Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل کے تیورجارحانہ، مودی نشانہ، امیت شاہ کے استعفیٰ کی مانگ

Updated: July 30, 2026, 7:30 AM IST | New Delhi

پارلیمنٹ میں لفظ ’’ایڈیٹ‘‘ پر بی جےپی تلملا گئی، غیر پارلیمانی قرار دیکر کارروائی سے حذف کروایا، مگر تب تک راہل بہت کچھ کہہ چکے تھے

Opposition Leader Rahul Gandhi during his speech in the Lok Sabha on Wednesday. (Photo: PTI)
بدھ کو ،اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران ۔(تصویر: پی ٹی آئی )

 لوک سبھا میں  پیپر لیک (ترمیمی) بل  پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا تعلیمی نظام گہرے بحران سے دوچار ہے اور پیپر لیک کے مسلسل واقعات نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کا غصہ اور ان کا احتجاج مکمل طور پر جائز ہے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حالیہ طلبہ تحریک دراصل ملک کے نوجوانوں کے جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو اپنے مستقبل کے تحفظ کے  لئے سڑکوں پر آنا پڑا، جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ امتحانی نظام پر ان کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔
 راہل نے کہا کہ احتجاج میں شامل طلبہ اور طالبات سے گفتگو کے دوران انہیں نوجوانوں کی سوچ کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے انہیں بتایا کہ ایک حقیقی طالب علم وہ ہوتا ہے جو کھلے ذہن اور کھلے دل کے ساتھ علم حاصل کرتا ہے، یہ تسلیم کرتا ہے کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور ہر وقت نئے علم کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ ان کے مطابق عاجزی اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ ہی ایک طالب علم کی اصل پہچان ہے۔ اس دوران  راہل نے طلبہ کے حوالے سے کہا کہ انہی طلبہ نے مجھے بتایا کہ طالب علم کے علاوہ بھی ایک کیٹگری ہوتی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ اسے سب کچھ معلوم ہے، اسے سب آتا ہے۔ وہ ایڈیٹ (احمق) ہوتے ہیں۔ اس کے بعد راہل نے اندھ بھکتوں کو بھی ایک کیٹگری قرار دے کر شدید طنز کیا جس سے حکمراں محاذ تلملا اٹھا۔ اس تقریر کے دوران راہل کو کم از کم ۱۸؍ مرتبہ ٹوکا گیا۔ ۱۱؍ مرتبہ اسپیکر اوم برلا کی جانب سے جبکہ ۷؍ مرتبہ مرکزی وزیر کرن رجیجو کی جانب سے راہل کو ٹوکا گیا۔ اس سے راہل گاندھی کافی ناراض نظر آئے۔ 
  راہل گاندھی نے تعلیمی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب تعلیم کا دائرہ مسلسل نجی اداروں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بھاری مالی ذمہ داری اٹھانے کے باوجود طلبہ کو شفاف اور محفوظ امتحانی نظام میسر نہیں آرہا۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور اس پر آر ایس ایس کا قبضہ ہو گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK