Updated: May 11, 2026, 6:02 PM IST
| New Delhi
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کے بحران کے خدشات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے ایندھن کی بچت، ورک فرام ہوم اور غیر ملکی سفر محدود کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزیراعظم کی ان ہدایات کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی پابندیوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
کارتی چدمبرم۔ تصویر: آئی این این
وزیراعظم نریندر مودی نے اتوارکو کورونا وبا کے دوران نافذ کی گئی بعض پابندیوں کو دوبارہ شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ دوبارہ گھروں سے کام (ورک فرام ہوم) شروع کریں اور غیر ملکی سفر سے گریز کریں۔ ان تجاویز کے بعد ملک بھر میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے اور ’’حقیقی صورتحال‘‘ سے قوم کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت سے لوگ یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور کورونا لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو سکتی ہیں۔
کارتی چدمبرم نے کہا، ’’یہ وزیر اعظم ہند کی جانب سے انتہائی سنجیدہ ہدایات ہیں۔ آخر اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ؟ حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا چا ہئے اور قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے اصل صورتحال سے آگاہ کرنا چاہئے جس کے باعث یہ اپیلیں ضروری ہو گئی ہیں۔ ‘‘یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔ امریکی صدرٹرمپ نے ایران کے جواب کو’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا، جس کے بعد تعطل برقرار رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتی آیوگ نے اسکولوں میں اے آئی تعلیم کا ۱۳؍ نکاتی روڈ میپ پیش کیا
وزیر اعظم مودی کورونا دور کی پابندیوں جیسا نظام دوبارہ کیوں چاہتے ہیں؟
وزیراعظم مودی نے تلنگانہ میں ایک تقریب کے دوران کہا:’’کورونا کے دوران ہم نے ورک فرام ہوم، آن لائن میٹنگز اور ویڈیو کانفرنسنگ جیسے کئی نظام اپنائے تھے اور ہم ان کے عادی بھی ہو گئے تھے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ اگر ہم ان نظاموں کو دوبارہ شروع کریں تو یہ قومی مفاد میں ہوگا۔ ہمیں دوبارہ ورک فرام ہوم، آن لائن کانفرنسز اور ورچوئل میٹنگز کو ترجیح دینی چاہئے۔ ‘‘انہوں نے ایندھن کی بچت کیلئے کفایت شعاری کے مختلف اقدامات بھی تجویز کئے، جن میں ممکن ہو تو میٹرو سے سفر کرنا، کار پولنگ کرنا اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو ترجیح دینا شامل ہے۔ مودی نے عوام سے یہ بھی کہا کہ کم از کم ایک سال تک بیرون ملک سفر ملتوی کر دیں اور سونے کی خریداری محدود کریں۔ وزیراعظم کی یہ اپیلیں ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قلت اور زرمبادلہ بچانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔ ورک فرام ہوم اور آن لائن تقریبات کے ذریعے لوگوں کے روزانہ سفر میں کمی آئے گی، جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: کرنل صوفیہ قریشی کے معاملے میں عدالت برہم
’پٹرول اور ڈیزل کا استعمال کم کریں‘: مودی
مودی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے تناظر میں شہریوں سے پٹرول اور ڈیزل کا استعمال کم کرنے کی اپیل کی۔ آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی اور خلیجی ممالک میں توانائی کے مراکز پر حملوں کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اب تک تیل کمپنیاں اور بھارتی حکومت زیادہ تر نقصانات خود برداشت کر رہی ہیں، تاہم قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا:’’اس عالمی بحران کے وقت ہمیں اپنے فرض کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عزم کرنا ہوگا۔ ایک بڑا عزم یہ ہونا چاہئے کہ پٹرول اور ڈیزل کا کم سے کم استعمال کریں۔ جن شہروں میں میٹرو موجود ہے وہاں میٹرو سے ہی سفر کریں۔ اگر گاڑی استعمال کرنا ضروری ہو تو کار پولنگ کریں، اور جن لوگوں کے پاس الیکٹرک گاڑیاں ہیں وہ ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے وہاٹس ایپ پر اردو نظم شیئر کرنے پر ٹیچر کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کر دی
’سونا خریدنا اور بیرون ملک چھٹیاں منانا بند کریں‘: مودی
مودی نے مزید کہا:’’ہمیں زرمبادلہ بچانے پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی کیونکہ عالمی سطح پر پٹرول اور ڈیزل بہت مہنگے ہو چکے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل خریدنے پر خرچ ہونے والا زرمبادلہ بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ متوسط طبقے میں بیرون ملک شادیوں، سیر و تفریح اور تعطیلات کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا چا ہئے کہ اس بحرانی دور میں کم از کم ایک سال تک بیرون ملک سفر مؤخر کر دیں۔ ‘‘انہوں نے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل بھی کی۔ مودی نے کہا:’’سونے کی خریداری بھی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں بہت زیادہ زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ قومی مفاد میں ہمیں عہد کرنا چا ہئے کہ چاہے گھر میں کتنی ہی تقریبات کیوں نہ ہوں، ایک سال تک سونا نہیں خریدیں گے۔ ‘‘