وزیراعظم کا معاشی پیکیج عوام کے ساتھ ظالما نہ مذاق

Updated: May 23, 2020, 4:00 AM IST | New Delhi

کورونا وائرس سے نمٹنے کی مرکز کی پالیسی پر اپوزیشن کی شدید تنقید، سونیا گاندھی نے آمرانہ طرز عمل کا الزام لگایا، بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن کے نفاذ پر تنقید کی اور کہا کہ اب حکومت کے پاس اس سے باہر نکلنے کی کوئی حکمت عملی بھی نہیں  ہے۔ ملک کے وفاقی ڈھانچے کو نظر انداز کرنے اور جمہوری نظام پر اعتماد نہ ہونے کا الزام۔

Meeting of opposition party leaders. Photo: PTI
اپوزیشن پارٹی کے لیڈران کی میٹنگ۔ تصویر: پی ٹی آئی

  کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کی مودی سرکار کی پالیسیوں  کو شدید تنقید کا نشانہ بناتےہوئے اپوزیشن نے جمعہ کو اپنی میٹنگ میں دوٹوک لہجے میں حکومت پر ملک کے وفاقی ڈھانچے کی روح کو بھلادینے اور آمرانہ طرز پر کام کرنے کا الزام لگایا۔ بلا سوچے سمجھے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن پر مودی سرکار کو آڑےہاتھوں لیتےہوئے سونیا گاندھی الزام لگایاکہ حکومت کو غریب مزدوروں  سے کوئی ہمدردی نہیں  ہے اور اس کے ’’۲۰؍ لاکھ کروڑ کے مالی پیکیج‘‘ کو ملک کے عوام کے ساتھ ظالمانہ مذاق قرار دیا۔ 
آمرانہ طرز حکمرانی پر تنقید
 وزیراعظم پر آمرانہ طرز حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے سخت لہجے میں  انہیں  یاد دلایا کہ ’’سارے اختیارات ایک ہی آفس،پی ایم او تک مرکوز نہیں  ہیں ۔‘‘ انہوں   نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جس اعتماد کے ساتھ کوروناسے لڑنے کیلئےلاک ڈاؤن نافذ کیا وہ اب ان کی کمزور پالیسی کی علامت بن گیا ہے اور اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ لاک ڈاؤن جلدی بازی میں اور بغیر سوچے سمجھ ےنافذ کیا گیا اور اب اس سے باہر آنے کی حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔
 ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کورونا، اس سے پیدا ہوئے حالات اور اقتصادی صورتحال جیسے کئی مسائل پر اپوزیشن کی ۲۲؍ پارٹیوں   کے لیڈروں  کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کانگریس سربراہ نے کہا کہ حکومت کوروناکی لڑائی میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ کوروناکے معاملے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اب ایسا لگاتا ہے کہ حکومت کے پاس لاک ڈاؤن کے پیرامیٹرز کے تعلق سے یقینی پالیسی نہیں تھی اور اب اس سے باہر نکلنے کی بھی اس کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے جسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کوروناکے علاج کا ٹیکہ بننے تک یہ وبا ہمارا پیچھا چھوڑنے والی نہیں ہے۔
 لاک ڈاؤن بلا سوچے سمجھے نافذ کیاگیا
 انہوں نے  کہاکہ ’’لاک ڈاؤن کے دو نشانے ہیں ۔ بیماری روکنا اور آنے والی بیماری سے لڑنے کی تیاری كرنا۔ لیکن آج انفیکشن بڑھ رہا ہے اورہم لاک ڈاؤن ہٹا رہے ہیں ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یکایک بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور اسی کی وجہ سے صحیح نتائج برآمد نہیں ہوسکے؟‘‘ انہوں نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدوروں کی حالت زار کے سلسلے میں بھی حکومت پر شدید حملہ کیا۔
اقتصادی محاذ پر حکومت پوری طرح ناکام
  سونیا گاندھی نے حکومت کو اقتصادی محاذ پر بھی پوری ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی پالیسیاں گمراہ کن ہیں اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے اس کے پاس موثر انتظامی طریقہ کار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے مودی نے۲۰؍ لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا جس کی تفصیلات وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مسلسل پانچ دن تک پیش کیں لیکن اس میں عام لوگوں کے لئے کچھ نہیں تھا اور یہ پیکج صرف ظالمانہ مذاق ہی ثابت ہوا ہے۔
 غریبوں اور کمزوروں سے حکومت کو کوئی ہمدردی نہیں 
  کانگریس صدر نے کہا کہ زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اس حکومت کے پاس مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ حکومت بہت غیر حساس ڈھنگ سے کام کر رہی ہے اور اس کے پاس غریبوں اور کمزور طبقے کے لوگوں کے تئیں کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت غریبوں کے تئیں بہت ہی بے رحم ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثر لاکھوں مہاجر مزدوروں کی حالت زار کو دیکھ رہی ہے لیکن ان کے محفوظ اور عزت دارانہ طریقے سے گھر پہنچانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر وفاقی ڈھانچہ توڑنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت اپنے جمہوری ہونے کا دعوی کر رہی ہے جبکہ وہ مکمل طور پر وزیر اعظم کے دفتر کے اشاروں پر چل رہی ہے۔ حکومت کی ساری طاقت وزیر اعظم کے دفتر تک محدود ہو گئی ہیں ۔
میٹنگ میں کون کون شریک تھا؟ 
 میٹنگ میں سونیاگاندھی اور راہل گاندھی کے علاوہ اے کے انٹونی، غلام نبی آزاد، ادھیر رنجن چودھری، ملکارجن كھڑگے، کے سی وینو گوپال ،احمد پٹیل سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوےگوڑا،وزیر اعلی ممتا بنرجی، ڈیریک اوبرائن، شرد پوار ، پرفل پٹیل، مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے ،سنجے راؤت، ایم کے اسٹالن، سیتا رام یچوری، وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، ڈی راجہ بدالدین اجمل اور اوپیندر کشواہا شریک تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK