۲۰؍ جولائی کو اس خطرناک گن کا استعمال کیا گیا جس کا ثبوت طالب علم ساحل ہے۔ راہل ساحل کو لے کر پریس کانفرنس میں آئے تھے۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 9:17 AM IST | New Delhi
۲۰؍ جولائی کو اس خطرناک گن کا استعمال کیا گیا جس کا ثبوت طالب علم ساحل ہے۔ راہل ساحل کو لے کر پریس کانفرنس میں آئے تھے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پیپر لیک معاملے پر احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے۱۹؍ سالہ طالب علم ساحل کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر طلبہ کے خلاف تشدد کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی میں ۲۰؍ جولائی کو ہونے والے پرامن احتجاج کے دوران ساحل کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس کی ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے زخمی طالب علم کی ٹی شرٹ اٹھا کر اس کی کمر اور کندھوں پر موجود زخم بھی میڈیا کو دکھائے اور کہا’’’یہی ہوتی ہے پیلٹ گن۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا گیا، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ساحل کےچہرے پر پیلٹ گن سے حملہ کیا گیا، جس کے باعث اس کی آنکھ خراب ہو گئی ہے اوراسے دکھائی دینا بند ہو گیا ہے۔ کئی نوجوانوں کو شدید چوٹیں بھی آئی ہیں۔ میں یقین کے ساتھ یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس نوجوان کی آنکھ کی بینائی محفوظ رہ پائے گی یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ساحل دہلی یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور اپنے خاندان کی مالی معاونت کے لئے جز وقتی طور پر گاڑی بھی چلاتا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق ساحل بھی پیپر لیک کے متاثرین میں شامل ہے۔ وہ ۲۰۲۵ء کے ایس ایس سی دہلی کانسٹیبل امتحان کے مبینہ پیپر لیک سے متاثر ہوا تھا اور اسے خدشہ ہے کہ امتحان کے انعقاد کے لئے ایک مرتبہ پھر اسی ایجنسی کو ذمہ داری دی گئی ہے جس کے باعث پیپر لیک ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق ساحل سمیت ہزاروں طلبہ اپنے بہتر مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور انصاف کے مطالبے کیلئے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کر رہے تھے لیکن انہیں طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر نہ صرف پیلٹ گن چلائی گئی بلکہ ان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔کانگریس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ طلبہ کی جائز تشویش کو پیش کرنے اور حکومت سے جوابدہی طلب کرنے پر طلبہ کیخلاف کارروائی ناقابل قبول ہے۔ کانگریس نے کہا کہ وہ ساحل اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے تمام طلبہ کے ساتھ ہے اور ان کے ہر مطالبہ کی حمایت کرتی ہے۔