پرلہاد جوشی کے خلاف بیان دینے کے بعد پرینکا نے وہ ثبوت بھی پیش کردئیے جس کی بنیاد پر انہوں نے الزام لگایا تھا۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 11:47 AM IST | New Delhi
پرلہاد جوشی کے خلاف بیان دینے کے بعد پرینکا نے وہ ثبوت بھی پیش کردئیے جس کی بنیاد پر انہوں نے الزام لگایا تھا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے نئے مرکزی وزیر تعلیم پرلہاد جوشی سے متعلق اپنے بیان پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔ پرینکا گاندھی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان میں کوئی غیر پارلیمانی بات نہیں کہی بلکہ صرف سچ بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سچ بولنے کی وجہ سے انہیں سزا بھی دی جاتی ہے تو بھی وہ عوام کے مسائل پر اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کے بیان کو کارروائی سے حذف کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف ایک مخصوص واقعے کا نہیں بلکہ خواتین کے تئیں ذہنیت اور رویے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پرینکا نے بتایا کہ انہوں نے اسپیکر کو وہ ثبوت پیش کردئیے ہیں جس کا حوالہ انہوں نے اپنے بیان میں دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بھوپال میں کسان سڑک پر خیمہ زن
اسی دوران پرینکا گاندھی نے منگلور کے ایک پب میں خواتین پر حملے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس مقدمے سے وابستہ شخص کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں کس نے شامل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعد میں اسے پارٹی سے نکال دیا گیا لیکن اس کی بی جے پی میں شمولیت کی تصاویر آج بھی موجود ہیں۔ پرینکا گاندھی نے زور دے کر کہا کہ خواتین کے احترام اور تحفظ سے متعلق سوال اٹھانا ہر عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہے اور وہ آئندہ بھی ایسے معاملات پر بے خوف ہو کر بولتی رہیں گی۔ واضح رہے کہ پرینکا گاندھی نے گزشتہ روز ایوان میںپیپر لیک ترمیمی بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے پرلہاد جوشی پر طنز کیا تھا کہ مودی حکومت نے ایسے شخص وزیر تعلیم بنادیا جس نے بلقیس بانو عصمت دری کے مجرموں کی رہائی کی حمایت کی تھی۔