• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

جی-۷؍ اجلاس میں وزیر اعظم کا امن کا پیغام

Updated: May 22, 2023, 3:21 PM IST | Hiroshima

سربراہی اجلا س سےمودی کا خطاب، روس یوکرین تنازع ختم کرنے پرزور ، جنگ کے خاتمے کیلئے بدھ مت کی تعلیمات کو اپنا نے کی وکالت ، تنازعات کو روکنے میں اقوام متحدہ کی ناکامی پر تنقید ، عالمی ادارے میں اصلاحات نافذ کرنے کی تجویز

Prime Minister Narendra Modi speaking. (AP/PTI)
وزیر اعظم نریندر مودی خطاب کرتےہوئے۔ (اےپی/ پی ٹی آئی)

  اتوار کو  وزیر اعظم نریندر مودی نے   جی -۷؍ اجلاس میں امن کا پیغام دیا ۔ انہوں نے روس یوکرین تنازع ختم کرنے کیلئے دنیا کے ۷؍ سب سے زیادہ خوشحال اور طاقتور ممالک  سے گوتم بدھ کی تعلیمات کو اپنانے کی اپیل کی۔ اس دوران وزیر اعظم نے اقوام متحدہ پر بھی تنقید کی ۔ 
  میڈیارپورٹس کےمطابق   وزیر اعظم نریندر مودی نے ہیر وشیما میں منعقدہ جی۷؍ سربراہی اجلاس کے دوسرے  دن  اتوار کو  ۹؍ویں اجلاس  سے خطاب کرتےہوئے کہا،’’ ہندوستان اور یہاں جاپان میں بھی بھگوان بدھ کی پیروی ہزاروں سالوں سے کی جاتی ہے۔ جدید دور میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل ہمیں بدھ کی تعلیمات میں نہیں مل سکتا۔ آج دنیا جس جنگ، بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار ہے، اس کا حل مہاتما بدھ نے صدیوں پہلے ہی بتا دیا تھا۔‘‘
   اس موقع پر وزیرا عظم  نریندر  مودی نے گوتم بدھ کے  ایک قول کی روشنی  میں بتایا،’’ دشمنی سے دشمنی ختم نہیں ہوتی بلکہ دشمنی وابستگی سے ختم ہوتی ہے۔ اس جذبے کے تحت ہمیں سب کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہئے۔‘‘
 یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا، ’’آج ہم نے صدر زیلنسکی کو سنا۔ کل میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ میں موجودہ حالات کو سیاست یا معیشت کا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ میرا خیال ہے کہ یہ انسانیت کا مسئلہ  ہے، انسانی اقدار کا  مسئلہ ہے۔ ہم نے شروع سے کہا  ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے ہندوستان سے جو کچھ بھی ہوسکے گا، وہ  کرے گا ، اس تنازع کو ختم کرے گا ۔‘‘
 وزیراعظم نے یہ بھی کہا ،’’ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی ہم سب کا مشترکہ مقصد ہے۔ آج کی ایک دوسرے پر منحصر دنیا میں کسی بھی ایک خطے میں کشیدگی تمام ممالک کو متاثر کرتی ہے اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کے پاس وسائل محدود ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال کی وجہ سے خوراک، ایندھن اور کھاد کے بحران کا سب سے زیادہ ثر ان ممالک  پر ہورہا ہے۔‘‘
 انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی اداروں  خاص طور پراقوام متحدہ کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’ غور کیجئے کہ ہمیں مختلف فورمز پر امن  اور استحکام کی بات کیوں کرنی پڑتی ہے؟ امن کے قیام کیلئے قائم کیا گیا ادارہ اقوام متحدہ آج تنازعات کو روکنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتا؟ آخر کیوں اقوام متحدہ میں دہشت گردی کی تعریف تک طے نہیں ہوپائی ہے؟‘‘
  وزیر نریندر مودی  نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر خود کا جائزہ لیاجائے تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ پچھلی صدی میں  قائم کئے جانے والے ادارے ۲۱؍ ویں صدی کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتے۔ موجودہ حقائق کی عکاسی نہیں کرتے،اس لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ جیسے بڑے ادارے میں اصلاحات نافذ کی جائیں۔ ’گلوبل ساؤتھ‘ کی  بھی آواز  بننا ہوگا، ورنہ ہم صرف تنازعات کو ختم کرنے پر با ت چیت  ہی کرتے رہ جائیں گے۔ اس طرح اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل صرف باتوں کی دکان بن کر رہ جائیں گے۔‘‘
 مودی نےمزید کہا ،’’ یہ ضروری ہے کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون ، تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔ جمود کے خاتمے کیلئے یکطرفہ کوششوں کیخلاف مل کر آواز بلند کریں۔‘‘
ٍ   اپنے اس اہم  خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی  نے یہ بھی کہا ، ’’ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کسی بھی کشیدگی اور کسی بھی تنازع کو پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے ختم کیا جانا چاہئے اور اگر قانون سے کوئی حل نکلتا ہے تو اسے قبول کرنا چاہئے اور اسی جذبے کے تحت ہندوستان  نے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے زمینی اور آبی سرحدی تنازع کو حل کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK