پرینکا کے نعرے ’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ سے کانگریس کے یوپی مشن کا آغاز

Updated: October 20, 2021, 8:11 AM IST | Lucknow

اُترپردیش میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے پر زور، ۴۰؍ فیصد ٹکٹ دینے کا اعلان،کانگریس نے ۴۰۳؍ میں سے ۱۶۱؍ سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا، پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس کی لڑائی الیکشن میں کسی خاص پارٹی سے نہیں بلکہ ایک نئے طریقے کی سیاست کا راستہ ہموار کرنے کیلئے ہے، کانگریس لیڈر نے کہا کہ میرا عزم اُن تمام کی آواز بننا ہے جو اپنی آواز نہیں اُٹھا پارہے ہیں

Congress General Secretary Priyanka Gandhi addressing the media.
میڈیا سے خطاب کرتی ہوئیں کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کے نئے نعرے ’لڑکی ہوں، لڑسکتی ہوں‘ کے ساتھ کانگریس نے یوپی مشن کا آغاز کردیا ہے۔ کانگریس نے اس مرتبہ اترپردیش اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کا وعدہ کیا۔ اس کے تحت اس نے ۴۰؍ فیصد سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دینے کااعلان کرتے ہوئے ۴۰۳؍  میں سے ۱۶۱؍ سیٹوں پر خواتین امیدوار اُتارنے کی بات کہی۔    
 پرینکا گاندھی نے منگل کو پارٹی کے ریاستی دفتر پر پریس کانفرنس میں کہا کہ اترپردیش کی سیاست میں خواتین کی شراکت داری بڑھانے اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے کانگریس نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ریاست کی ہر اُس خاتون کیلئے ہے  جو تبدیلی چاہتی ہے انصاف چاہتی ہے اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب اس میں یکسانیت اور سماجی سیکوریٹی کا احساس پیدا ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی لڑائی انتخاب میں کسی خاص پارٹی سے نہیں بلکہ ایک نئے طریقے کی سیاست کو بنانے کیلئے ہے۔ وہ ان کے لئے لڑرہی ہے جو اپنی آواز نہیں اٹھا پارہے ہیں۔ وہ چاہئے دلت  ہو یا خواتین ایسی اٹھنے والی ہرآواز کو یہاں کچلا جاتا ہے۔
 پرینکا گاندھی نے خواتین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ خواہ ٹیچر ہوں، سماجی کارکن ہوں، نوجوان کاروباری ہوں یا کامیاب گھریلو خاتون، اگر آپ تبدیلی چاہتی ہیں تو انتظار مت کیجئے۔ آپ کو سیکوریٹی کہیں سے ملنے والی نہیں ہے۔ اس ریاست میں تحفظ ان کا کیا جاتا ہے جو کچلنا جانتے ہیں۔ یہاں اقتدار کے نام پر کھلے عام نفرت کا بول بالا ہے۔ خود کو بااختیار بنانے ہی سے آپ ان کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ خواتین کو ایک گیس سلنڈر دے کر خوش کردے ۔ اس کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ ایسا تب تک چلتا رہے گا جب تک خواتین میں یکتا نہیں ہوگی۔ ذات، مذہب میں تقسیم ہوکر خود کو کمزور مت کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مہینے کی۱۵؍تاریخ تک امیدواروں کیلئے درخواست دینے کا راستہ کھلا ہے۔ان کی اپیل ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں خواتین درخواست دیں ۔وہ خود ان درخواستوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گی۔
 خود کے الیکشن لڑنے کے سوال پر پرینکا نے کہا کہ اس بارے میں وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گی اور اس کی باضابطہ اطلاع دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کے چہرے کے ساتھ انتخابی میدان میں اُترنے کے سوال پر بھی انہوں نے کہا کہ پارٹی اس بارے میں غور کرے گی۔کانگریس جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ان کے آج کے فیصلے سے خواتین کی شراکت داری اترپردیش میں بڑھے گی۔ آج اقتدار کے نام پر سیاست میں نفرت کا بول بالا ہے۔ خواتین میں ہمدردی کا جذبہ ہوتا ہے ان میں ثابت قدمی بھی ہوتی ہے اور وہ اہم فیصلے آسانی سے کر سکتی ہے۔
  گزشتہ دنوں لکھیم پور کھیری جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے قافلے کو سیتا پور میں نصف شب گھیر لیا گیا۔ اندھیری رات میں مجھے دو خواتین کانسٹیبل مدھو اور پوجا کے ساتھ پی اے سی کیمپ لے جایا گیا۔ ان کی صبح ۴؍ بجے تک ڈیوٹی ٹھی۔ وہاں ایک خاتون افسر بھی تھیں جس کی بیمار ماں نوئیڈا میں اکیلے رہتی ہے، ایسے میں سمجھا جا سکتا ہے کہ سماج کے تئیں فرائض کی ادائیگی میں خواتین پیچھے نہیں ہیں۔ برابری اور شراکت داری کی سیاست کیلئے خواتین کو آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خواتین ذات، مذہب سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کے جدوجہد کا ساتھ دیں، یہ جذبہ انہیں قیادت کے قابل بنائے گا۔ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں ۴۰؍ فیصد ٹکٹ کے ساتھ پارٹی یہ آغاز کررہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اگلے انتخابات میںیہ۵۰؍فیصدی ہوجائے۔پنجاب  الیکشن میں خواتین کو ٹکٹ دینےکے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اترپردیش کی انچارج ہیں۔ اس لئے یہاں سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار ان کے پاس ہے۔  اترپردیش میں پارٹی کے ذریعہ کی گئی یہ پہل پنجاب کیلئے مثال بن سکتی ہے۔
 گھرپریوار کی خواتین کے نام پر انتخاب میں مردوں کی شراکت داری کے سوال پر انہوں نے کہا کہ بیوی اوربیٹی کو انتخاب لڑانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ یہ ایک عمل کاآغاز ہے۔ امیدوار اگر اس بار مضبوط نہیں ہوںگی تو اگلی دفعہ مضبوط ہوں گی۔خواتین کو ٹکٹ ان کی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر دیا جائے گا جیسے کہ فلاں اسمبلی میں فلاں خاتون کو کتنے لوگ جانتے ہیں اور وہ کتنی مقبول ہیں؟
 ایک سوال کے جواب میں پرینکا گاندھی نے بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مخالفین کو اب اپنی تخلیقی صلاحیتوں میں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ ان کے دورے کو سیاستی سیاست بولتے ہیں، انہیں اب مجھے گھیرنے کیلئے نئے لفظوں اور نئے طریقوں کا اضافہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس واحد پارٹی ہے جو سڑک پر اُتر کر حکومت کی مخالفت کررہی ہے۔ گزشتہ تین مہینوں میں پارٹی  کے۱۸۰۰؍سے زیادہ کارکنان جیل گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK