اورنگ آباد، نوادہ اورجہان آباد میں دھرنا اوراحتجاج

Updated: January 20, 2020, 2:01 PM IST | Inquilab News Network | Bihar

مختلف مقامات پر سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف غیر معینہ دھرنا اور احتجاج جاری ، تمام مذاہب کے ماننے والوں کی کثیر تعداد میں شرکت اورنگ آباد، نوادہ اور جہان آباد دھرنے میں ہندو مسلم اتحاد کے مظاہرہ کے ساتھ ساتھ اس سیاہ قانون کیخلاف متحد ہو کرتحریک جاری رکھنے کا عزم۔

اورنگ آباد، نوادہ اورجہان آباد میں دھرنا اوراحتجاج
نوادہ دھرنے کے شرکا ء ۔ تصویر: انقلاب

اورنگ آباد/ نوادہ /جہان آباد : بہار کے مختلف  اضلاع میں پر سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف غیر معینہ دھرنے ا ور احتجاج جار ی ہیں۔ ضلع اورنگ آباد میں مرکزی حکومت کی طرف سے نافذ کئےگئے سیاہ قانون کے خلاف اتوار کو دوسرے دن بھی دھرنا اور احتجاج جاری رہا ۔اتوار ہونے کی وجہ سے ضلع کے تمام وکلاء اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس دھرنے میں شامل  ہوئیں۔ سیاسی پارٹی کے لوگ بھی اس دھرنے  کاحصہ بنے اور کہا کہ مرکزی حکومت ہندوستان کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے جسے کسی صورت میںمعاف نہیں کیا جا سکتا۔مرکزی حکومت کے ناپاک ارادوں کی وجہ سے پورے ہندوستان کے لوگ جگہ جگہ دھرنا اور احتجاج کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لے گی ،  ہم بھی ایک انچ  پیچھے نہیں ہٹیں گے  ۔یہ ہندوستان سب کا ہے اور آئین کے مطابق سب لوگ اپنی زندگی یہاں گزر بسر کرتے ہیں۔ یہی اس ملک کی بے مثال جمہوریت کی نایاب مثال  ہے جس پر کسی بھی حال میں آنچ نہیں آنے دیں گے۔
  اسی دوران  نوادہ ضلع کے دریاہ شاہ با با کے نزدیک مرد و خواتین کا دھرنا  اتوار کو تیسرے روز بھی پورے آب و تاب کے ساتھ جا ری رہا۔ اس شدید سردی میں کھلے آسمان کے نیچے خواتین دھرنا پر بیٹھی ہیں۔ انہوںنے یہ عہد کر لیا ہے کہ جب تک موجودہ حکومت این آر سی، سی اے اے اور این پی آر جیسے ملک کو توڑنے والا قانون واپس نہیں لے گی، ہماری یہ تحریک جا ری گی۔ آج سے ۷۰ ؍سال قبل ملک کو آزاد کروانے میں ہمارے اجداد نے قربا نیاں پیش کی ہیں ۔ ہم بھی قربا نیاں پیش کر نے کے لئے تیار ہیں ۔ہم حکومت کے ہر چیلنج کو قبول کر نے کے لئے تیار ہیں ۔اس موقع پرمولانا جہا نگیر عالم مہجورا لقادری نے کہا کہ اس ملک کو فرقہ پرست طا قتیں با ٹنا چا ہتی ہے۔ آگ میں جھونکنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ مرکزی حکومت نے اپنی نا کا میوں کو چھپانے کے لئے این آر سی کا کھیل کھیلا ہے ،لیکن یہاں کے عوام آپسی اتحاد و یکجہتی کا ثبوت پیش کررہے ہیں ۔این آر سی جیسا سیاہ قانون لاکرمرکزی حکومت ملک کے عوام کو دھو کہ دینا چا ہتی ہے۔پروفسر الیاس حسین نے کہا کہ ہندوستان کے وہ غریب عوام اس کی زد میں آئیں گے جن کے پاس کاغذات نہیں ہیں۔ اگراس پر عمل ہو تا ہے تو ملک کے غریب عوام کو بہت  سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔مفتی عنا یت اللہ قاسمی   کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ مہاتماگاندھی کا نظریہ ہمیشہ گوڈسے پر بھاری رہا ہے۔ اس بار بھی گاندھی کا نظریہ حاوی رہے گا۔ اس موقع پر خواتین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں ساوتری دیوی اورریشما پروین    شامل ہیں۔
  جہان آباد ضلع میں بھی اتوار کو  سیاہ قانون سی اے اے ، این پی آر کیخلاف  غیر معینہ  دھرنا  دوسرے د ن بھی جاری رہا۔  سنویدھان بچاؤ مورچہ کے زیر اہتمام  منعقد ہ اس غیر معینہ دھرنا میں بلا تفریق ذات ومذہب  تمام طبقہ  اور مختلف نقطہ فکر کے لوگوں کیساتھ ساتھ ملی ،سیاسی و سماجی تنظیموں سے وابستہ  لیڈروںنے بھی  وہاںپہنچ کر تحریک کاروںکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی تحریک کی ہر سطح پر  حمایت  اور مکمل تعاون کااعلان کیا ۔ دھرنا کی حمایت میں جہان آباد پہنچے پسماندہ  محاذ کےلیڈ ر اور سابق رکن پارلیمنٹ   علی انور نے شہری قانون کی مخالفت کرتے ہوئے سی اے اے  اور این پی آر مخالف تحریک کی ہر سطح پر حمایت کااعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندکے نئے شہریت ترمیمی قانون کے تئیں عوام میں کس قدر ناراضگی اور غم وغصہ  ہے، اس کا  اندازہ  یہاں ہزاروںا فراد کی موجودگی سے بخوبی  لگایاجا سکتا ہے ۔ ترمیم شدہ شہریت قانون کی واپسی تک تحریک جاری رکھنے کے عزم کااظہار کرتے ہوئے  انہوں  نےکہاکہ جب تمام طبقہ اور مرد وخواتین تحریک میں شامل ہیں تو حکومت کو اس سیاہ قانون کو واپس لیناہی ہوگا ۔مولانا مظفر آفاق قاسمی نے اپنے خطاب میں مذہبی منافرت پر  شہریت ترمیمی قانون کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قانون  منافرت پر مبنی ہے جس کا واحد مقصد اقلیتوں ،دلتوں اور پسماندہ  طبقہ کے ساتھ امتیاز کر کےا نہیں دوئم درجہ کا شہری بنانا ہے۔
 مولانااظہر خان حبیبی نے کہا کہ ملک میں شہریت سے متعلق قانون  پہلے ہی سے  موجود ہے ۔ ایسے میں متنازع  قانون کے نفاذ کامقصد سیاسی مفاد کیلئے ملک کی پر امن فضاکو مکدرکرنا ہے ۔ غیر معینہ دھرنا کوپہلے دن قانون ساز اسمبلی کے سابق اسپیکر اودے نارائن چودھری ، ضلع مکھیا سنگھ کے صدر و پنجورا پنچایت کے مکھیاہری لال یادو  اور سی پی آئی ایم ایل  لیڈر رام بلی سنگھ وغیرہ نے بھی خطاب کرکےاس کی پرزورمذمت کی تھی ۔غیر معینہ دھرنا   میں ہندو مسلم اتحاد کے مظاہرہ کے ساتھ ساتھ  اس سیاہ قانون کیخلاف متحد ہو کرتحریک جاری رکھنے کے عزم کااظہار کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK