ ان کا الیکشن چرایا گیا۔ ادھو ٹھاکرے اور میرے بھائی  تیجسوی یادو کو  کو ۴۰؍ فیصد یقین ہے کہ ان کا الیکشن چوری ہوا ہے مگر میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ الیکشن ۱۰۰؍ فیصد  چوری ہورہے ہیں۔اگر آپ کو اس پر کوئی شبہ ہے تو اس کو ذہن سے نکال دیں۔

یہ بھی سمجھ لیں کہ سوشل میڈیا پر موجودگی بنانے میں برسہابرس لگ جاتے ہیں۔ یہ  ایک ہفتے میں نہیں  ہوتا۔ میرے یوٹیوب پر ایک کروڑ فالوورس ہیں مگر میرا اکاؤنٹ مکمل طور پر دبایا جا رہا ہے۔اگرآپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیامنصفانہ ہے اور اپوزیشن کی حمایت کررہاہےتو آپ حقیقت سے دور ہیں۔ پورا ڈھانچا میڈیا، سوشل میڈیا،  عدالتی نظام، بیوروکریسی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں سب اس حکومت کو اقتدار میں رکھنے کیلئے کام کر رہی ہیں لیکن یہ حکومت زیادہ  عرصہ تک قائم نہیں رہے گی کیونکہ اس نے ہندوستانی جمہوریت اور عوام کے مستقبل کو نقصان پہنچایا ہے۔ایران میں ہونے والے واقعات کے بعد جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے، وہ قابو سے باہر ہوگی اور عوامی تحریکوں کیلئے ایک نئی جگہ پیدا کرے گی۔

یہ خیال بھی ذہن سے نکال دیں کہ ہم باہم مربطور نہیں ہے اور متحد ہوکر کام نہیں کرتے۔ یہ صرف بی جے پی اور اس کے حامی میڈیا کا پھیلایا ہوا بیانیہ ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگرآئیڈیا آف انڈیا  کے دفاع کا معاملہ ہوگا ڈی ایم کے اور اس کمرے میں موجود ہر جماعت ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی۔ہماری سیاسی لڑائیاں  ہیں اور وہ رہیں گی۔اگر آپ کہیں گے کہ میں جاؤں اور کیرالا کے سابق وزیراعلیٰ کو گلے لگالوں تو میں ایسا نہیں کروں گا اور میں ایسا نہیں کرسکتا کیوں کہ ہماری ان کے ساتھ سیاسی لڑائی چلتی رہے گی۔ تو اس لئے ہمیں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ اپوزیشن کو کمزور اور منتشر دکھایا جا سکے۔

آخر میں، میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہماری گفتگو میں اکثر مایوسی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ کیا  ہم کبھی بی جے پی کو  شکست دے سکیں گے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اگر ہم متحد رہیں اور مزاحمت کریں تو انہیں شکست دینا بہت آسان ہے۔گزشتہ الیکشن (۲۰۲۴ء) میں میرے  علاوہ  اس کمرے میں موجود کسی شخص کو یقین نہیں تھا کہ ہم بی جے پی کوروک سکتے ہیں۔ اس کمرہ میں موجود ہر شخص کو یہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ  اور اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کہ ہم انہیں شکست دے سکتے ہیں اور دیں گے۔   اگر آپ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو  میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ  ریاست در ریاست اور  انتخاب در انتخاب، چاہے وہ دھاندلی کریں یا نہ کریں، وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK