اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں اور سماجی رضاکاروں کی سخت مخالفت۔ اس اقدام کوطبی خدمات کوبیچنےکے مترادف قرار دیا۔ کہا : اس سے غریب مریضوں کو دقتیں آئیں گی۔
EPAPER
Updated: April 25, 2026, 2:44 PM IST | Saadat Khan | New Delhi
اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں اور سماجی رضاکاروں کی سخت مخالفت۔ اس اقدام کوطبی خدمات کوبیچنےکے مترادف قرار دیا۔ کہا : اس سے غریب مریضوں کو دقتیں آئیں گی۔
بی ایم سی اپنے اسپتالوں میں نجی ڈائیگنوسٹک سینٹروں کو خدمات پیش کرنے کیلئے جگہ فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس تعلق سے محکمہ صحت نے متعلقہ کمیٹی کو ایک تجویز بھی پیش کی ہے جس میں تشخیصی خدمات جیسے سونو گرافی، میموگرافی، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ڈائیلاسیس اور پیتھالوجی سمیت دیگر طبی جانچ کیلئے نجی اداروں کو ۱۰؍ سے ۳۰؍سال کے عرصے کیلئے جگہ فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان طبی جانچ کی فیس بی ایم سی متعین کرے گی۔
بی ایم سی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کےنام پر پرائیویٹ فرموں کو میونسپل اسپتالوں میں جگہ دینے کیلئے یہ جواز پیش کررہی ہے کہ بوریولی کے ۲۰؍لاکھ باشندوں کیلئے بھگوتی اسپتال میں موجود تشخیصی خدمات ناکافی ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے مریضوں کوکاندیولی کے شتابدی اسپتال بھیجا جاتا ہے ا س لئے بھگوتی اسپتال کے قریب پنجابی لین میں دو منزلہ بی ایم سی عمارت کوپی پی پی ماڈل کے تحت ڈائیلاسیس، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور لیباریٹری ٹیسٹ کیلئے کرسنا ڈائیگنوسٹک لمیٹڈ کو ۲ء۰۵؍کروڑروپے سالانہ کے حساب سے حوالے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس کمپنی کو بی ایم سی کے دیگر اسپتالوں مثلاً ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر(کاندیولی)، بھابھا (باندرہ)، بھگوتی (بوریولی) اور ایم ٹی اگروال اسپتال (ملنڈ) وغیرہ میں بھی جگہ فراہم کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح، اپیکس کڈنی کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ کو ۱۰؍ سال کیلئے ڈائیلاسس خدمات فراہم کرنے کیلئے مختلف اسپتالوں میں جگہ دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: لاپرواٹھیکہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ
شہری انتظامیہ کی اس تجویز کی اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی کے مطابق ’’ بی ایم سی دھیرے دھیرے اپنے اسپتالوں کی نجکاری کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر اسی طرح بی ایم سی کی قیمتی اراضی نجی اداروں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی تو بی ایم سی کے پاس جگہ نہیں بچے گی۔ جب بی ایم سی بھگوتی اسپتال میں نئی عمارت تعمیر کرنے پر ۱۲۰۰؍ کروڑ روپے خرچ کرسکتی ہے تو طبی جانچ کی سہولیات کا انتظام خود کیوں نہیں کرسکتی ؟ صحت کے شعبے میں پی پی پی ماڈل ناقص ہے اور اس کے برے نتائج برآمد ہوں گے جس سے عام مریضوں کا بڑانقصان ہو گا۔ یہ صحت عامہ کے شعبے کے مستقبل کیلئے اچھا نہیں ہے۔ ‘‘
صحت عامہ کمیٹی کے چیئرپرسن ہریش بندیرگے نے کہا کہ ’’میں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کام کر رہا ہوں کہ بی ایم سی اپنے اسپتالوں میں اپنی خدمات فراہم کرے۔ میں سرکاری اسپتالوں میں نجی تنظیموں کی طرف سے فراہم کی جانے والی تمام خدمات کا جائزہ لوں گا۔ ‘‘
اس بارے میں میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی نے کہا کہ ’’اگر نجی مراکز کو بی ایم سی کی فیس پر خدمات پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تویہ فیصلہ مریضوں کی سہولت کیلئے ٹھیک ہے لیکن نجی ادارے اگر اپنے طور پر بی ایم سی کی فیس سے زیادہ چارج کرتے ہیں تو غریب مریضوں کیلئے یہ نقصاندہ ہے۔ ‘‘
سماجی رضاکار روی دُوگل نے شہری انتظامیہ کے اس اقدام کو صحت عامہ کی خدمات کو بیچنے والا قرار دیا۔ بی ایم سی یہ خدمات کیوں فراہم نہیں کر سکتیں ؟ منافع سے چلنے والے نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری کر کےبی ایم سی سرکاری اسپتالوں کو بھی غریبوں کیلئے ناقابل رسائی بنا رہی ہے۔ ‘‘