• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم کی خودکشی معاملے میں احتجاج

Updated: October 15, 2026, 1:15 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدرنیہابورا نے بھی حمایت کی، کہا: مہلوک ساحل کے والدین اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، طلبہ بھی ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑےہیں۔

Police are stopping protesters at IIT Bombay. Photo: PTI
آئی آئی ٹی بامبے پر احتجاج کرنے والوں کو پولیس روک رہی ہے۔ تصویر:پی ٹی آئی
پوائی ،  ( سعادت خان ): یہاں آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڈے کی خود کشی کےمعاملے میںامبیڈکروادی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ۔ اس   احتجاج کی آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا نے  سوشل میڈیا پر حمایت کی ہے ۔ واضح رہے کہ مہلوک کے والدین گزشتہ ۱۲؍  دن سے آزاد میدان پر بھوک ہڑتال کر ر ہے ہیں۔ 
  امبیڈکرحامی تنظیموں نے ’چلو آئی آئی ٹی‘ احتجاج کے ذریعے ساحل واکوڈے خودکشی کیس کی منصفانہ تحقیقات، مبینہ طورپرذات پات کی تفریق اور انتظامیہ کے کردار سے متعلق فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ اس کے علاوہ ساحل واکوڈے کے والد رویندر واکوڈے کی جدوجہد کی حمایت کیلئے بھی یہ احتجاج کیا گیاتھا۔نیہابورا نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پرپوسٹ بھی کی ہے۔ انہوں نے اس احتجاج کی حمایت کے حوالے سے سوشل میڈ یا کے ذریعے کہا ہےکہ ’’ساحل کے والدین اپنے بیٹے کے ادارہ جاتی قتل کے معاملے میں انصاف کیلئے جہدوجہدکر رہے ہیں۔آئی آئی ٹی بامبے کے طلبہ بھی ان سے یکجہتی کیلئے مضبوطی کے ساتھ کھڑےہیں۔ آپ بھی ان میں شامل ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ساحل آئی آئی ٹی بامبے میں انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے دوسرے سال کا طالب علم تھا۔ ساحل پر امتحانی ہال میں چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے جوابات حاصل کرنے کیلئے اپنے موبائل فون کا استعمال کرنے کا الزام تھا۔ اس کے بعد امتحانی ہال کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آیا۔ ساحل کے والد رویندر واکوڈے نے پروفیسر سوری نارائن دلا اور ڈائریکٹر پروفیسر شریش کیدارے پر ذات پات کی تفریق اور ذہنی ہراسانی کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ساحل کو ذات کی بنیاد پر ہراساں کیا گیاتھا اور اس کی موت کے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے۔ رویندر واکوڈے اور ان کی اہلیہ   انصاف کیلئے آزاد میدان میں غیر معینہ مدت بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK