Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈی یو: طلبہ کو احتجاج سے دور رہنے کی ہدایت پر راہل گاندھی، پوجا بھٹ کی سخت تنقید

Updated: July 24, 2026, 7:14 PM IST | Mumbai

دہلی یونیورسٹی (DU) کی جانب سے طلبہ کو جنتر منتر پر جاری NEET احتجاج سے دور رہنے کی ہدایت جاری کیے جانے کے بعد سیاسی اور فلمی حلقوں میں ردعمل سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے یونیورسٹی پر طلبہ کو دھمکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جمہوری حقِ احتجاج کو دبایا نہیں جا سکتا، جبکہ اداکارہ پوجا بھٹ نے بھی مشاورتی ہدایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے۔

Rahul Gandhi and Pooja Bhatt. Photo: INN
راہل گاندھی اور پوجا بھٹ۔ تصویر: آئی این این

دہلی یونیورسٹی (DU) کی جانب سے طلبہ کو جنتر منتر میں جاری نیٹ (NEET) احتجاج سے دور رہنے کی ہدایت جاری کیے جانے کے بعد اس معاملے نے سیاسی اور سماجی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور بالی ووڈ اداکارہ پوجا بھٹ نے یونیورسٹی کے اس اقدام پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے طلبہ کی آزادیٔ اظہار اور جمہوری حقوق کے خلاف قرار دیا۔ راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ طلبہ کو دھمکائیں؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو پرامن احتجاج سے روکنا یا انہیں تادیبی کارروائی کے خدشات سے ڈرانا ایک تعلیمی ادارے کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کے جمہوری حق کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور تعلیمی اداروں کو اختلافِ رائے دبانے کے بجائے طلبہ کی آواز سننی چاہیے۔ 
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ اگر طلبہ اپنے مستقبل اور امتحانی نظام سے متعلق خدشات کے اظہار کے لیے پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق جامعات کا کردار طلبہ کی رہنمائی کرنا ہے، نہ کہ انہیں احتجاج سے روکنے کے لیے دھمکی آمیز ہدایات جاری کرنا۔ 

یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی

پوجا بھٹ کا ردِعمل
ادھر اداکارہ پوجا بھٹ نے بھی دہلی یونیورسٹی کی ایڈوائزری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’آوازوں کو سنا جانا چاہیے، خاموش نہیں کرایا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ نوجوانوں کے سوالات اور خدشات کو دبانے کے بجائے ان سے مکالمہ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خاموشی اختیار کرنا یا دوسروں کو خاموش کرانے کی کوشش کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ پوجا بھٹ نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کو ایسے ماحول کو فروغ دینا چاہیے جہاں طلبہ بلا خوف اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرامن احتجاج اور اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں، اس لیے نوجوانوں کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سننا اور سمجھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ کے باہر این ڈی اے اور انڈیا اتحاد آمنے سامنے

دوسری جانب دہلی یونیورسٹی کی جانب سے جاری مشاورتی ہدایت میں طلبہ کو جنتر منتر اور دیگر احتجاجی مقامات سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا اور خبردار کیا گیا تھا کہ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی یا تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یونیورسٹی نے اس اقدام کو طلبہ کی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال سے جوڑا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے طلبہ کی آزادیٔ اظہار متاثر ہوتی ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب NEET کے مبینہ پرچہ لیک کے معاملے پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے، حکومت امتحانی اصلاحات اور نئے قانون سازی کے وعدے کر رہی ہے، جبکہ احتجاجی طلبہ اور ان کی حمایت کرنے والی شخصیات بدستور جوابدہی اور مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK