Updated: May 12, 2026, 7:11 AM IST
| New Delhi
کفایت شعاری اچھی عادت ہے مگر یہ ابھی کیوں؟ یہ سوال بہت سوں کو پریشان کررہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اتوار کو یہاں (سکندرآباد، تلنگانہ) میں ’’عالمی مسائل اور چیلنجوں‘‘ سے نمٹنے کیلئے عوام کی اجتماعی شراکت پر زور دیا اور گیارہ (۱۱) نکاتی اپیل کی جس میں بالخصوص پیٹرولیم پروڈکٹس کا استعمال کم کرنے کا مشورہ دیا تاکہ غیر ملکی زر مبادلہ کو بچایا جاسکے۔
کفایت شعاری اچھی عادت ہے مگر یہ ابھی کیوں؟ یہ سوال بہت سوں کو پریشان کررہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اتوار کو یہاں (سکندرآباد، تلنگانہ) میں ’’عالمی مسائل اور چیلنجوں‘‘ سے نمٹنے کیلئے عوام کی اجتماعی شراکت پر زور دیا اور گیارہ (۱۱) نکاتی اپیل کی جس میں بالخصوص پیٹرولیم پروڈکٹس کا استعمال کم کرنے کا مشورہ دیا تاکہ غیر ملکی زر مبادلہ کو بچایا جاسکے۔
اتوار کو ایک عوامی ریلی سے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم مثلاً ٹرینوں اور بسوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعہ پیٹرول اور ڈیزل کم سے کم خرچ ہو۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نے بجلی سے چلنے والی موٹر گاڑیوں کی وکالت کی نیز ’’کارپو‘لنگ‘‘ کا مشورہ دیا تاکہ ایک ہی دفتر کے جو لوگ الگ الگ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں وہ کسی ایک ساتھی کی کار کا استعمال کریں اور بقیہ کاروں کو گھروں پر ہی رہنے دیں۔ بقول وزیر اعظم اس سے پیٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم ہوگا۔ کووڈ کے دور کی یاد دِلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ گھر سے کام کرسکتے ہوں (ورک فرام ہوم) اُنہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ بقول وزیر اعظم ہم نے کووڈ کے دور میں ویڈیو کانفرنسنگ کی، ورچوئل میٹنگیں کیں اور اس طرح کے کئی دوسرے طریقے اپنائے، اس کا ہمیں اچھا خاصا تجربہ ہوچکا ہے، اس لئے انہی طریقوں پر دوبارہ عمل کرنا بہتر ہوگا۔ انہوں نے کیمیائی کھادوں کے استعمال سے بھی گریز کی تلقین کی اور کہا کہ قدرتی طریقۂ زراعت سے ہمیں کافی مدد مل سکتی ہے۔ اس سے دیش آتم نربھر بنے گا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دیسی اشیاء اور مصنوعات کے استعمال کو اولیت دی جائے، یہ اس لئے ضروری ہے کہ مغربی ایشیاء کی جنگ کے سبب عالمی بحران کا سامنا ہے، ایسے میں ہمیں عزم کرنا ہوگا کہ ہم ملک کے مفاد کو ہر چیز پر فوقیت دیں گے۔ انہوں نے غیر ملکوں میں شادی کی تقریبات کے انعقاد کو بھی ہدف بنایا اور کہا کہ حالیہ برسو ںمیں یہ رجحان کافی بڑھا ہے۔ اسی طرح، متوسط طبقے میں چھٹیاں گزارنے کیلئے بیرونِ ملک جانے کے کلچر کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بیرونِ ملک کے کسی بھی پروگرام کو کم از کم ایک سال کیلئے موقوف رکھنے کی ضرورت ہے۔ اتنے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عوام کو سونے (گولڈ) کی خریداری کو بھی ٹالنے کی صلاح دی کیونکہ عوامی ضرورت کا ۹۰؍ فیصد سونا بیرونی ملکوں سے درآمد کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے فارین ایکس چینج ریزرو پر بوجھ پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستان ہر سال ۷۰۰؍ تا ۸۰۰؍ ٹن سونا غیر ملکی بازار سے خریدتا ہے۔ غیر ملکی اشیاء سے بچنے کے عنوان پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء کی فہرست بنائیے اور دیکھئے کہ اُس میں کون سی اشیاء غیر ملکی ہیں۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ ہم غیر ملکی اشیاء کا مکمل بائیکاٹ شروع کردیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ خود انحصاری کا رجحان پیدا کریں اسی لئے مَیں نے کووڈ کے دور میں ’’ووکل فار لوکل‘‘ (دیسی مال کی طرفداری) کا نعرہ دیا تھا۔
وزیراعظم نے خوردنی تیل کے استعمال میں بھی احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’مَیں کہتا آیا ہوں کہ خو ردنی تیل کا استعمال ۱۰؍ فیصدکم کیا جائے، اس سے نہ صرف یہ کہ موجودہ بحرانی دور میں ملک کی مدد ہوگی بلکہ آپ کے اہل خانہ کی صحت بھی بہتر رہے گی۔‘‘ کفایت شعاری ہی کے باب میں مودی نے ملک کے زرعی شعبے سے کہا کہ وہ کیمیائی کھادوں کے استعمال میں تخفیف کرے اور زراعت کے دیسی طریقے اپنائے۔ انہوں نے کسانوں کو صلاح دی کہ وہ آبپاشی کے پمپ کے بجائے سولار پاور کا استعمال کریں۔
وزیر اعظم کی اس گیارہ نکاتی اپیل پر اپوزیشن ہی نے ناراضگی نہیں دکھائی (چند تاثرات ذیل میں دیکھیں) بلکہ سوشل میڈیا کے صارفین بھی جم کر برسے، اسی لئے حکومت کو وضاحت جاری کرنی پڑی۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ انفارمل گروپ آف منسٹرس کی پانچویں میٹنگ میں کہا گیا کہ ملک میں پیٹرول ڈیزل وغیرہ کا کافی ذخیرہ ہے، عوام مطمئن رہیں اور ’’ڈر کر یا گھبرا کر پہلے سے خرید لینے‘‘ (پینِک بائنگ) سے گریز کریں۔ وزیراعظم نے مغربی ایشیاء کے بحران کے مد نظر جو اپیل کی ہے اس کا مقصد وسائل کے منصفانہ استعمال اور سماج کی مشترکہ ذمہ داری کا احساس دلانا تھا۔