Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوم آئین پر وزیر اعظم مودی کا قوم کے نام خط

Updated: November 27, 2025, 3:18 PM IST | New Delhi

پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی صدارت میں آئین کی تمہید پڑھی گئی ،وزیر اعظم مودی اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سمیت تمام اہم لیڈران کی شرکت ، ملک بھر میں جگہ جگہ یوم آئین کی مناسبت سے مختلف پروگراموں کا انعقاد

President Murmu, Vice President CP Radhakrishnan, Prime Minister Modi, Rahul Gandhi, Speaker Om Birla, Mallikarjun Kharge, JP Nadda, Kiren Rijiju and Harivansh Singh reading the Preamble of the Constitution. (Photo: PTI)
صدر جمہوریہ مرمو ، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، وزیر اعظم مودی ، راہل گاندھی ، اسپیکر اوم برلا ، ملکارجن کھرگے، جے پی نڈا ، کرن رجیجو اور ہری ونش سنگھ آئین کی تمہید پڑھتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

وزیر اعظم مودی نے ۲۶؍نومبر کو یوم آئین کے موقع پر ملک کے شہریوں کو خط لکھ کر۱۹۴۹ء میں آئین کو اختیار کرنے کے تاریخی لمحے کو یاد کرتے ہوئے ملک کی ترقی کی رہنمائی میں اس کے پائیدار کردار کو اجاگر کیا ۔
خط میںکیا لکھا  ؟
 وزیر اعظم مودی نے اپنے خط میں لکھا کہ ۲۰۱۵ءمیں حکومت نے اس مقدس دستاویز کے احترام کے لئے ۲۶؍نومبر کو یوم آئین قرار دیا تھا ۔ اس سلسلے میں انہوں نے پارلیمنٹ اور آئین کے تئیں احترام کا اپنا تجربہ بھی شیئر کیا۔انہوں نے۲۰۱۴ء میں پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پرسر جھکانے  اور ۲۰۱۹ء میں احترام کی علامت کے طور پر آئین کو اپنے ماتھے پر رکھنے کے لمحےکو یاد کیا۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئین نے بے شمار شہریوں کو خواب دیکھنے کا اختیار دیا ہے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کی طاقت دی ہے ۔وزیر اعظم نے آئین ساز اسمبلی کے اراکین کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔انہوں نے آئین کی ۶۰؍ ویں سالگرہ  کے دوران گجرات میں سمودھان گورو یاترا اور پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس اور اس کی ۷۵؍ ویں سالگرہ کی یاد میںمنعقد ہونے والے ملک گیر پروگراموں جیسے سنگ میل کا تذکرہ کیا  ۔ وزیر اعظم   نے مہاتما گاندھی کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے  شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کو اپنے ذہن میں سب سے مقدم رکھیں کیونکہ ہندوستان وکست بھارت  کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ خط  کے اختتام میں  وزیر اعظم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم ملک کے شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض کی انجام دہی کے عہد کا اعادہ کریں ، اس طرح ایک ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں تعاون کریں ۔   
پارلیمنٹ میں تقریب ، صدر کا خطاب 
 صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے آئین کو قومی شناخت اور قومی وقار کی عظیم کتاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائی میں ہماری پارلیمنٹ نے اس کی اقدار پر عمل کرتے ہوئےعوام کی امنگوں کے اظہار کیلئے متعدد کام کئے ہیں۔ انہوں نے یہاں یومِ آئین کے موقع پر  پارلیمنٹ  کے سینٹرل ہال میں اپنے خطاب میں کہا کہ آئین ساز اسمبلی نے پارلیمانی نظام کو اپنانے کے حق میں جو مضبوط دلائل پیش کئےتھے وہ آج بھی پوری طرح معتبر اور موزوں ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عوامی تمناؤں اور خواہشات کی ترجمانی کرنے والی ہندوستانی پارلیمنٹ آج دنیا کے کئی جمہوری نظاموں کے  لئےقابلِ تقلید مثال بن چکی ہے۔  صدر مرمو نے کہا کہ آئین سازوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے وہ تمام اراکین پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتی ہیں اور ایک مشکور ملک کی جانب سے دستور ساز اسمبلی کے معزز اراکین کی یاد میں ادب و احترام کیساتھ سلام کرتی ہیں۔ 
تقریب میں کون کون تھا ؟
 واضح رہے کہ اس شاندار تقریب میں نائب صدر جمہوریہ رادھا کرشنن،وزیر اعظم مودی، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی،اسپیکر اوم برلا، بی جے پی صدر جے پی نڈا ، کانگریس  صدر ملکارجن کھرگے اور کرن رجیجو  نے اسٹیج سے صدر جمہوریہ کے ساتھ آئین کی تمہید پڑھنے کا اہتمام کیا جبکہ اس موقع پر دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔
 راہل گاندھی نے کیا کہا ؟
 لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے  یوم دستور پر ہم وطنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہماراآئین غریبوں اور محروموںکیلئے ایک حفاظتی ڈھال ہے اور ملک کے ہر شہری کی آواز ہے۔ ہم اس پرکسی قسم کا حملہ نہیں ہونے دیں گے۔ راہل نے ٹویٹ کیا کہ ہندوستان کا آئین صرف ایک کتاب نہیں  یہ ملک کے ہر شہری سے کیا گیا ایک مقدس وعدہ ہے۔ وعدہ کہ چاہے وہ کسی بھی مذہب یا ذات سے تعلق رکھتا ہو، کسی بھی علاقے سے آتا ہو، کوئی بھی زبان بولتا ہو، غریب ہو یا امیر، اسے برابری، احترام اور انصاف ملے گا۔
کھرگے کی تنقید
  ملک کےیومِ دستور کے موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایکس پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے بی جے پی اورآر ایس ایس پر  شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ڈاکٹر امبیڈکر، جواہر لال نہرو اور دستور ساز اسمبلی کی مشترکہ فکری کوششوں کا نتیجہ ہے۔

کھرگے کے مطابق لیکن جن اداروں اور نظریاتی گروہوں نے اس کی مخالفت کی تھی، وہی آج اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔کھرگے کے مطابق آئین نے ہندوستان میں جمہوریت کو بنیادی مرکزیت دی اور انصاف، مساوات، آزادی، باہمی بھائی چارہ، سیکولرازم اور سوشلسٹ قدروں کو قومی شناخت میں تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یہی شناخت خطرے میں محسوس ہو رہی ہے کیونکہ اداروں پر دباؤ، سیاسی مداخلت اور اختلافِ رائے کو کمزور کرنے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ جب۱۹۴۹ءمیں دستور ساز اسمبلی نے آئین کو منظور کیا تھا، تب آر ایس ایس نے اسے مغربی اقدار کی دین قرار دے کر مسترد کیا تھا اور منوسمرتی کو اپنا مثالی قانونی متبادل بتایا تھا۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس کے انگریزی ترجمان ’آرگنائزر‘ نے نومبر۱۹۴۹ء میں آئین پر تحریری اعتراضات شائع کئے تھے جبکہ گرو گولوالکر نے بھی آئین میں قدیم ہندوستانی قانونی روایتوں کے عدم ذکر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔کھرگے نے کہاکہ آئین غریبوں اور محروموں کے لیے حفاظتی ڈھال ہے، ان کی طاقت اور ہر شہری کی آواز ہے۔ جب تک آئین محفوظ ہے، ہر ہندوستانی کے حقوق محفوظ ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم آئین پر کسی قسم کا حملہ نہیں ہونے دیں گے۔ اس کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے اور اس پر ہونے والے ہر حملے کے سامنے سب سے پہلے کھڑا رہوں گا۔ آپ سب کو یوم دستو رکی نیک خواہشات۔ 
پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں اپنے خطاب میںنائب صدرجمہوریہ  اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ۲۰۱۵ء  سے ہر سال ۲۶؍نومبر کویوم آئین منایا جا رہا ہے، جو اب مادرِ وطن کے ہر شہری کے لیے ایک جشن بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی قائدین،بابا صاحب امبیڈکر، ڈاکٹر راجندر پرساد،  این گوپال سوامی اینگر،  علادی کرشن سوامی ایر،  درگا بائی دیشمکھ اور دیگر دوراندیش رہنماؤں نے آئین کو اس قدر عمیق انداز میں مرتب کیا کہ ہر صفحہ ملک کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین کو ہندستان کے چند بہترین رہنماؤں نے ڈرافٹ کیا، بحث کی اور اپنایا، جو لاکھوں   مجاہدین آزادی کی اجتماعی حکمت، قربانیوں اور خوابوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرافٹنگ کمیٹی   اور آئینی اسمبلی کے اراکین کی شراکت نے کروڑوں ہندوستانیوں کی امیدوں اور توقعات کو پورا کیا اور ہندستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پروان چڑھانے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین، جو عقل، عملی تجربات، قربانیوں اور امنگوں سے بنا ہے، نے یہ یقینی بنایا کہ ہندستان ہمیشہ متحد رہے۔ 
یومِ آئین کے موقع پر مرکزی وزیر کرن رجیجو نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستانی آئین کے بنیادی اصولوں عدل، آزادی، مساوات اور اخوت کے تئیں اپنے عزم کو مضبوط کریں۔انہوں نے سوشل میڈیا پر آئین سازوں کی بصیرت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہی اصول ہندوستان کی جمہوری شناخت کی اساس ہیں۔ یوم آئین کے موقع پر ۹؍ زبانوں میں آئین کے ترجمہ شدہ نسخے جاری کئے گئے۔ ساتھ ہی ایک یادگاری کتابچہ بھی پیش کیا گیا۔دریں اثنا، کانگریس نے تمام ریاستی یونٹس کو ہدایت دی تھی کہ وہ ۲۶؍ نومبر کو یومِ آئین بچاؤ کے طور پر منائیں، کیونکہ ملک کے جمہوری ادارے اور آئینی اقدار سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔  واضح رہے کہ ملک میں جگہ جگہ یوم آئین کی مناسبت سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جہاں آئین کی تمہید پڑھنے کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا ۔ اسکولوں میں خاص تقریبات منائی گئیں جبکہ سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے بھی خصوصی پروگرام منعقد کرکے آئین کی تمہید پڑھنے کا انتظام کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK