مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ عبوری اجازت کیلئے مسودہ تیار کررہا ہے لیکن اسے حکومت کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:20 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ عبوری اجازت کیلئے مسودہ تیار کررہا ہے لیکن اسے حکومت کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
ایل پی جی (لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس) کی کمی کے پیش نظر مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کمرشیل زمرے میں لکڑی، کوئلہ اور کیروسین جیسے متبادل ایندھن استعمال کرنے کی اجازت دینے کیلئے مسودہ تیار کررہا ہے۔ تاہم حکومت کی منظوری سے ہی اس پر عمل ہوسکے گا۔ ملک میں ایل پی جی کی قلت کے پیش نظر مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ نے آلودگی پر قابو پانے کیلئے تشکیل دی گئی تمام ریاستی اتھاریٹی کو ۱۲؍ مارچ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تمام صنعتوں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ کو عارضی طور پر متبادل ایندھن استعمال کرنے کی اجازت دیں۔
مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ (ایم پی سی بی) کے چیئرمین سدّھیش کدم کے مطابق ان کا محکمہ اس تعلق سے تجویز کا مسودہ تیار کررہا ہے تاکہ تیزی سے اس پر عمل ہوسکے لیکن ریاستی حکومت سے منظوری ملنے کے بعد ہی اس تجویز پر عمل ہوسکے گا۔ اس دوران کئی ریسٹورنٹ وغیرہ میں پکانے کیلئے پہلے ہی لکڑی اور کوئلے وغیرہ کا استعمال شروع ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میراروڈ: غیر قانونی طریقے سے کچرا ڈالنے والے ڈرائیور کو پولیس کے حوالے کیا گیا
فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے لکڑی اور کوئلے جیسے ایندھن کو بیکریوں، ریسٹورنٹ اور دیگر مقامات پر استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال حال کو غیرمتوقع قرار دیتے ہوئے مرکزی بورڈ نے ریاستی اتھاریٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کی منظوری سے دیگر ایندھن کے استعمال کی عارضی اجازت دے سکتے ہیں۔ اس عبوری فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایل پی جی کی قلت سے پیدا صورتحال کی وجہ سے تاجروں کو نقصان نہ ہو۔
موجودہ حالات کے باوجود آلودگی کے خلاف کام کرنے والے سماجی رضاکار اور کیروسین جیسے ایندھن کے تاجر حکومت کے اس فیصلے کے حق میں نہیں ہیں۔ سماجی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بڑھتی گرمی اور فضائی آلودگی سے عوام پریشان ہیں اور متذکرہ ایندھن کے استعمال کی اجازت دینے سے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
کیروسین جیسے ایندھن کی تجارت کے ایک ڈیلر کے مطابق چند برس قبل پابندی عائد کئے جانے کی وجہ سے کیروسین محدود مقدار میں دستیاب رہتا ہے اس لئے اچانک بڑی مقدار میں کیروسین فراہم کرنا دشوار ہے۔