Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلی مورچہ میں شریک وزراء اور لیڈروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

Updated: April 25, 2026, 2:49 PM IST | Mumbai

ممبئی کانگریس کے ترجمان اور میڈیا کوآرڈینیٹر سریش چندر راج ہنس نے جمعہ کو مطالبہ کیا ہےکہ ورلی میں نکالے گئے جن آکروش مورچہ میں نہ صرف منتظمین بلکہ اس میں شریک وزراء اور لیڈروں کے خلاف بھی کیس درج کیاجانا چاہئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ممبئی کانگریس کے ترجمان اور میڈیا کوآرڈینیٹر سریش چندر راج ہنس نے جمعہ کو مطالبہ کیا ہےکہ ورلی میں نکالے گئے جن آکروش مورچہ میں نہ صرف منتظمین بلکہ اس میں شریک وزراء اور لیڈروں کے خلاف بھی کیس درج کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور حامیوں کے ذریعے ریلی کے سبب ٹریفک جام کے خلاف آواز بلند کرنے والی خاتون کو بدنام کرنے اور ا س پر تنقید کرنے سے متعلق بی جےپی سے سوال کیا کہ کیا خواتین کے تئیں بی جے پی کا یہی رویہ ہے؟
واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے خواتین کو۳۳؍ فیصد ریزرویشن دینے کی آڑ میں انتخابی حلقہ کی نئی حد بندی کا بل گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے خصوصی میں پیش کیا گیا تھا۔ بی جے پی اکثریت نہ ہونے کےباوجود اس بل کو پیش کرنے کےبعد جب یہ نامنظور ہو گیا تو اس کا الزام کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں پر لگایا گیا تھا اور انہیں خواتین ریزرویشن بل کا مخالف قرار دیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں ۲۱؍ اپریل کو بی جےپی کی جانب سے ورلی میں جن آکروش ریلی نکالی گئی تھی جس سے علاقے میں ٹریفک جام ہو گیا تھا اور مقامی افرادکو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ اسی ٹریفک جام میں پھنسی ایک خاتون نے ریلی میں شریک ہونےو الے افراد بشمول کابینی وزیرپر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا تھا جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔ بی جے پی کی اس ریلی پر تنقید کا نشانہ بننے کے بعد مورچہ کے منتظمین کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: بی جے پی لیڈر سے تکرار کرنے والی خاتون کے خلاف شکایت درج

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سریش چندر راج ہنس نے کہا کہ اگر آپ مارچ یا احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو پولیس سے اجازت لینی ہوگی۔ ۸، ۸؍ دن پہلے خط بھیجنے کے بعد بھی پولیس اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کو جلد اجازت نہیں دیتی۔ اگر اجازت دی جائے تو کئی شرائط لگائی جاتی ہیں لیکن بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے اس مارچ کو ۲؍دن کے اندر اجازت دے دی گئی۔ حکمراں پارٹیوں کیلئے الگ اور اپوزیشن پارٹیوں کیلئے الگ اصولوں کا رویہ پولیس انتظامیہ میں دیکھا جا رہا ہے، جو بہت خطرناک ہے۔ اس سے قبل جب کانگریس نے احتجاج کیا تھا تو منتظمین اور اس میں شریک لیڈران کے خلاف بھی مقدمات درج کئےگئے تھے تو ورلی مورچہ کے معاملے میں صرف منتظمین ہی کیوں ؟ اس میں حصہ لینے والے وزراء اور ایم ایل اے کے خلاف مقدمات کیوں درج نہیں کئے جاتے؟ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پولیس کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے اور سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ 
یاد رہے کہ ورلی میں بی جے پی کے مورچہ کی وجہ سے ۲؍گھنٹے سے زیادہ ٹریفک جام رہا اور ٹریفک کو ہموار کرنے کے بجائے پولیس فورس وزراء کے گرد گھومتی رہی۔ ایک خاتون نے مارچ میں شریک وزیر گریش مہاجن پراپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ اس خاتون کی برہمی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھی جا رہی ہیں۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل اور بی جے پی کے حامی اس خاتون کو بدنام کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اپوزیشن نے اسے بی جے پی کا دوغلا پن کہاہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK