سستے پین دستیاب ہونے کے باوجود ۴۱؍ روپے فی پین کے حساب سے اس کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ دیا گیا جسکی سیاہی پچھلے انتخابات میں ناقص پائی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 11:39 AM IST | Mumbai
سستے پین دستیاب ہونے کے باوجود ۴۱؍ روپے فی پین کے حساب سے اس کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ دیا گیا جسکی سیاہی پچھلے انتخابات میں ناقص پائی گئی تھی۔
ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے حال ہی میں شروع کی گئی پولیو ویکسی نیشن مہم کے نام پر کروڑوں روپے کی خریداری پر سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ ساتھ ہی گزشتہ انتخابات میں استعمال ہونے والا مارکر پین بھی دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے۔ کورس کمپنی سے خریدے گئے اس پین (قلم) کیلئے حکومت کے خزانے سے فی نگ۴۱؍ روپے قیمت ادا کی گئی ہے۔
اطلاع کے مطابق مقامی سطح پر یا مارکیٹ میں دیگر معروف کمپنیوں سے بہت سستے نرخوں پر مارکر پین دستیاب ہیں اورمحکمے کو انہیں خریدنے کے اختیار بھی موجود ہے۔ اس کے باوجو محکمہ صحت نے کورس کمپنی ہی کے پین خریدے جن کیلئے فی پین ۴۱ء۳۰؍ روپے ادا کئے گئے۔ یہ بات اہم اس لئے بھی ہےکہ گزشتہ انتخابات کے دوران اسی کورس کمپنی کے پین میں استعمال ہونے والی سیاہی ووٹروں کی انگلیوں پر لگانے کیلئے استعمال کی گئی تھی لیکن وہ سیاہی کچھ ہی دیر میں مٹ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ضوابط کی خلاف ورزی کی نشاندہی پر تمام بلڈبینکوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت
اس وقت اس پر کافی تنازع ہوا تھا۔ لہٰذا اب سیدھا سوال اٹھ رہا ہے کہ دوبارہ اسی کمپنی سے کروڑوں روپے کے قلم کس کے کہنے پر خریدے گئے؟ کیا اس میں کسی کے مفادات شامل ہیں ؟ گزشتہ چند انتخابات میں کئی پولنگ سٹیشنوں سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ ان کورس کمپنی کے قلم کی سیاہی انتہائی ناقص معیار کی ہے اور فوری طور پر مٹ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے سیاسی حلقوں اور انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی تھی۔
اطلاع کے مطابق محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اس بات کا جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں کہ ووٹنگ کے اہم ترین عمل میں جو قلم غیر معیاری پایا گیا وہی قلم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے جیسی انتہائی حساس قومی مہم میں زبردستی کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟ قوانین میں کہا گیا ہے کہ پولیو مہم کے دوران مارکر پین کی خریداری کیلئے ہر ضلع کو حکومت کی طرف سے علاحدہ فنڈ اور گرانٹ فراہم کی جاتی ہے۔ قواعد کے مطابق، ہر ضلع کو مقامی سطح پر مسابقتی کوٹیشن طلب کئے جانے چاہئے، اس کے بعد شفاف طریقے سے خریداری کرنی چاہئے۔ ایسی صورت میں مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں صرف ایک ہی سپلائر سے خریداری کیسے ہورہی ہے؟ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قلم کی قیمت گڈ چرولی سے ممبئی تک ہر جگہ ایک جیسی کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ضلع سطح کے عہدیداروں کو براہ راست اندرونی خفیہ ہدایات یا سینئر سطح سے غیر تحریری احکامات تو نہیں دیئے گئے تھے کہ سامان کہاں سے اور کس سے حاصل کیا جائے؟ اس تعلق سے امراوتی ضلع میں مہم کے انچارج ڈاکٹر پروین پارس کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسی نیشن مہم کیلئے فنڈ حکومت سے موصول ہوتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے مطلوبہ سامان معاہدے کے مطابق خریدا جاتا ہے۔ اسی عمل کے تحت مارکر پین مقامی سطح پر خریدے گئے ہیں۔