امریکہ میں فلسطین کی حمایت میں احتجاج اسرائیل کی امداد بندکرنےکا مطالبہ اسرائیل کی مخالفت کا اعلان

Updated: June 01, 2021, 7:22 AM IST | washington

— امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایک روز قبل فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے ایک زبردست ریلی نکالی گئی جس میں مظاہرین نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا

Washington`s support for Palestine and its opposition to Israel are unbelievable.Picture:PTI
واشنگٹن میں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت ناقابل یقین ہے تصویرپی ٹی آئی

 — امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں  ایک روز قبل  فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے ایک زبردست ریلی نکالی گئی جس میں مظاہرین نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔لنکن میموریل کے احاطے میں لگ بھگ ایک ہزار سے زائد مظاہرین جمع ہوئے جنہوں نے فلسطین کے پرچم اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے۔ ریلی کا اہتمام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان غزہ میں ۱۱؍ روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد سیز فائر ہوا تھا۔
 اطلاع کے مطابق ریلی میں شریک ایک وکیل شریف سلمی نے کہا کہ ’’ہم آج امریکی حکومت کو یہ واضح پیغام دینے کیلئے جمع ہوئے ہیں کہ اسرائیل کو کسی نتائج کا سامنا کئے بغیر امداد دینے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔‘‘مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم ہم ہر اس سیاستداں کی مخالفت کریں گے جو اسرائیل کو ہتھیار دینے کی حمایت کرے گا۔ ہم اس کے خلاف ووٹ دیں گے، ہم ایسے سیاستداں کے مخالف کو فنڈ دیں گے حتیٰ کہ ہم اُنہیں عہدے سے ہٹا نہیں دیتے۔‘‘ورجینیا سے آئی ایک فلسطینی نژاد امریکی خاتون لاما الحمد کا کہنا تھا کہ امریکہ میں رائے عامہ اب فلسطین کاز کے حق میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ   امریکہ میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے کہ لوگ فلسطینیوں کیلئے آزاد اور خود مختار ملک کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘الحمد کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم انسان ہیں، ہمیں دہشت گرد نہ سمجھا جائے۔‘‘شریف سلمی کا کہنا تھا کہ امریکہ میں اب اسرائیل کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ امریکی اب سمجھتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہا ہے جو ایک وقت میں جنوبی افریقہ میں رنگ اور نسل کی بنیاد پر ہوتا تھا۔
 اُن کا کہنا تھا کہ ’’لوگ اب جاگ چکے ہیں اور مزاحمت کر رہے ہیں، چاہے وہ نوجوان یہودی ہوں یا مسلمان، یا وہ نوجوان گورے یا سیاہ فام ہوں یہ ایک نئی نسل ہے جو نسلی امتیاز، رنگ اور نسل سے ہٹ کر فلسطینیوں کی آزادی اور حقوق کی حمایت کر رہی ہے۔‘‘ خیال رہے کہ۱۱؍ روز تک جاری رہنے والی اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں غزہ میں اسرائیل نے بمباری کی تھی جبکہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں نے اسرائیل کی طرف چار ہزار سے زائد راکٹ برسائے تھے۔اس لڑائی میں ۲۵۰؍سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت فلسطینیوں کی تھی۔لڑائی کو روکنے کیلئے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ اسرائیل کو اقوام متحدہ اور کئی ممالک کی طرف سے حالیہ دنوں میں غزہ میں بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی جانوں کے زیاں پر کڑی تنقید کا سامناکرنا پڑا ہے۔
  اس دوران  امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے کئی مظاہروں میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں جان و مال کے نقصان کے خلاف آواز بلند کی۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیرِاعظم  نیتن یاہو نے بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کیا کہ   انہیں حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کے جواب میں اپنے ملک اور لوگوں کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ میں حقوق انسانی  کونسل  نےاسرائیل کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے جس کی رو سے  جلد ہی ایک کمیشن تشکیل دے کر اس حملے کے دوران  ہونےوالے جنگی جرائم کی تفتیش کی جائے گی۔یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جو اقوام متحدہ کے رویے میں آئی ہے۔ کیونکہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کے کسی ادارے نے کوئی قرار داد منظور کی ہو۔ اس کی ایک اہم وجہ دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف ہونے والا احتجاج ہے

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK